بھارت کے عام انتخابات، 2019ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھارت کے عام انتخابات، 2019ء

→ 2014 11 اپریل – 19 مئی 2019ء 2024 ←

لوک سبھا میں کُل 543 نشستیں
اکثریت کے لیے 272 نشستیں درکار
استصواب رائے
ٹرن آؤٹ 67.11% (Increase2.svg0.7%)

  پہلی بڑی جماعت دوسری بڑی جماعت
  PM Modi Portrait(cropped).jpg Rahul Gandhi Crop.jpg
قائد نریندر مودی راہل گاندھی
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی انڈین نیشنل کانگریس
اتحاد قومی جمہوری اتحاد متحدہ ترقی پسند اتحاد
قائد از 13 ستمبر 2013ء 11 دسمبر 2017
قائد کی نشست وارانسی امیٹھی
آخری انتخابات 282 نشستیں، 31.3% 44 نشستیں، 19.5%

Indian General Election 2019.svg
نقشہ میں لوک سبھا کے تمام حلقہ جات

وزیر اعظم قبل انتخاب

نریندر مودی
بھارتیہ جنتا پارٹی

وزیر اعظم بعد انتخاب

نریندر مودی
بھارتیہ جنتا پارٹی

بھارت کے عام انتخابات، 2019ء سترہویں لوک سبھا کو تشکیل دینے کے لیے 11 اپریل تا 19 مئی 2019ء سات مراحل میں مکمل ہوئے۔ ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو ہوئی اور اسی دن نتائج کا اعلان بھی ہو گیا۔[1][2][3][4] ووٹروں کی کل تعداد تقریباً 900 ملین تھی جنہوں نے 7 مراحل میں حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ کل 67 فیصد رائے دہندگان ووٹ دینے میں کامیاب رہے اور یہ بھارتی انتخابات کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔[5] خواتین کی شرکت کے لحاظ سے بھی یہ انتخابات تاریخ ساز رہے ہیں۔[6][note 1] بھارتی الیکشن کمیشن کی اطلاع کے مطابق پہلے 24 گھنٹوں کی گنتی کے بعد لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے 542 کے نتائج سامنے آئے جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 294 نشستوں پر کامیابی ملی اور مزید 9 نشستوں پر وہ آگے چل رہی ہے۔ اس طرح بی جے پی کی نشستوں کی کل تعداد 303 بنتی ہے۔[8] انڈین نیشنل کانگریس محض 52 نشستوں پر سمٹ گئی۔ ان دونوں جماعتوں کی اتحادی پارٹیاں اور دیگر غیر متحد پارٹیاں باقی 187 نشستوں پر یا تو جنیت چکی تھیں یا آگے چل رہی تھیں۔ لوک سبھا میں رسمی طور پر حزب اختلاف کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم دس فیصد نشست یا 55 نشستوں پر جیتنا ضروری ہے۔ سب سے بڑی حزب مخالف جماعت انڈین نیشنل کانگریس ایک بار پھر حزب مخالف کا درجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فی الحال بھارت میں کوئی رسمی حزب مخالف جماعت نہیں ہے۔ نریندر مودی نے اپنی فتح کا اعلان کر دیا ہے۔[9] وہیں راہل گاندھی نے بھی شکست تسلیم کرلی ہے۔[10]

آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، اوڈیشا اور سکم اسمبلی انتخابات بھی عام انتخابات کے ساتھ منعقد ہوئے۔[11][12]

انتخابی نظام[ترمیم]

باضابطہ لوگو – دیش کا مہاتیوہار

لوک سبھا کے 543 ارکان (پارلیمان) الگ الگ نششتوں سے منتخب ہو کر آئیں گے۔ صدر بھارت اینگلو انڈین کے ارکان نامزد کرے گا اور اس طرح لوک سبھا میں کل 545 ارکان ہوں گے۔[13] انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے ؛

  • بھارت کا شہری ہونا،
  • 18 سال کی عمر کو پہونچنا اور
  • پولنگ حلقہ کا رہائشی ہونا

ضروری ہے۔ ووٹ ڈالنے کے لیے اہل شہرہ کو بھارتی الیکشن کمیشن ایک شناختی کارڈ جاری کرتا ہے۔ جس کے پاس کارڈ نہ ہو اسے ووٹ ڈالنے نہیں دیا جاتا ہے۔[14]

پس منظر[ترمیم]

