قانون حق معلومات، 2005ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حق معلومات قانون 2013ء سے مغالطہ نہ کھائیں۔
قانون حق معلومات، 2005ء
It is an act to provide for setting out the practical regime of right to information for citizens to secure access to information under the control of public authorities, in order to promote transparency and accountability in the working of every public authority, the constitution of a Central Information Commission and State Information Commissions and for matters connected therewith or incidental thereto.
سمن Act No. 22 of 2005
Territorial extent پورے بھارت پر سوائے جموں و کشمیر
نفاذ بذریعہ بھارت کی پارلیمان
تاریخ نفاذ 15-جون-2005
تاریخ رضامندی 22-جون-2005
تاریخ آغاز

12-اکتوبر-2005

حق معلومات کی پہلی درخواست شاہد رضا برنی نے پونے پولیس اسٹیشن میں داخل کی 12 اکتوبر 2005 کو
صورت حال: نافذ

حق معلومات قانون (آر ٹی آئی) بھارت کی پارلیمان کی جانب سے بنایا گیا ایک قانون ہے "تاکہ حق معلومات کی عملی حکمرانی قائم ہو سکے"۔ یہ سابقہ آزادیٔ معلومات قانون، 2002ء کی جگہ لیتا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شہری کسی "عوامی ارباب مجاز" (حکومت کا ادارہ یا "ریاست کی عمل آوری" /"instrumentality of State") سے معلومات کی درخواست کر سکتا ہے جس پر یا تو فوری جواب دیا جانا چاہیے یا تیس دن کے اندر۔ اس قانون کے تحت ہر عوامی ارباب مجاز کے گوشے کو اپنے ریکارڈ کمپیوٹرائز کرنے چاہیے تاکہ وسیع پیمانے پر معلومات پہنچائی جاسکیں اور تاکہ شہریوں کو کم سے کم جدوجہد کرنی پڑے۔

یہ قانون پارلیمان کی جانب سے 15 جون 2005ء کو پاس ہوا۔ اس کے تحت اولین درخواست پونے پولیس اسٹیشن میں دی گئی تھی۔ بھارت میں معلومات کا افشا سرکاری رازداری قانون 1923ء (Official Secrets Act 1923) کے تابع تھا اور اس کے علاوہ کئی خصوصی قوانین رائج تھے جو آر ٹی آئی کے تحت مدھم پڑ گئے تھے۔ یہ شہریوں کے ایک بنیادی حق کو باضابطہ بناتا ہے۔

قانون کا پس منظر[ترمیم]

آزادیٔ معلومات قانون 2002ء[ترمیم]

معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک قومی سطح کا قانون بنانا ایک مشکل امر ثابت ہوا۔ شوری مسودہ آزادیٔ معلومات بل 2000ء کی بنیاد بنا، جو بالآخر آزادیٔ معلومات قانون 2002ء کی شکل اختیار کر گیا۔ اس قانون کو کئی مستثنیات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا، جس میں قومی صیانت اور اقتدار اعلٰی ہی نہیں بلکہ "عوامی ارباب مجاز گوشے کی طرف سے وسائل کا بکھرنا" بھی ایک وجہ بتائی گئی تھی۔ معاوضے کے لیے کوئی اوپری حد طے نہیں کی گئی تھی۔ کوئی جرمانے نہیں طے کیے گئے تھے۔ یہ قانون پارلیمانی منظوری تو حاصل کر چکا تھا مگر کبھی تھی اس کا اعلامیہ جاری نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی قانونی طور پر عمل آوری ہوئی۔

ریاستی سطح کے حق معلومات قوانین[ترمیم]

ریاستی سطح پر آر ٹی آئی کامیابی سے تمل ناڈو (1997ءگوا (1997ء)، راجستھان (2000ءمہاراشٹر (2002ءآسام (2002ء)، مدھیہ پردیش (2004ءجموں و کشمیر، ہریانہ (2005ء) اور آندھرا پردیش میں بنایا جا چکا ہے۔

