سونیا گاندھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سونیا گاندھی
(اطالوی میں: Antonia Edvige Albina Maino خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Sonia Gandhi (cropped).jpg 

مناصب
صدر انڈین نیشنل کانگریس   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
14 مارچ 1998  – 16 دسمبر 2017 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سیتارام کیسری 
راہُل گاندھی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
قائد حزب اختلاف   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
19 مارچ 1998  – 22 مئی 2004 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png شرد پوار 
لال کرشن اڈوانی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 9 دسمبر 1946 (73 سال)[2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لوسیانا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش 10 جنپت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Italy.svg اطالیہ (–اپریل 1983)
Flag of India.svg بھارت (13 اپریل 1983–)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت انڈین نیشنل کانگریس[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
شوہر راجیو گاندھی (1969–1991)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد راہُل گاندھی،  پرینکا گاندھی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کیمبرج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان اطالوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اطالوی،  ہندی[4][5]،  انگریزی[4]،  فرانسیسی[5]،  ہسپانوی[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

سونیا گاندھی (ولادت: 9 دسمبر 1946ء لوسیانا، اطالیہ) ایک اطالوی نژاد بھارتی سیاست دان، انڈین نیشنل کانگریس کی سابق صدر اور نہرو گاندھی خاندان کی ایک رکن ہیں۔ ان کی شادی سابق وزیر اعظم بھارت راجیو گاندھی سے ہوئی۔ 1998ء میں ان کے شوہر کے قتل کے 7 برس بعد ان کو انڈین نیشنل کانگریس کا صدر بنایا گیا، اس عہدے پر وہ 19 برس (16 دسمبر 2017ء تک) رہیں۔ اسی عرصہ میں کانگریس بھارتی سیاست میں مرکزی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی۔[ا]

ان کی ولادت ویچینسا کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک مسیحی کاتھولک کلیسیا خاندان میں ہوئی۔ علاقائی اسکول میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے کیمبرج چلی گئیں جہاں ان کی ملاقات راجیو گاندھی سے ہوئی۔ راجیو سے ان کی شادی 1968ء میں ہوئی۔ بھارت میں منتقل ہونے کے بعد انھوں نے بھارتی شہریت حاصل کی اور اپنی ساس اندرا گاندھی کے ساتھ نئی دہلی میں رہائش اختیار کی۔ اندرا گاندھی اس وقت بھارت کی وزیر اعظم تھیں۔ ان تمام خاندانی اثر و رسوخ کے باوجود سونیا گاندھی نمود و نمائش اور عوام کی نظر سے دور ہی رہتی تھیں۔ حتی کہ اس وقت بھی جب ان کے شوہر بھارت کے وزیر اعظم تھے۔

شوہر راجیو گاندھی کے قتل کے بعد سونیا گاندھی کو کانگریس کے ارکان نے جماعت میں مدعو کیا اور منصب صدارت کی پیشکش کی جسے انھوں نے قبول نہیں کیا۔ 1997ء میں انھوں نے سیاست میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اورتاحال وہ سیاست میں سرگرم ہیں۔ 1998ء میں ان کو صدر انڈیں نیشنل کانگریس بنایا گیا۔ انھوں نے جماعت کی صدارت کے اس انتخاب میں جیتیندر پرساد کو شکست دی تھی۔[ب] ان کی صدارت میں کانگریس 2004ء میں حکومت میں آئی۔ حالانکہ یہ اتحادی حکومت تھی جس میں مرکزی اور دائیں باوز کی جماعتیں شامل تھیں۔ یہ اتحاد متحدہ ترقی پسند اتحاد کہلایا۔ 2009ء میں دوبارہ اس اتحاد نے کامیابی حاصل کی اور گزشتہ کی طرح اس بار بھی سونیا گاندھی نے وزارت عظمی کا عہدہ قبول نہیں کیا۔ حالانکہ انھوں نے نیشل اڈوائزری کونسل کی صدارت بحسن و خوبی انجام دی۔[پ]

