بھارتیہ جنتا پارٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھارتیہ جنتا پارٹی
مخفف بی جے پی
صدر امیت شاہ
پارلیمانی چیئرپرسن نریندر مودی
لوک سبھا رہنما نریندر مودی
(وزیر اعظم)
راجیہ سبھا رہنما ارون جیٹلی
(وزیر خزانہ)
تاسیس 6 اپریل 1980 (39 سال قبل) (1980-04-06)
پیشرو
صدر دفتر 6-اے، دین دیال اُپادھیائے مارگ، ماتا سُندری ریلوے کالونی، منڈی ہاؤس،
نئی دہلی 110002
اخبار کمل سندیش
یوتھ ونگ بھارتیہ جنتا یووا مورچا
خواتین وِنگ بی جے پی مہیلہ مورچا
کسان ونگ بے جے پی کسان مورچا
رکنیت 110 ملین (جولائی 2015)[1]
نظریات
سیاسی حیثیت دائیں بازو[9][10][11]
بین الاقوامی اشتراک
ای سی آئی حیثیت قومی جماعت[14]
اتحاد قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے)
لوک سبھا میں نشستیں
303 / 545
[15](موجودہ 541 ارکان + 1 اسپیکر)
راجیہ سبھا میں نشستیں
73 / 245
(موجودہ 244 ارکان)[16]
حکومت میں ریاستوں و یونین علاقوں کی تعداد
17 / 31
انتخابی نشان
Lotos flower symbol.svg
ویب سائٹ
www.bjp.org

بھارتیہ جنتا پارٹی (ہندی: भारतीय जनता पार्टी) المعروف "بی جے پی" بھارت کی ایک سیاسی جماعت ہے جو 1980ء میں قائم کی گئی۔ یہ اِس وقت (2009ء میں) بھارت کی حزب اختلاف قومی جمہوری اتحاد (نیشنل ڈیموکریٹک الائنس) کی سب سے اہم جماعت ہے اس اس کے بعد 2014 کے پارلیمانی الیکشن میں بڑی کامیابی کے بعد نریندر مودی کی قیادت میں اسنے مرکزی حکومت حاصل کرلی پھر یہ مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد کثیر ریاستوں کی حکمراں بن گئی۔ یہ جماعت کٹّر ہندو قوم پرستی (ہندوتوا) کی علمبردار ہے اور قدامت پسند سماجی حکمت عملیوں، خود انحصاری، قوم پرستانہ طرز عمل سے خارجہ حکمت عملی چلانے اور مستحکم قومی دفاع پر یقین رکھتی ہے۔

بی جے پی 1998ء سے 2004ء تک، دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے، اقتدار میں رہی اور اس عرصے میں اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم اور لعل کرشن ایڈوانی ان کے نائب رہے 2014 کی مرکزی حکومت حاصل کرنے کے بعد سے تادم تحریرنریندر مودی وزیر اعظم ہیں۔ اپنے قدامت پسندانہ نظریات کے باوجود بی جے پی پاکستان کے ساتھ قیام امن کی متعدد کوششیں کر چکی ہے جن میں 1999ء کا اعلان لاہور، 2001ء میں پرویز مشرف کا ناکام دورۂ بھارت اور 2004ء میں جنوبی ایشیائی آزاد تجارت کا معاہدہ اہم ہیں۔ تاہم بابری مسجد کے حوالے سے بی جے پی کے نظریات کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کیونکہ اس مسجد کے انہدام میں اس جماعت کے رہنما مبیّنہ طور پر ملوّث ہے - اس کے علاوہ یہ اس مسجد کی شہادت کے بعد اس مقام پر رام مندر کی تعمیر کے حق میں رائے رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ گجرات فسادات 2002ء میں بی جے پی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور چشم پوشی کے باعث سینکڑوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔

جماعت کے موجودہ صدر امیت شاہ ہیں جو 2014ء سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اس کے بانی صدر تھے جبکہ سابق نائب وزیر اعظم لعل کرشن ایڈوانی تین مرتبہ جماعت کی صدارت کے عہدے پر فائز رہے ہیں اس کے علاوہ راج ناتھ سنگھ اور نتن جے رام گڈکری اس کے دیگر صدور رہے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

بھارتیہ جنتا پارٹی، آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کی سیاسی بازو جن سنگھ کی موجودہ شکل ہے۔ 1977ء میں جن سنگھ کی حمایت سے جنتا پارٹی زیرِ اقتدار آئی۔ 1980ء میں اٹل بہاری واجپائی، لال کرشن اڈوانی اور بھیرون سنگھ شیکھاوت نے مل کر بھارتیہ جنتا پارٹی کو تشکیل دی۔ اس کا پہلا صدر اٹل بہاری واجپائی رہے۔

آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے ساتھ بی جے پی نے بھی رام جنم بھومی تنازع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بابری مسجد منہدم کر کے مندر کی تعمیر کی مانگ کی۔ 6 دسمبر1992 میں بی جے پی -آر ایس ایس - وشوا ہندو کے کارکنوں نے بابری مسجد کو منہدم کیا۔ اس کے بعد ملک کے مختلف حصّوں میں فرقہ وارانہ فسادات واقع ہوئے اور ایک ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔

1996ء میں انتخابات کے بعد بی جے پی کو 161 نشستیں ملیں اور گٹھ جوڑ کے توسّط سے 13 دن تک واجپائی نے وزیرِ اعظم کے عہدہ سنبھالا۔ لیکن اکثریت ثابت نہ کر سکا تو استعفی دینا پڑا۔ 1998ء کے انتخابات میں بی جے بی کا محاذ 182 نشستیں حاصل کر کے واجپائی دوبارہ عہدۂ وزیرِ اعظم پر فائز رہے۔ لیکن جیا للیتا کی قیادت والی جماعت نے انحراف کی تو حکومت گر گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. First Post 2015.
  2. "BJP stands by Hindutva ideals: Venkaiah Naidu"۔ دی ہندو۔ مورخہ 3 مارچ 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "Is Modi's India Safe for Muslims?"۔ فارین پالیسی۔ مورخہ 19 اکتوبر 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. Bonikowska، Monika (2014). India After The Elections. p. 2. http://www.csm.org.pl/en/analysis/category/53-2014?download=617:m-bonikowska-india-after-the-elections-inspirations-for-europe-vi-2014-eng. 
  5. McComas Taylor۔ Seven Days of Nectar: Contemporary Oral Performance of the Bhagavatapurana۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس۔ صفحہ 197۔
  6. Sunila Kale۔ Electrifying India: Regional Political Economies of Development۔ Stanford University Press۔ صفحہ 94۔
  7. Parsa Venkateshwar Rao Jr.۔ "Modi's right-wing populism"۔ Daily News and Analysis۔ مورخہ 1 جولائی 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 جون 2017۔
  8. Ruth Wodak۔ Right-Wing Populism in Europe: Politics and Discourse۔ A&C Black۔ صفحہ 23۔
  9. Malik & Singh 1992، صفحات۔ 318-336.
  10. BBC 2012.
  11. Banerjee 2005، صفحہ۔ 3118.
  12. Akhilesh Pillalamarri۔ "India's Bharatiya Janata Party Joins Union of International Conservative Parties — The Diplomat"۔ The Diplomat۔ مورخہ 28 فروری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  13. "International Democrat Union » Asia Pacific Democrat Union (APDU)"۔ International Democrat Union۔ مورخہ 16 جون 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جون 2017۔
  14. Election Commission 2013.
  15. "Members: Lok Sabha"۔ loksabha.nic.in۔ لوک سبھا سیکریٹریٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2019۔
  16. "STRENGTHWISE PARTY POSITION IN THE RAJYA SABHA"۔ Rajya Sabha۔ مورخہ 6 جون 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

بیرونی روابط[ترمیم]

بھارتیہ جنتا پارٹی کی باضابطہ ویب سائٹ