احاطہ[ترمیم]

یہ قانون پورے بھارت پر محیط ہے سوائے جموں و کشمیر کے جہاں جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2009ء نافذ العمل ہے۔ یہ سبھی دستوری ارباب مجاز کا احاطہ کرتا ہے جن میں حکومت، مقننہ اور عدلیہ شامل ہیں۔ قانون میں یہ بھی مذکور ہے کہ ادارہ جات یا ارباب مجاز جو "ملکیت، زیرنگرانی یا قابل لحاظ حد تک مالیہ فراہم کردہ" حکومت یا نیم سرکاری اداروں کے تحت آتے ہیں، وہ اس قانون کا حصہ بن جاتے ہیں۔

نجی ادارے[ترمیم]

نجی ادارے اس قانون کے دائرے میں نہیں آتے۔ سربجیت رائے بمقابلہ دہلی ودیوت بورڈ کے معاملے میں مرکزی معلوماتی کمیشن نے پھر سے اس بات کا اعادہ کیا کہ خانگیائے گئے ادارے آر ٹی آئی کے تحت نہیں آتے۔ 2014ء تک نجی ادارے اور غیر سرکاری ادارے جو 95% بنیادی ڈھانچے کا مالیہ حکومت سے حاصل کرتے ہیں، اس قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔[1]

سیاسی جماعتیں[ترمیم]

مرکزی معلوماتی کمیشن (سی آئی سی)، جس میں ستیانند مشرا، ایم ایل شرما اور اناپورنا دیکشت رہے ہیں، یہ فیصلہ سنا چکے ہیں کہ سیاسی جماعتیں عوامی ارباب مجاز ہیں اور شہریوں کو آر ٹی آئی قانون کے تحت جواب دہ ہیں۔ سی آئی سی، جو ایک نیم عدالتی ادارہ ہے، نے کہا ہے کہ چھ قومی جماعتیں- کانگریس، بی جے پی، راشٹروادی کانگریس پارٹی، سی پی ایم، سی پی آئی اور بہوجن سماج پارٹی کو قابل لحاظ حد تک بالواسطہ مرکزی حکومت سے امداد حاصل ہوئے ہیں اور ان کے پاس عوامی ارباب مجاز کا کردار ہے جسے آر ٹی آئی کے تحت بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہ عوامی کارگردگی انجام دیتے ہیں۔[2][3]

اگست 2013ء میں حکومت نے حق معلومات (ترمیمی) بل متعارف کروایا جو سیاسی جماعتوں کو اس قانون کے دائرے سے آزاد کر رہا تھا۔[4] ستمبر 2013ء کو یہ بل سرمائی اجلاس کے لیے ملتوی ہو گیا۔[5] اسی سال دسمبر میں قانون اور انسانی وسائل کی مجلس واقفہ (Standing Committee on Law and Personnel) نے اپنی رپورٹ میں کہا جسے پارلیمان کی میز پر رکھا گیا تھا [6]

"کمیٹی کی رائے ہے کہ مجوزہ ترمیم اس موضوع پر ہمیشہ کے لیے ایک صحیح اقدام ہے۔ لہٰذا کمیٹی اس بل کی منظوری کی حمایت کرتی ہے۔"

طریقۂ کار[ترمیم]

حق معلومات کا طریقہ ارباب مجاز کی جانب سے رد عمل (فعال کے برعکس) کے طور پر معلومات کے افشا پر مبنی ہے۔ آر ٹی آئی کی ایک درخواست اس عمل کو حرکت میں لا سکتی ہے۔

