ابن ماسویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابن ماسویہ
Mesue. Watercolour. Wellcome V0006562.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 777[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
جندیشاپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 857 (79–80 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد ماسویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ طبیب،ماہرِ دوا سازی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عربی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

ابن ماسویہ پورا نام زکریا یحیی بن ماسویہ الخوزی، ماسویہ طبیب تھے، باپ کی طرف سے سریانی اور ماں کی طرف سے صقلبی تھے، سامراء میں جمادی الآخر 243 ہجری کو وفات پائی، اور ورثے میں کوئی چالیس کے قریب کتب اور مقالے چھوڑے.

ابن ماسویہ کے معروف کتب یہ ہیں: النوادر الطبیہ، کتاب الازمنہ، کتاب الحمیات، یہ تمام کتابیں کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہوچکی ہیں.

ان کی غیر شائع شدہ کچھ تصانیف یہ ہیں: طبقات الاطباء، کتاب الکامل، الادویہ المسہلہ، کتاب دفع مضار الاغذیہ، علاج الصداع، الصوت والبحہ، الفصد والحجامہ، کتاب الفولنج، معرفہ العین وطبقاتھا، کتاب البرہان، کتاب الاشربہ، کتاب الجنین، کتاب المعدہ، کتاب الجذام، کتاب السموم وعلاجہا، کتاب المالیخولیا، کتاب التشریح.

ابن ماسویہ کی طبی تصانیف کی یہ طویل فہرست عباسی دورِ حکومت کے ابتدائی زمانے میں ان کے ایک بہت بڑے کردار کی عکاسی کرتی ہے، طبی سائنس کی ترقی میں اب ماسویہ کا بہت بڑا کردار ہے، انہوں نے طبی سائنس کو یکمشت کئی قدم آگے کی طرف دھکیل دیا، طلباء کی ایک کثیر تعداد ان کے حلقۂ درس سے فارغ التحصیل ہوئی اور عرب کے بڑے بڑے اطباء کہلائے.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13091493m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13091493m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