طائع للہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


طائع للہ
مناصب
خلیفہ خلافت عباسیہ (بغداد)   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
4 اگست 974  – 30 اکتوبر 991 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مطیع للہ 
القادر باللہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 932  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 3 اگست 1003 (70–71 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد مطیع للہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان خلیفہ خلافت عباسیہ (بغداد)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر

طائع للہ (پیدائش: 932ء — وفات: 3 اگست 1003ء) چوبیسواں عباسی خلیفہ (بغداد) ہے جس نے 974ء سے 991ء تک حکومت کی۔طائع للہ کو خلافت عباسیہ کے کمزور ترین خلفاء میں شمار کیا جاتا ہے۔

سوانح[ترمیم]

نام و نسب[ترمیم]

نام عبدالکریم، کنیت ابوالفضل تھی۔ نسب یوں ہے:

والدہ[ترمیم]

  • والدہ کا نام ’’ہزار‘‘ تھا مگر خطیب بغدادی (صاحب تاریخ بغداد) نے طائع کی والدہ کا نام ’’ عتب‘‘ لکھا ہے۔ طائع کی والدہ اُس کی خلافت کے زمانے کے بعد تک بقید حیات تھی۔[1]

پیدائش[ترمیم]

طائع کی پیدائش بغداد میں 320ھ مطابق 932ء میں ہوئی۔ طائع کے والد المطیع للہ تھے ۔ طائع کی پیدائش خلیفہ عباسی القاہر باللہ کے دورِ حکومت میں ہوئی تھی۔

عہد حکومت[ترمیم]

المطیع للہ پر جب فالج کا حملہ ہوا تو وہ علیل ہو گیا تھا۔ دورانِ علالت امیر سبکتگین کے مشورے پر دستبرداری ظاہر کرتے ہوئے اپنے بیٹے طائع کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا۔ بروز منگل 13 ذیقعد 363ھ مطابق 4 اگست 974ء کو اُس کے نام کی بیعت لی گئی اور وہ تخت نشین ہوا۔ طائع نے خلیفہ ہونے کے دوسرے دن رِدائے خلافت زیب تن کی اور شاہانہ جلوس نکالا اور امیر سبکتگین کو خلعت و پرچم اور نصرالدولہ کا خطاب عنایت کیا۔ امیر سبکتگین ہمیشہ خلیفہ کے سامنے حاضر رہا کرتا اور ساتھ جلوس میں آگے آگے چلا کرتا تھا۔[2][3] مؤرخ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ: ’’بوقتِ خلافت اُس کی عمر 43 سال تھی اور اِس کے ماسواء اِس سے پہلے کوئی بھی خلیفہ ایسا نہیں گزرا تھا جس کا نام عبدالکریم ہو اور ایسا بھی کوئی نہیں گزرا تھا کہ اُس کی خلافت کے وقت اُس کا باپ بھی زِندہ ہو۔ بنوعباس میں اِس سے بڑھ کر دوسرا کوئی معمر بھی نہیں گزرا کیونکہ خلیفہ بنتے وقت اُس کی عمر 43 سال کی تھی، اُس کی والدہ اُمِ ولد (کنیز) تھی اور اُس کا نام عتب تھا جو اُس کی خلافت کے وقت زِندہ تھی۔[4]

عہد حکومت کے نمایاں واقعات[ترمیم]