ہر ارباب مجاز کا گوشہ اس قانون کے تحت عوامی معلومات افسر (پی آئی او) / (PIO) Public Information Officer متعین کرتا ہے۔ کوئی بھی شخص پی آئی او کو معلومات کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ پی آئی او کا یہ فریضہ ہے کہ بھارت کے شہریوں کو معلومات فراہم کرے اگر وہ اس قانون کے تحت طلب کریں۔ اگر کوئی درخواست کسی اور عوامی اربابِ مجاز سے متعلق ہو (جزوی یا کلی)، تو یہ پی آئی او کی ذمے داری ہے کہ درخواست کا متعلقہ حصہ کسی اور باوثوق شخص کے حوالے پانچ کام کرنے کے دنوں میں کرے۔ اس کے علاوہ عوامی ارباب مجاز پر ضروری تھا کہ وہ نائب عوامی معلومات افسر (اے پی آئی او) / Assistant Public Information Officers (APIOs) کا تعین کرے جو حق معلومات درخواستوں کو قبول کرے اور ان کے اپنے ارباب مجاز کے پی آئی او کو یہ پیش کریں۔ درخواست گزار کو اپنا نام اور پتہ فراہم کرنا ضروری ہے تاہم دیگر وجوہ یا معلومات حاصل کرنے کی توجیہ کی کوئی ضرورت نہیں۔

مرکزی معلوماتی کمیشن (سی آئی سی) ان شکایات پر کارروائی کرتا ہے جو ان اشخاص سے متعلق ہیں جو مرکزی عوامی معلومات افسر یا ریاستی عوامی معلومات افسر کو درخواستِ معلومات داخل کرپائے اس وجہ سے کہ افسر کا تعین نہیں کیا گیا یا متعلقہ مرکزی عوامی معلومات افسر یا ریاستی عوامی معلومات افسرنے درخواستِ معلومات قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ قانون درخواستوں کے جواب دینے کا وقت طے کرتا ہے:

  • اگر پی آئی او سے کوئی درخواست دی جائے، تو جواب حصول کے 30 دنوں کے اندر ہونا چاہیے۔
  • اگر اے پی آئی او سے کوئی درخواست کی جائے، تو جواب حصول کے 35 دنوں کے اندر ہونا چاہیے۔
  • اگر کوئی پی آئی او درخواست کو کسی اور ارباب مجاز کے سپرد کرے (جو درخواست کردہ معلومات سے زیادہ آشنا ہو)، تو جواب کے لیے اجازت 30 دنوں تک ہے، مگر وقت کی گنتی متعلقہ پی آئی او کی تاریخ حصول درخواست ہوگی۔
  • رشوت اور حفاظتی دستوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملوں میں (جو قانون کے دوسری فہرست کا حصہ ہیں) معلومات 45 دنوں میں فراہم کیے جا سکتے ہیں مگر اس کے لیے مرکزی معلوماتی کمیشن کی منظوری ضروری ہے۔
  • تاہم اگر کسی شخص کی زندگی اور آزادی کا معاملہ ہو، تو پی آئی او سے 48 گھنٹوں جواب کی امید کی جا سکتی ہے۔

چونکہ یہ معلومات ادائیگی پر مبنی ہیں، پی آئی او کا جواب لازمًا درخواست کے قبول سے انکار (کلی یا جزوی) اور/ یا "مزید اخراجات" بیان کر سکتا ہے۔ پی آئی او کی جانب سے جواب اور مزید اخراجات جمع کرنے کے درمیان کا وقت اجازت والے وقت سے مستثنٰی ہے۔

اگر اس وقت کے دوران معلومات فراہم نہیں کیے گئے، تب یہ درخواست کی نفی سمجھا جا سکتا ہے۔ عدم قبولیت وجوہ کے ساتھ یا ان کے بنا کسی اپیل یا شکایت کا سبب بن سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ مطلوبہ وقت میں معلومات کی عدم فراہمی کی صورت میں معلومات مفت فراہم کیے جانے چاہیے۔ اپیل کا طریقہ بھی تفصیل سے بیان کیا جانا گیا ہے۔

فیس[ترمیم]