اپنی سیاسی زندگی میں انھوں کئی منصوبے اور اڈوائزری کونسل بنائے جن میں حقوق پرمبنی منصوبے شامل ہیں جیسے 2005ء میں قانون حق معلومات، تحفظ کھانا کا قانون اور 2005ء ہی میں ایم جی نرے گا وغیرہ کے قوانین منظور کرائئے۔ بوفورس سکینڈل اور نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں ان کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ ان کا غیر ملکی ہونا بھی بحث اور تنقید کا موضوع رہا ہے۔[ت] یو پی اے حکومت کے دوسرے نصف میں صحت کے مسائل کی وجہ سے سونیا گاندھی کی سیاست میں فعالیت کم ہو گئی اور 2017ء میں انھوں نے یو پی اے کی صدارت سے بھی استعفی دے دیا۔ لیکن جماعت کی پارلیمانی کمیٹی کی صدر بنی رہیں۔ حالانکہ انھوں نے کبھی کوئی حکومتی عہدہ نہیں سنبھالا مگر ان کو ملک کی سب سے طاقتور سیاست دان مانا جاتا رہا ہے۔ اور اکثر ان کو دنیا کی طاقتور ترین خواتین میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔[ٹ]

ابتدائی حالات[ترمیم]

Sonia Gandhi's birthplace, 31, Contrada Maini (Maini street)، لوسیانا، Italy (the house on the right)

سونیا مائنو [24] کی ولادت 9 دسمبر 1946ء کو سٹیفانو اور پاولا ماینو کے گھر ویچینسا، وینیٹو، اطالیہ کے 30 کلو میٹر دور لوزیانا نامی گاؤں میں ہوئی۔[25][26] ان کا بچپن تورینو کے قریب اورباسانو نامی قصبہ میں گزرا اور انہوں نے کاتھولک کلیسیا مذہب اختیار کیا۔ انہوں نے کاتھولک اسکول میں ہی بنیادی تعلیم حاصل کی ، ان کی بچپن کی ایک استادہ سسٹر ماریہ ان کے بارے میں کہتی ہیں “ وہ بچپن سے ہی محنتی لڑکی تھی جو اتنا ہی پڑھتی تھی جتنی ضرورت ہوتی تھی۔“ [24]

اسٹیفانو اوربیسانو میں ایک معمار تھے۔[27] انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے ساتھسوویت افواج کے خلاف جنگ لڑی تھی۔وہ بینیٹو موسولینی اور نیشنل فاسسٹ پارٹی کے بہت وفادار تھے۔[27] سونیا کی بڑی بہن کا نام نادیہ نام تھا۔ ان کے والد کی وفات 1983ء میں ہوئی۔ سونیا کی بہنیں ہیں جو ماں کے ساتھ اوربیسانو میں مقیم ہیں۔[28]

13 سال کی عمر میں سونیا کا اسکوم مکمل ہو گیا؛ ان کے حتمی رپورٹ کارڈ درج ہے“ ذہین، محنتی اور ----ہائی اسکول میں اساتذہ کا نام روشن کریں گی۔ “ان کو ہوائی جہاز مضیف بننے کا شوق تھا۔[24] 1964ء میں کیمبرج میں انہوں نے انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیل ایجوکیشنل ٹرسٹ میں داخلہ لیا۔ اس کے اگلے ان کی ملاقات ایک مطعم میں راجیو گاندھی سے ہوئی جہاں وہ پارٹ ٹائم بطور ویٹر کام کررہی تھیں۔ اس وقت ان کا داخلہ جامعی کیمبرج کے ٹرینیٹی کالج، کیمبرج انجینیرنگ میں ہو گیا تھا۔[29] اس حوالہ سے ٹائمز لندن خبر دیتا ہے “ محترمہ گاندھی 1965ء میں کیمبرج کے ایک زبان کے اسکول میں 18 سال کی طالبہ تھیں جہاں ان کی ملاقات ایک خوبصورت انجیرنگ کے طالبعلم سے ہوئی“ [30] دونوں نے 1965ء میں شادی کرلی، ان ی شادی ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی اور اس کے بعد وہ اپنی ساس اور وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ رہنے کے لیے بھارت منتقل ہوگئیں۔و272 [31]

