المعتضد باللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
المعتضد باللہ
(عربی میں: أحمد المعتضد بالله خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Dinar of al-Mu'tadid, AH 285.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 854  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 5 اپریل 902 (47–48 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ قطر الندى بنت خمارویہ
سیدہ شغب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد المکتفی باللہ،  المقتدر باللہ،  القاہر باللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد الموفق باللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان خلیفہ خلافت عباسیہ (بغداد)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
خلیفۂ خلافت عباسیہ (16 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
15 اکتوبر 892  – 5 اپریل 902 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png المعتمد علی اللہ 
المکتفی باللہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

المعتضد باللہ (پیدائش: 854ء– وفات: 5 اپریل 902ء) خلافت عباسیہ کا سولہواں خلیفہ تھا جس نے 892ء سے 902ء تک حکومت کی۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام احمد کنیت ابو العباس اور لقب المعتضد باللہ ہے آپ کی پیدائش 242ھ یا 247ھ میں ہوئی آپ کی والد کا نام ابو احمد طلحہ الموفق باللہ یے۔ آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے ابوالعباس احمد المعتضد باللہ ابن ابو احمد طلحہ الموفق باللہ ابن جعفر المتوکل علی اللہ ابن ابو اسحاق محمد المعتصم باللہ ابن ہارون الرشید ابن ابو عبد للہ محمد المہدی باللہ ابن عبد اللہ ابو جعفر المنصور ابن محمد بن علی ابن علی بن عبد اللہ بن عباس ابن عبداللہ بن عباس ابن عباس بن عبد المطلب ابن عبدالمطلب ابن ہاشم[1]

بیعت خلافت[ترمیم]

19 رجب 279ھ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوئی۔[2]

اوصاف[ترمیم]

بنی عباس میں آپ عقل و دانش، تدبیرِ سیاست اور جاہ و جلال میں ایک امتیازی درجہ رکھتے تھے۔ اس دل و دماغ اور حوصلہ و ہمت والا خلیفہ اس تخت ہر بہت عرصے بعد بیٹھا۔ آپ کبھی ترک امرا کا کلھونا نہیں بنے بلکہ تمام سرکش امرا کو زیر رکھا اور مخالف قوتوں کو ابھرنے نا دیا۔ آپ کا دور عام فلاح و بہبود، امن و امان اور عدل و انصاف میں مشہور تھا۔ اس نے ہی خلافت بنی عباس کے بے روح جسم میں جان ڈال دی اس لیے آپ کو سفاح ثانی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔[2]

الموفق باللہ کے زیر سایہ[ترمیم]

267ھ میں الموفق باللہ نے اپنے بیٹے ابو العباس احمدالمعتضد باللہ کو تقریباً دس ہزار گھوڑ سوار اور پیادہ فوجیوں کے ساتھ انتہائی خوبصورتی اور پوری تیاری کے ساتھ حبشیوں سے قتال کرنے کے لیے بھیجا۔ ابو العباس اس وقت کم عمر، نوجوان اور ناتجربہ کار تھے بالخصوص لڑائی کے طور طریقوں سے ناواقف تھے لیکن یہ فضل ایزادی تھا کہ اللہ پاک نے آپ کو محفوظ رکھا اور آپ کا رعب قائم ہو گیا معمالات درست رہے نشانے ٹھیک لگے اور دعائیں مقبول ہوئی آپ کے ہاتھوں اللہ نے فتح مندی نصیب کی اور اللہ نے آپ پر نعمتوں کی بارش کردی تھی پہلے حبشی سرداروں نے واسط کے شہروں میں اور دجلہ کے علاقوں میں جہاں تک ان کا قبضہ تھا وہاں پر ابو العباس نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد ماہ صفر میں الموفق باللہ بغداد سے ایک لشکر لے کر نکلے اور ماہ ربیع الاول میں واسط میں داخل ہوئے۔ دوسری طرف آپ کے بیٹے المعتضد باللہ نے آپ کا استقبال کیا اور بعد ملاقات کے لشکر کی تمام کارگزاری سنائی اور یہ کہ کس طرح لشکریوں نے جہاد کے سلسلے میں تمام دشواریوں کو ہنسی خوشی برداشت کیا۔ یہ سن کر الموفق نے تمام سرداروں کو ایک ایک کر کے قیمتی خلعت سے نوازا۔