ہر وہ شہری جو کچھ معلومات کسی عوامی ذمے دار سے حاصل کرنا چاہتا ہے، کے لیے ضروری ہے کہ وہ درخواست کے ساتھ ایک ڈیمانڈ ڈرافٹ یا بینکرز چیک یا انڈین پوسٹل آرڈر دس روپیے مالیت کا عوامی ذمے دار کو مطلوبہ معلومات کے لیے فیس کے طور پر دینے ہوں گے۔

درخواست گزار کو معلومات فراہم کرنے کے لیے مزید مزید درکار فیس کی تفصیلات درخواست گزار کو دے دی جائے گی۔[7]

مستثنیات[ترمیم]

مرکزی سراغ رسانی اور حفاظتی دستے جن کا کہ دوسری فہرست میں ذکر ہے جیساکہ انٹلی جنس پیورو، ناظم عمومی محصول آمدنی (تحقیقات)، را، سنٹرل بیورو آف انٹلی جنس، سنٹرل اکنامک انٹلی جنس بیورو، ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ، منشیات کنٹرول بیورو، ایوی ایشن ریسرج سنٹر، اسپیشل فرنٹئر فورس، بی ایس ایف، سی آر پی ایف، سی آئی ایس ایف، این ایس جی، آسام رائفلز، اسپشل سروس بیورو، اسپشل برانچ (سی آئی ڈی)، انڈمان اور نکوبار، کرائم برانچ، سی آئی ڈی، دادرا اور نگر حویلی، اسپشل برانچ، لکشدیب پولیس وغیرہ مستثنٰی ہیں۔ یہ استثنٰی قطعی نہیں ہے اور ان تنظیموں کو بھی ضروری ہے کہ مبینہ طور پر رشوت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی معلومات فراہم کریں۔ مزید یہ کہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے جڑی معلومات مرکزی یا ریاستی معلوماتی کمیشن کمیشن کی منظوری کے بعد ہی جاری کیے جا سکتے ہیں۔

معلومات کی مستثنیات[ترمیم]

مندرجہ ذیل قانون کی دفعہ 8 کے تحت مستثنٰی ہیں:

  • وہ معلومات جس کا افشا ملک کی خود مختاری اور سالمیت، حفاظت، ریاست کی "حکمت عملی، سائنسی یا معاشی مفاد، بیرونی ملک سے تعلقات یا کسی جرم کی انجام دہی میں معاون ہو۔
  • وہ معلومات جس کا اظہار بطور خاص کسی قانونی عدالت یا خصوصی عدالت نے ممنوع قرار دیا ہو یا جس کا افشا توہین عدالت کی تعریف میں آتا ہو۔
  • وہ معلومات جس کا افشا پارلیمانی یا ریاستی مقننہ کا افشا ہو۔
  • وہ معلومات جو تجارتی اعتماد، تجارتی رازداری یا فکری ملکیت (intellectual property) سے متعلق ہو اور جس کا افشا کسی فریق ثالث کے مسابقتی موقف کو نقصان پہنچا سکتا ہو، جب تک کہ متعلقہ ارباب مجاز اس بات سے مطمئن نہ ہوں کہ بلند تر عوامی مفاد میں اس طرح کی معلومات کا افشا ضروری ہے۔
  • وہ معلومات جو کسی شخص کو اعتماد کی وجہ سے حاصل ہو، تاوقتیکہ متعلقہ ارباب مجاز اس بات سے مطمئن نہ ہوں کہ کہ بلند تر عوامی مفاد میں اس طرح کی معلومات کا افشا ضروری ہے۔
  • وہ معلومات جن کا افشا کسی شخص کی زندگی، کسی شخص کی ذاتی حفاظت یا معلومات کے ماخذ کی شناخت کرتا ہو یا مدد جو اعتماد میں لیتے ہوئے قانون کے نفاذ یا صیانتی مقاصد کے تحت دی گئی تھی۔
  • وہ معلومات جو کسی تحقیقات کے عمل یا مجرمانہ خوف یا خاطیوں کی جرح کو روکیں۔
  • کابینی کاغذات جن میں مجلس وزراء، معتمدین اور افسر بھی شامل ہیں۔
  • وہ معلومات جو شخصی معلومات سے متعلق ہیں اور جن کا افشا کسی عوامی سرگرمی یا مفاد سے جڑا نہیں ہے یا جو غیر ضروری کسی فرد کی خلوت میں مداخلت کے مترادف ہو (مگر یہاں یہ جواز ہے کہ وہ معلومات جو پارلیمان یا ریاستی مقننہ کو دینے سے انکار نہیں کیے جا سکتے اس استثنٰی سے روکے نہیں جاسکتے)