  • ماہِ ذوالحجہ 363ھ مطابق اگست/ ستمبر 974ء میں حرمین الشریفین میں المعز عبیدی، حاکم مصر کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ 364ھ مطابق 975ء میں عزالدولہ کی امداد کو عضد الدولہ بغداد آیا تاکہ یہاں امیر سبکتگین کا مقابلہ کرسکے لیکن اُسے حکومت کے لیے بغداد پسند آگیا۔ چنانچہ اُس نے شاہی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ فوجیوں نے عزالدولہ پر لشکرکشی کردی۔ عزالدولہ نے محل میں داخل ہوکر دروازے بند کروا دیے۔ بعد ازاں طائع للہ کی جانب سے یہ فرمان جاری کیا کہ عزالدولہ کی بجائے عضدالدولہ کو وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا ہے۔ اِس وجہ سے اِن دونوں کے مابین رنجش مزید بڑھ گئی۔ چونکہ عضدالدولہ نے پوری قوت حاصل کرلی تھی، اِسی لیے 20 جمادی الثانی سے 10 رجب 364ھ تک بغداد کے کسی مقام پر خلیفہ طائع للہ کا نام خطبوں میں نہیں پڑھا گیا۔
  • 364ھ مطابق 975ء میں عبیدیوں کے خروج نے انتہا کردی۔ عبیدیوں کی قوت و طاقت کا یہ اَثر ہوا کہ وہ مصر، بلاد الشام اور مشرق و مغرب میں حاکم ہو گئے۔ اِن تمام مقامات پر کہیں بھی نمازِ تراویح کی ادائیگی ممکن نہ ہو سکی۔
  • 365ھ مطابق 976ء میں رکن الدین ابن بویہ نے اپنے مقبوضہ ممالک اپنی اولاد میں تقسیم کردیے۔ عضد الدولہ کو فارس، کرمان اور مؤید الدولہ کو رَے شہر، اصفہان اور فخرالدولہ کو ہمدان اور دینور دے دیے۔
  • رجب 365ھ مطابق مارچ 976ء میں قاضی القضاۃ ابن معروف نے شاہی محل کے اندر مقدمات کا تصفیہ کرنا شروع کیا۔
  • 365ھ مطابق 976ء میں عزالدولہ کی بجائے عضدالدولہ کا نام خطبوں میں پڑھا گیا۔ اِسی سال شاہ مصر المعزالدین اللہ العبیدی الفاطمی نے انتقال کیا۔ یہ المعز پہلا عبیدی تھا جو حاکم کی بجائے بادشاہ بنا اور باقی بادشاہوں کا سرخیل بنا۔ المعز کے انتقال کے اُس کا فرزند ’’نزار‘‘ تخت نشین ہو گیا جسے ’’العزیز‘‘ کا لقب دیا گیا۔
  • 366ھ مطابق 977ء میں المستنصر باللہ الحکم بن الناصر لدین اللہ الاموی، شاہ اندلس کا انتقال ہوا جس کی بجائے اُس کا فرزند ہشام المؤید باللہ تخت نشین ہو گیا۔
  • 367ھ مطابق 978ء میں عضدالدولہ اور عزالدولہ میں پھر جنگ چھڑ گئی اور اِس جنگ میں عزالدولہ کو قید کرکے قتل کر دیا گیا۔ خلیفہ طائع نے عضدالدولہ کو خلعت، جواہردار تارج اور کنگن عنایت کیے اور شمشیر اُس کے گردن میں حمائل کی۔ ساتھ دو پرچم تفویض ہوئے جن میں ایک چاندی کا تھا جو امرا کو دِیا جاتا تھا اور دوسرا سونے کا تھا جو ولی عہد کو دِیا جاتا تھا۔ اِسی کے ساتھ فرمان جاری کیا گیا جس میں تحریر تھا کہ: ’’میرے بعد تم ولی عہد ہو‘‘۔ جب یہ فرمان پڑھ کر سنا گیا تو لوگ انگشت بدندان ہو گئے کیونکہ ولی عہد ہمیشہ بیٹے کو یا کسی رشتے دار کو بنایا جاتا تھا۔
  • 368ھ مطابق 979ء میں طائع نے یہ حکم جاری کیا کہ صبح، مغرب اور عشا کے وقت عضدالدولہ کے مکان پر نوبت بجائی جائے اور خطیب برسر منبر ہماری بجائے عضدالدولہ کا نام خطبہ میں پڑھا کریں۔ ابن جوزی کا بیان ہے کہ خلیفہ کی موجودگی میں کسی دوسرے کے لیے نوبت سازی اور خطبہ میں نام پڑھنا کبھی بھی دستور نہیں رہا اور یہ پہلی بار خلیفہ طائع کے زمانے میں شروع ہوا۔