سونیا گاندھی کو دو اولادیں ہوئیں۔بیٹا راہل گاندھی 1970ء میں جنمے اور بیٹی پرینکا گاندھی کی پیدائش 1972ء میں ہوئی۔ نہرو گاندھی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود سونیا اور راجیو نے سیاست سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا۔ راجیو بحییثیت پائلٹ ایک طیارہ کی کمپنی میں کام کرتے تھے جبکہ سونیا نے خاندان کی دیکھ ریکھ کی۔ انہوں نے اپنی ساس اندرا گاندھی کے ساتھ کافی عرصہ گزارا۔ راجیو نے ا982ء میں سیاست میں قدم رکھا جب ان کے بڑے بھائی سنجے گاندھی کی 23 جون 1977ء کو ایک طیارہ حادثہ میں وفات ہو چکی تھی۔ سونیا اس کے بعد بھی خاندان میں مشغول رہیں اور عوام کی نظروں سے دور رہیں۔[32]

سیاسی سفر[ترمیم]

وزیر اعظم کی اہلیہ[ترمیم]

President Ronald Reagan, Sonia Gandhi, First Lady Nancy Reagan and Prime Minister Rajiv Gandhi, during a state dinner for Prime Minister Gandhi. جون 1985.

بھارت کی عوامی زندگی میں دخل اندازی اس وقت شروع ہوئی جب اندرا گاندھی کی وفات ہوئی اور راجیو گاندھی وزیر اعظم بنے۔ بحیثیت اہلیہ وزیر اعظم انہوں نے سرکاری مہمانوں کی ضیافت کی اور ان کے ساتھ سرکاری اسفار پر گئیں۔[33] 1984ء میں انہوں نے اپنے شوہر کی سالی مینکا گاندھی کے خلاف مہم میں حصہ لیا جو امیٹھی میں راجیو گاندھی کے خلاف لڑ رہی تھیں۔ دفتر مین راجیو گاندھی کے پانچ سال مکمل ہونے کے بعد بوفورس اسکینڈل سامنے آیا، ایک اطاوی تاجر اوٹاویو قواٹروچی کا نام بھی سامنے آیا جو سونیا گاندھی کا دوست بتایا جاتا تھا اور ا س کو وزیر اعظم کے رسمی گھر تک رسائی حاصل تھی۔[34] بی جے پی نے یہ الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ میں ان کا نام شہریت لینے سے قبل ہی آگیا تھا۔[35][36] سابق کانگریس رہنما اور سابق صدر بھارت پرنب مکھرجی کا کہنا ہے کہ محترمہ سونیا گاندھی نے 27 اپریل 1983ء کو اطلاوی سفارت خانہ کو اطالوی پاسورٹ جمع کروادیا تھا۔ 1992ء تک اطالوی قانون دوہری شہریت کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ اسی لیے 1983ء میں بھارتی شہریت لینے کے بعد انہوں نے خود ہی اطالوی شہریت کھو دی تھی۔[37]

صدر کانگریس[ترمیم]

Sonia Gandhi as Leader of Opposition, meeting with the صدر روس ولادیمیر پیوٹن during latter's State visit to India in اکتوبر 2000.

1991ء میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد سونیا گاندھی نے وزیر اعظم بننے سے منع کر دیا تھا تب پارٹی نے پی وی نریسہماراؤ کو پارٹی کا لیڈر اور وزیر اعظم بنا دیا۔ اگلے چند برسوں تک کانگریس پر قسمت مہربان نہیں رہی کیونکہ لگاتار انتخابات میں شکست مل رہی تھی اور موجودہ صدر سیتارام کیسری کے خلاف متعدد سینیر لیڈر جیسے مادھو راو سندھیا، راجش پائلٹ، نارائن دت تیواری، ارجن سنگھ، ممتا بنرجی، جی کے موپانار، پی چدمبرم اورجینتی نٹراجن نے محاذ کھول دیا تھا اور ان میں سے کئی نے تو پارٹی ہی چھوڑ دی تھی اور اس طرح کانگریس کئی پارٹیوں میں بٹ گئی۔[38]

پارٹی کی خستی حالی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بحیثیت ایک عام رکن انہوں نے 1997ء کلکتہ کے اجلاس میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 1998ء مٰں پارٹی کی صدر بن گئیں۔[39][40]