ان اوپر درج مستثنیات کے باوجود عوامی ارباب مجاز معلومات فراہم کر سکتے ہیں اگر افشا کا مفاد عامہ محفوظ حقوق کے نقصان سے کہیں زیادہ ہو۔ تاہم یہ تجارتی رازوں پر نافذ نہیں ہوتا جن کا تحفظ قانون کرتا ہے۔

2019ء میں کی جانے والی تبدیلیاں[ترمیم]

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی نے 2019ء میں کچھ تبدیلیاں کی جن کی وجہ سے حق معلومات کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں رو نما ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک تبدیلی بھی یہ بھی رہی کہ مرکزی اور ریاستی انفارمیشن کمشنروں کی میعاد، ان کی تنخواہ اور ان کو محصلہ سہولتیں حکومت کے دائرہ اختیار میں کیے گئے۔ ترمیم سے پہلے عہدے کی میعاد یا تو 5 سال یا سبک دوشی کی عمر تھی۔ تاہم اب حکومت میعاد کو طے کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تنخواہوں کے تعین کا اختیار بھی اب حکومت کے دائرے میں آ گیا۔ اس ترمیمی بل کو بی جے پی راجیہ سبھا میں صادر نہیں کر سکتی تھی جہاں اس کے پاس عددی فوقیت نہیں تھی۔ تاہم رائے شماری کے دوران علاقائی جماعتیں جیسے کہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی، وائی ایس آر کانگریس اور بیجو جنتا دل نے حکومت کی پیش کردہ ترمیمی بل کی حمایت کر دی، حالانکہ ان ہی جماعتوں کے کچھ قائدین نے ترامیم پر اپنی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن قائدین نے اس ترمیمی بل پر مخالفت درج کی تھی، تاہم بل پر زیادہ بحث نہیں کی گئی اور اسے پاس کرنے پر کافی زور دیا گیا۔ ایسے میں سماجی فعالیت پسند شخصیات اور کچھ عام شہریوں نے صدر جمہوریہ رامناتھ کوویند کو خط لکھا کہ وہ اس بل کو اپنی منظوری نہ دیں کیونکہ اس سے عام آدمی کے اختیارات کم ہو جائیں گے۔[8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Private institutions, NGOs now come under RTI Act: Information Commissioner - KARNATAKA - The Hindu
  2. PTI۔ "Khurshid sounds warning note on RTI ruling"۔ The Hindu۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 4, 2013۔
  3. PTI۔ "Political parties under RTI: Congress rejects CIC order"۔ The Hindu Newspaper۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 4, 2013۔
  4. Vidya Subrahmaniam (12 اگست 2013)۔ "First-ever amendment to historic RTI Act tabled in Lok Sabha"۔ The Hindu۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 دسمبر 2014۔
  5. "Bill to amend RTI Act deferred to Winter Session". thehindubusinessline.com. Retrieved 13 September 2013.
  6. "Parliament panel backs Bill to keep parties out of RTI" Press Trust of India
  7. http://rti.gov.in/RTICorner/Guide_2013-issue.pdf
  8. chiefs of info panel condemn changes to RTI Act

خارجی روابط[ترمیم]