خلافت سے معزولی[ترمیم]

381ھ مطابق 991ء میں طائع للہ کو خلافت سے معزول کر دیا گیا جس کی وجہ یہ تھی کہ خلیفہ حسب عادت اپنے برآمدہ میں مسند نشین ہوا اور امیر بہاؤالدولہ تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اِتنے میں کسی نے خلیفہ کو اپنی تلوار کے پرتلے میں باندھ کر تخت سے نیچے اُتار دیا اور کسی چادر میں لپیٹ کر حکومت کے خزانچی کے پاس لے گئے اور کچھ لوگوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا۔ اکثر لوگوں کو معلوم نہ ہو سکا کہ آخر واقعہ کیا ہے اور حقیقت کیا؟۔ امیر بہاؤالدولہ نے آخرکار خلیفہ طائع کو دستبرداری کا مشورہ دیا اور کہا کہ القادر باللہ کو تخت نشین کریں۔ القادر باللہ کی بیعت لے لی گئی اور طائع للہ کو معزول کر دیا گیا۔[5] یہ واقعہ 30 اکتوبر 991ء کو پیش آیا۔ طائع کو القاہر باللہ کے محل میں نظربند رکھا گیا جہاں القاہر باللہ نے اُس کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ دورانِ نظربندی طائع کی عزت و حرمت کا مکمل لحاظ رکھا گیا اور حتیٰ الوسع آرام و آسائش کا پورا انتظام کیا گیا۔[6]

وفات[ترمیم]

دوران نظربندی ہی طائع نے 64 سال (قمری) کی عمر میں 30 رمضان 393ھ مطابق 3 اگست 1003ء کی شب القاہر باللہ کے محل میں وفات پائی۔القادر باللہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور بغداد میں تدفین کی گئی۔[6] اُس نے 17 سال 2 ماہ 26 دن (بلحاظِ شمسی) حکومت کی۔

شخصیت[ترمیم]

علامہ جلال الدین سیوطی طائع کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ’’طائع للہ نے خلافت میں ضعف پیدا کیا اور یہی وہ پہلا خلیفہ ہے جس کے زمانے میں اُمورِ خلافت میں اِس قسم کی بے حد کمزوریاں پیدا کی گئیں، ورنہ اِس سے پہلے کبھی اِس قسم کی کمزوری پیدا کرنے کا کسی کو خیال تک نہیں ہوا تھا کہ خلیفہ خود وزیر اعظم کے گھر حاضر ہوکر ہر مہینے کے شروع میں مبارکباد دے۔ یہ کام پہلی بار طائع للہ نے شروع کیا۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، صفحہ 384۔ مطبوعہ کراچی، 1983ء
  2. جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، صفحہ 384۔ مطبوعہ کراچی، 1983ء
  3. ابن کثیر: تاریخ ابن کثیر، جلد 11، صفحہ 487۔
  4. ابن کثیر: تاریخ ابن کثیر، جلد 11، صفحہ 487۔
  5. ابن کثیر: تاریخ ابن کثیر، جلد 11، صفحہ 537۔
  6. ^ ا ب مفتی انتظام اللہ شہابی و مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی: تاریخ ملت، جلد 2، صفحہ 525۔
  7. جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، صفحہ 387۔ مطبوعہ کراچی، 1983ء
طائع للہ
پیدائش: 932ء وفات: 3 اگست 1003ء
مناصب سنت
ماقبل 
المطیع للہ
خلیفۃ الاسلام، خلیفہ العباسیہ
4 اگست 974ء30 اکتوبر 991ء
مابعد 
القادر باللہ