مئی 1999ء میں پارٹی کے تین سینئر لیڈر شرد پوار، پی اے سنگما اور طارق انور نے ان کے وزیر اعظم بننے کے حق کو چیلینج کیا کیونکہ وہ ہند نذاد نہیں تھیں، جوابی طور پر سونیا نے استعفی کی پیشکش کردی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تینوں کو پارٹی سے بے دخل کر دیا گیا اور انہوں نے راشٹروادی کانگریس پارٹی کے نام سے ایک نئی جماعت تشکیل دی۔[41] 1999ء میں وہ بیلاری، کرناٹک اور امیٹھی انتخاب لڑیں۔ دونوں جگہ ان کو کامیابی ملی مگر انہوں نے اپنے لیے امیٹھی کو منتخب کیا۔[42] بیلاری سے انہوں نے بی جے پی کی بہت سینئر لیڈر ششما سوراج کو چکست دی تھی۔[43]

لیڈر حزب اختلاف[ترمیم]

1999ء میں 13ویں لوک سبھا میں ان کو قائد حزب اختلاف چنا گیا۔[44] جب اٹل بہاری واجپائی کے زیر قیادت این ڈی اے کی حکومت بنی تو سونیا گاندھی کو لیدر حزب اختلاف چنا گیا۔ انہوں نے اپنے اس عہدہ کا استعمال کرتے ہوئے 2003ء میں این ڈی اے کی حکومت کے خلاف نو کانفیڈینس موشن کا اعلان کیا۔[45]

2004ء کے عام انتخابات اور اس کے بعد[ترمیم]

2004ء کے عام انتخابات میں سونیا گاندھی نے قومی سطح پر مہم شروع کی اور این ڈی اے کے ‘‘انڈیا شائننگ‘‘ اعلان کے جواب میں عام آدمی کا نعرہ دیا۔ انہوں نے بی جے پی پر ضرب لگاتے ہوئے سوال کیا کہ انڈیا کس کے لیے چمک رہا ہے۔ انتخابات میں رائے بریلی نششت سے اپنے سب سے نزدیکی حریف سے ان کو 200,000 کے فرق سے جیت حاصل ہوئی [46]این ڈی اے کی اس غیر متوقع شکست کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ اگلی وزیر اعظم ہوں گی اور 16 مئی کو بالاتفاق 15 جماعت کے اتحاد کی صدارت کا ذمہ ان کو سونپ دیا گیا اور یہ اتحاد متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کہلایا۔

شکست خوردہ این ڈی اے نے ان کے غیر ملکی ہونے کا الزام لگایا اور بہت واویلا مچایا۔ ششما سوراج نے تو یہاں تک کہ دیا کہ اگر سونیا وزیر اعظم بنیں تو وہ سر منڈوا لیں گی اور ریت پر سوئیں گی۔[47]

این ڈی اے نے دعوی کیا تھا سونیا گاندھی کو وزیر اعظم بننے سے روکنے کے لیے قانونی دلائل موجود تھے۔[48] انہوں نے دلیل کے طور پر ایکٹ 1955ء کے جزء 5 کا حوالہ دیا مگر بھارتی عدالت عظمیٰ نے تمام دلائل کو مسترد کر دیا۔[36][49]

صدر یو پی اے[ترمیم]