گزشتہ انتخابات 16ویں لوک سبھا کے لیے اپریل-مئی 2014ء کو منعقد ہوئے تھے۔ 2014ء میں موجودہ وزیر اعظم بھارت نریندر مودی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد کے زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابات جیتے تھے اور انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند اتحاد کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گزشتہ انتخابات اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ کسی ایک پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کو 282 نششتیں ملی تھیں جو اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے جبکہ انڈین نیشنل کانگریس محض 44 نشستوں پر سمٹ گئی تھی۔ اس لحاظ سے یہ انتخاب میل کا پتھر ثابت ہوا تھا۔ اس جیت کا ہیرو موجودہ وزیر اعظم کو بتایا جاتا ہے جنہوں نے اپنے وعدوں سے عوام کا دل جیت لیا تھا۔ اس انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم بھی قابل دید تھی جس میں انہوں نے بد عنوانی، بے روزگاری اور مہنگائی کو مدعا بنایا تھا۔[15] دیکھیں ٰبھارت کے عام انتخابات 2014ء، میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم۔ کچھ عرصہ قبل نریندر مودی بھی قبل از انتخابات کرانے کے موڈ میں تھے مگر اٹل بہاری واجپائی کے واقعے سے سبق لیتے ہوئے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔[16] مارچ 2019ء کے پہلے ہفتہ میں بھارتی الیکشن کمیشن انتخابی تاریخوں کا اعلان کرے گی۔[17]

انتخابات کی تاریخیں[ترمیم]

Election Dates of Indian General Election, 2019
تاریخیں
مرحلہ تاریخ تعداد حلقہ جات صوبے اور یونین علاقے
1 11 اپریل 91 20 آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، جموں و کشمیر، مہاراشٹر، میزورم، منی پور، ناگالینڈ، اوڈیشا، سکم، تلنگانہ، تریپورہ، اترپردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، انڈمان و نکوبار، لکشادیپ
2 18 اپریل 97 13 آسام، بہار، چھتیس گڑھ، منی پور، جموں اور کشمیر، کرناٹک، مہاراشٹرا، اوڈیشا، تمل ناڈو، تریپورہ، اترپردیش، مغربی بنگال، پدوچیری
3 23 اپریل 115 14

آسام، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، گوا، جموں و کشمیر، مہاراشٹر، اوڈیشا، کرناٹک، کیرلا، تریپورہ، اترپردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، دادرا و نگر حویلی، دمن و دیو

4 29 اپریل 71 9 بہار، جموں اور کشمیر، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیس، مہاراشٹرا، اوڈیشا، راجستھان، اترپردیش، مغربی بنگال
5 6 مئی 51 7 بہار، جموں و کشمیر، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، اترپردیش، مغربی بنگال
6 12 مئی 59 7 بہار، ہریانہ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، اترپردیش، مغربی بنگال، دہلی
7 19 مئی 59 8 بہار، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، پنجاب، مغربی بنگال، چندی گڑھ، اترپردیش
تمام صوبہ جات میں انتخابی حلقہ جات بلحاظ انتخابی جماعت
ریاست/یونین علاقہ کُل
حلقہ جات
انتخاب کی تاریخ اور حلقوں کی تعداد
مرحلہ 1 مرحلہ 2 مرحلہ 3 مرحلہ 4 مرحلہ 5 مرحلہ 6 مرحلہ 7
11 اپریل 18 اپریل 23 اپریل 29 اپریل 6 مئی 12 مئی 19 مئی
آندھرا پردیش 25 25
اروناچل پردیش 2 2
آسام 14 5 5 4
بہار 40 4 5 5 5 5 8 8
چھتیس گڑھ 11 1 3 7
گوا 2 2
گجرات 26 26
ہریانہ 10 10
ہماچل پردیش 4 4
جموں و کشمیر 6 2 2 13[n 1] 13[n 1] 113[n 1]
جھارکھنڈ 14 3 4 4 3
کرناٹک 28 14 14
کیرلا 20 20
مدھیہ پردیش 29 6 7 8 8
مہاراشٹر 48 7 10 14 17
منی پور 2 1 1
میگھالیہ 2 2
میزورم 1 1
ناگالینڈ 1 1
اوڈیشا 21 4 5 6 6
خطۂ پنجاب 13 13
راجستھان 25 13 12
سکم 1 1
تمل ناڈو 39 38[n 2]
تلنگانہ 17 17
تریپورہ 2 1 1
اتر پردیش 80 8 8 10 13 14 14 13
اتراکھنڈ 5 5
مغربی بنگال 42 2 3 5 8 7 8 9
جزائر انڈمان و نکوبار 1 1
چندی گڑھ 1 1
دادرا و نگر حویلی 1 1
دمن و دیو 1 1
دہلی 7 7
لکشادیپ 1 1
پدوچیری 1 1
حلقہ جات 543 91 95 11613 7113 5013 59 59
ساتوں مراحل کے اختتام پر کل نشستوں کی تعداد 91 186 30213 37323 424 483 542[n 2]
Percent complete by end of Phase 17% 34% 56% 69% 78% 89% 100%
  1. ^ ا ب پ Polling in Anantnag was scheduled over three days.
  2. ^ ا ب ویلور میں رائے شماری منسوخ ہو گئی۔