اس کے بعد الموفق تمام لشکر کو لے کر شہر منیعہ کی طرف بڑھے جس کو اس نے خود بسایا تھا۔ وہاں پر حبشیوں نے جم کر مقابلہ کیااور گھمسان کی لڑائی ہوئی لیکن بالآخر الموفق نے ان کو شکست سے دوچار کیا۔ پھر تمام لشکر شہر میں داخل ہوا جس سے حبشیوں کا لشکر وہاں سے بھاگ نکلا۔ آپ کے لشکر نے ان کا پیچھا کیا اور ان کو بطائح کے علاقے میں پانے میں کامیاب ہوئے وہ جہاں ملے ان کو قتل کر دیا گیا اور بہت سے حبشی گرفتار بھی ہوئے۔ الموفق نے پانچ ہزار عورتوں کو رہا کروایا جو حبشیوں کے قبضے میں تھی اور ان کو اپنے گھروں میں پہنچانے کا انتظام کیا۔ آپ نے شہر کی چاردیواری اور شہر پناہ کو ڈھادینے اور ان کی خندقوں کو بھرنے کا حکم دیا اور شہر کو چٹیل میدان بنا دیا جبکہ اب تک وہ جگہ ساری شرارتوں کی آماجگاہ تھی۔

اس کے بعد الموفق باللہ نے اس شہر کا رخ کیا جو خاص خبیث سردار کے لیے مخصوص تھا، جس کا نام منصورہ رکھا گیا تھا اور وہیں سلیمان بن جامع بھی تھا۔ وہاں پہنچتے ہی چاروں طرف سے شہر کو گیر لیا اور لڑائی شروع کردی اس لڑائی میں فریقین کے بے شمار بہادر کام آئے۔ اس کے بعد المعتضد باللہ نے زنگی سردار کے مصاحب احمد بن ہندی کو تاک کر ایسا تیر مارا وہ شخص وہی ڈھیر ہو گیا، چونکہ وہ حردبشی سردار کا خاص موربین تھا تو اسے بہت دکھ محسوس ہوا۔ اس کے بعد 27 ربیع الثانی کو الموفق باللہ نے منصورہ شہر کو ایک خاص ترتیب سے گھیرنے کا حکم دیا اور اس کے بعد آپ نے چار رکعت نماز نفل پڑھی اور اللہ کے حضور صدقِ دل سے خوب گڑ گڑا کے دعا کی اور گھیرے کو مذید تنگ کر دیا۔ اس کے بعد بہادر بیادری سے لڑتے ہوئے اور خندقوں کو پار کرتے ہوئے قلعے کی دیوار تک پہنچ گئے۔ وہاں پر بھی خوب لڑائی ہوئی اور بہت سے حبشی قتل ہوئے اور کچھ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد بہت سی حبشی عورتوں کو قید کر لیا اور ان میں سلیمان بن جامع کی بیویاں بھی تھی اور بہت سی مسلمان عورتوں اور بچوں کو آزاد کروایا جو ان کی قید میں تھی جن کی تعداد دس ہزار تک تھی پھر ان سب کو ان کے گھروں تک پہنچا دیا گیا۔(اللہ پاک انھیں جزائے خیر دے)۔[2]

عہد خلافت[ترمیم]

عہد خلافت کے متفرق واقعات[ترمیم]

وفات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ ابن کثیر جلد 11
  2. ^ ا ب پ تاریخ ملت جلد 2