23 مارچ 2006ء کو انہوں نے آفس آف پرافٹ تنازع کے پیش نظر لوک سبھا سے استعفی دے دیا اور ساتھ ہی نیشل ایڈوائزری کونسل سے بھی سبکدوش ہوگئیں۔ اسی سال حکومت آفس آف پرافٹ پر ایک بل پیش کرنے جا رہی تھی۔ 2006ء میں دوبارہ رائے بریلی سے 400,000 کے فرق سے کامیاب ہوئیں۔[50][51] نیشل ایڈوائزری کونسل اور یو پی اے کی صدر ہونے حیثیت سے انہوں نے قومی دیہی ملازمت گارنٹی قانون 2005ء اور قانون حق معلومات، 2005ء کو قانونی شکل دینے میں اہم کردار نبھایا۔ [52][53] 2 اکتوبر 2007ء کو، موہن داس گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر، جو عالمی یوم عدم تشدد کے طور پر منایا جاتا ہے، انہوں نے اقوام متحدہکو خطاب کیا۔ 15 جولائی 2007ء کو اقوام متحدہ نے 2 اکتوبر کو عالمی یوم عدم تشدد کے طور پر منانے کا قانون منظور کیا تھا۔[54] ان کی زیر قیادت 2009ء میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کو فیصلہ کن جیت ملی اور اکیلی کانگریس کو 206 نشستیں ہاتھ لگیں۔ منموہن سنگھ وزیر اعظم منتخب کیے گئے۔[55] اور سونیا گاندھی تیسری بار رکن پارلیمان بنیں۔[56][57]

2013ء میں وہ لگاتار 15 برسوں تک کانگریس کی صدارت کرنے والی پہلی صدر بن گئیں۔[58] اسی سال سونیا گاندھی نے عدالت عظمی کے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 377 کی تائید پر اظہار ناراضی جتایا اور ایل کی بی ٹی کے حقوق کی تائید کی۔[59] 2014ء کے عام انتخابات میں رائے بریکی کی نششت ان کے ہی نام رہی [60] البتہ کانگریس اور یو پی اے نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی شکست کا سامنا کیا جہاں کانگریس کو محض 44 اور یو پی اے کو کل ملا کر 59 نششتیں مل پائیں۔[61][62][63] جب راہل گاندھی کے بارے خبریں آرہی تھیں کہ وہ کانگریس کے صدر بن سکتے ہیں، بھارتیہ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر سیتارام ییچوری نے سونیا کو ان پر ترجیح دی۔[64] 16 دسمبر 2017ء کو راہل نے کانگریس کے 49 ویں صدر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا۔[65][66]

2016ء کے بعد وہ سیاست سے الگ ہو گئی تھیں مگر 2018ء کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں انہوں نے انتخابی مہم میں حصہ لیا اور بیجاپور میں ریلی سے خطاب کیا اور وہاں کانگریس کو 5 میں 4 نششتوں پر کامیابی ملی اور کرناٹک میں وہ دوسری بری جماعت بن کر ابھری۔[67][68] انتخابات سے قبل جنتا دل ( سیکولر) کے ساتھ اتحاد بانے میں انہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔[69]

ذاتی زندگی[ترمیم]

سونیا گاندھی اندرا گاندھی کے بڑے بیٹے راجیو گاندھیکی بیوہ ہیں۔ ان کی دو اولادیں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی ہیں۔ مارچ 2013ء میں دی گارڈین نے انہیں 50سالہ افراد میں سب سے اچھے ملبوسات استعمال کرنے والوں کی فہرست مین جگہ دی۔[70] بھارت کے عام انتخابات، 2014ء کے حلف نامہ میں انہوں نے بتایا کہ ان کی کل جمع پونجی 92.8 ملین روپئے ہے۔واضح ہو کہ گزشتہ انتخابات سے ہی 6گنا زیادہ تھا۔[71]

حوالہ جات[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. Sources describing Gandhi's advocacy for a center-left position and the party's reaffirmation to the Ideology.[6][7][8][9]
  2. Sources describing Gandhi's initial reluctance and eventual election.[10][11][12]
  3. Sources describing Gandhi's leadership of the UPA and declining the premiership.[13][14][15][16]
  4. Sources discussing the welfare schemes and controversies.[17][18][19][20]
  5. Sources discussing the listing.[21][22][23]

مآخذ[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/
  2. اجازت نامہ: CC0
  3. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Sonia-Gandhi — بنام: Sonia Gandhi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب https://www.theglobalist.com/meet-indias-sonia-gandhi/
  5. ^ ا ب پ https://www.washingtonpost.com/archive/lifestyle/1985/06/11/sonai-gandhi-assuredly/91f490a3-bafd-41a3-a9b7-4478227d7cce/
  6. "Sonia Gandhi retires as Congress president, to remain active in politics"۔ انڈین ایکسپریس۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2017۔
  7. Neerja Chowdhary۔ "As Sonia Gandhi makes way"۔ انڈین ایکسپریس۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2017۔
  8. Aurangzeb Naqshbandi۔ "Sonia Gandhi's 19 years as Congress president: From husband Rajiv's death to son Rahul's elevation"۔ ہندوستان ٹائمز۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2017۔
  9. Rina Chandra۔ "Sonia Gandhi keeps Congress hopes alive in India polls"۔ Reuters۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2017۔
  10. Bernard Weinraub۔ "Assassination In India; Sonia Gandhi Declines Invitation To Assume Husband's Party Post"۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 مئی 2014۔
  11. "Sonia Gandhi re-elected Congress President"۔ آؤٹ لک۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 نومبر 2017۔
  12. "Sonia Gandhi Biography"۔ Elections in India۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2014۔
  13. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ BBC Profile 2014 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  14. "Fourth time in a row, Sonia Gandhi is Congress chief"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 مئی 2014۔
  15. Simon Robinson۔ "India's Most Influential"۔ Time۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2017۔
  16. "Sonia: and yet so far"۔ دی اکنامسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2017۔
  17. Aruna Roy۔ "Movements and governments"۔ The Indian Express۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2017۔
  18. "End of the longest regency"۔ آؤٹ لک۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2017۔
  19. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ autogenerated1 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  20. Radhika Ramaseshan۔ "BJP sees Gujarat ammo in Sonia origins"۔ The Telegraph۔ Calcutta, India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 فروری 2010۔
  21. CL Manoj۔ "The Sonia Gandhi years and what Rahul Gandhi can learn"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2017۔
  22. Bruce Riedel۔ "Sonia Gandhi Health Mystery Sets India Leadership Adrift"۔ The Daily Beast۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2017۔
  23. Richard Sandbrook؛ Ali Burak Güven۔ Civilizing Globalization, Revised and Expanded Edition: A Survival Guide۔ SUNY Press۔ صفحات 77–۔ آئی ایس بی این 978-1-4384-5209-8۔
  24. ^ ا ب پ Vera Schiavazzi۔ "Sonia Gandhi: The Maino girl who kept her tryst with destiny in India"۔ انڈیا ٹوڈے۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 نومبر 2017۔
  25. "Pictures from the book-biography "The Red sari" by Javier Moro"۔ Radio Popolare۔ مورخہ 28 جولائی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 دسمبر 2011۔
  26. "Sonia Gandhi, dalla piccola Lusiana all'India ecco il romanzo di una donna speciale"۔ Il Giornale di Vicenza۔ مورخہ 14 جون 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  27. ^ ا ب Jawid Laiq۔ "Meeting Mr Maino"۔ آؤٹ لک۔ مورخہ 26 اپریل 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جولائی 2013۔
  28. Italy heralds 'first woman PM' نسخہ محفوظہ 6 مارچ 2016 در وے بیک مشین; retrieved 18 جولائی 2007.
  29. Alex Perry۔ "The Sonia Shock"۔ Time۔ مورخہ 4 جون 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جون 2009۔
  30. From waitress to world leader، Rediff
  31. "Profile: Sonia Gandhi"۔ بی بی سی نیوز۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مئی 2018۔
  32. V. Venkatesan۔ "Citizen Sonia"۔ Frontline۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2014۔
  33. Rasheeda Bhagat۔ "Sonia Gandhi: Ordinary Italian to powerful Indian"۔ Thehindubusinessline.com۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 مارچ 2014۔
  34. Who is Quattrocchi? نسخہ محفوظہ 23 اپریل 2016 در وے بیک مشین Retrieved 23 مارچ 2007.
  35. "BJP accuses Sonia of flouting law"۔ The Indian Express۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اپریل 2011۔
  36. ^ ا ب Venkatesan، V (جون 1999). "Citizen Sonia". Frontline 16 (12). http://www.hinduonnet.com/fline/fl1612/16120300.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 دسمبر 2011. 
  37. "Citizenship: How to lose it?"۔ Trentini Nel Mondo۔ مورخہ 7 جنوری 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 فروری 2010۔
  38. "The Sitaram Kesri case: How dynasty trumped ethics | Latest News & Updates at"۔ Daily News & Analysis۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2014۔
  39. "Sonia Gandhi Biography"۔ Elections in India۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2014۔
  40. "Sonia Gandhi re-elected Congress president, unopposed"۔ NDTV۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2014۔
  41. "India's Congress Party rallies for Sonia Gandhi"۔ CNN۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 فروری 2010۔
  42. "A Congress bastion since 1952"۔ The Hindu۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2014۔
  43. "General election 1999, Candidate wise result"۔ Election Commission of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 مارچ 2012۔
  44. "Detailed Profile – Smt. Sonia Gandhi – Members of Parliament (Lok Sabha)"۔ Archive.india.gov.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 مارچ 2014۔
  45. "LS to witness 26th no-confidence motion in its history"۔ The Times of India۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2014۔
  46. "Statistical Report on General Elections, 2004 to the 14th Lok Sabha" (PDF)۔ ECI۔ صفحہ 308۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2014۔
  47. Religioscope: India: politics of renunciation, traditional and modern – Analysis نسخہ محفوظہ 16 اگست 2016 در وے بیک مشین; retrieved 9 دسمبر 2011.
  48. Pioneer News Service۔ "Whose inner voice?"۔ CMYK Multimedia Pvt. Ltd۔ مورخہ 9 اپریل 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 جولائی 2007۔
  49. "Sonia is Indian, rules SC"۔ The Times of India۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 مئی 2014۔
  50. "Rae Bareli Lok Sabha"۔ Elections.in۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مئی 2014۔
  51. "Sonia strides to victory with record margin"۔ Rediff۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  52. Employment Bill not a populist measure: Sonia نسخہ محفوظہ 7 مارچ 2016 در وے بیک مشین; retrieved 13 جولائی 2007.
  53. After RTI success, it's right to work نسخہ محفوظہ 7 دسمبر 2013 در وے بیک مشین; retrieved 13 جولائی 2007.
  54. "Sonia Gandhi raises disarmament issue at UN meet"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اکتوبر 2007۔
  55. "India's new government sworn in"۔ BBC News۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2014۔
  56. "Hail to the chief: Sonia spurs Cong to new heights"۔ Hindustan Times۔ مورخہ 25 مئی 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2014۔
  57. "List of Winning candidates Final"۔ Election Commission of India۔ صفحہ 8۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 مارچ 2012۔
  58. "Sonia Gandhi completes 15 years as Congress president"۔ Livemint۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 مئی 2014۔
  59. "Disappointed over court ruling on gay rights: Sonia Gandhi"۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2013۔
  60. "Sonia Gandhi wins by over 3.52 lakh votes"۔ The Indian Express۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2014۔
  61. "After its worst defeat ever in Lok Sabha elections, what can Congress do to recover?"۔ Daily News & Analysis۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مئی 2014۔
  62. "The worst defeat: Where the Congress went wrong"۔ IBN Live۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مئی 2014۔
  63. "Results"۔ NDTV۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مئی 2014۔
  64. "Sonia glue that keeps Oppn united; Rahul Gandhi will break it, Sitaram Yechury forecasts doom and gloom for BJP rivals"۔ Financial Express۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 نومبر 2017۔
  65. "Rahul Gandhi takes over as Congress president"۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 نومبر 2017۔
  66. "Rahul Gandhi Takes Over As Congress Chief; New Start, Say Party Leaders"۔ NDTV۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2017۔
  67. "Sonia Gandhi hits campaign trail, crosses swords with PM Modi in Karnataka"۔ Livemint۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 مئی 2018۔
  68. "Rahul Gandhi Takes Over As Congress Chief; New Start, Say Party Leaders"۔ NDTV۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2017۔
  69. Aman Sethi۔ "Karnataka Election: How Deve Gowda Learnt To Stop Worrying And Trust The Congress (Again)"۔ The Huffington Post۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 مئی 2018۔
  70. Jess Cartner-Morley؛ Helen Mirren؛ Arianna Huffington؛ Valerie Amos۔ "The 50 best-dressed over 50s"۔ The Guardian۔ London۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  71. "Sonia Gandhi files papers, shows six-fold hike in assets"۔ The Times of India۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