منسوخی اور دوبارہ ووٹنگ[ترمیم]

  • ویلور، تمل ناڈو: ڈی ایم کے کے ایل لیڈر کے پاس 11 کرور روپئے برآمد ہوئے۔ یہ ووٹروں کو رشوت دینے کی خاطر لے جائے جا رہے تھے۔[18] چھاپہ ماری کے دوران ملے ثبوت کی بنیاد الیکشن کمیشن نے ویلور انتکابی حلقہ میں 18 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کو منسوخ کر دیا۔ ڈی ایم کے نے اسےایک سازش قرار دیا اور کسی بھی طرح کے جرم سے صاف انکار کیا ہے۔[19]
  • مشرقی تریپورہ، تریپورہ : یہاں بھارتی الیکشن کمیشن نے لا اینڈ آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹنگ کی تاریخ 18 سے 23 اپریل کردی۔ اسپیشل پولس کی اطلاعات کے مطابق 18 اپریل کو انتخابات کروانا مناسب نہیں تھا۔[20]

انتخابی مہم[ترمیم]

12 جنوری 2019ء کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ مودی دوسرے دور کا عزم لیے ہوئے ہیں۔[21] سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی اور بی جے پی ایک مرتبہ پھر ہندو قومیت کی بنیاد پر انتخاب لڑنے جا رہے ہیں۔ واضح ہو کہ ہندو قومیت کے سیلاب میں روزگار اور معاشی ترقی جیسے مُدعے غائب ہو جاتے ہیں۔[22][23] اسی دن بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھیلیش یادو نے اپنا اتحاد بنایا اور اتر پردیش کی 80 لوک سبھا نشستوں میں سے 78 پر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ دو نشستیں انہوں نے راہل گاندھی (امیٹھی) اور سونیا گاندھی (رائے بریلی کے لیے چھوڑ دیں۔ اس اتحاد میں کانگریس کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ مایاوتی اپنے اس فیصلے کا بچاو کرتے ہوئے کہتی ہیں ”کانگریس کو شامل کر کے ہمارا اتحاد نقصان میں ہو گا کیونکہ اس سے ووٹ بنٹ جائیں گے۔“ 25 سال قبل 1993ء میں بھی ایسا ہی اتحاد دیکھنے کو ملا تھا۔[24]

مدعے[ترمیم]

سرکاری اداروں کا بیجا استعمال[ترمیم]

انتخابی مہم کے دوران مخالف پارٹیوں نے این ڈی اے پر سرکاری اداروں اور عہدہ کا ذاتی استعمال کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی اور این ڈی اے نے جمہوریت کی روح کو مجروح کیا ہے۔ ممتا بنرجی اس موضوع پر کھل کر مخالفت کی۔[25] جوابًا مودی نے اسے ایک مذاق سے تعبیر کیا۔ انہوں نے خود کانگریس اور کمیونسٹوں نے پولیس، سی بی آئی اور سی اے جی سمیت کئی سرکاری اداروں کا بے جا فائیدہ اٹھایا کیا اور ذاتی مصرف کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے کیرلا اور مدھیہ پردیش می بے جے پی کارکنان کی موت کا بھی حوالہ دیا۔[26] بر سر اقتدار وزیر اعظم کے راست نام سے نمو ٹی وی چینل کا شروع ہونا اور اس کا مختلف زمروں میں ڈی ٹی ایچ کمپنیوں کی جانب سے دکھایا جانا بھی ایک موضوع نزاع بن گیا۔

معاشی مسائل[ترمیم]

دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق موجودہ این ڈی اے کی حکومت کی کامیابیوں میں افراط زر کا سے کم 4 فیصد ہونا، جی ایس ٹی کی اصلاحات وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے کئی معاشی فیصلوں نے بھارت کی اکثر آبادی کو برہ راست فائدہ پہونچایا ہے۔ جیسے جن دھن یوجنا، دیہی علاقوں میں پکانے والی گیس اور بجلی کی فراہمی وغیرہ۔[27] بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق بھارت کی معیشت ان دنوں تیزی سے ترقی کررہی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں بھارت کی جی ڈی پی سب سے زیادہ ہے۔ مالیاتی سال 2019ء-2020ء اور 2020ء-2021ء میں بھارت سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔ اس دوران میں جی ڈی پی 7.3 کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔[28][29][30] مگر بھارت کے کئی معاشی ادارے، سماجی ادارے، ماہرین اقتصادیات اور مخالف جماعتوں نے جی ڈی پی کے تعلق تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان نمبرات کو غلط بتایا ہے۔[27][31]

کاشت کاری اور کسان[ترمیم]

کسانوں کو اناج کی قیمتیں کم ملنا اور ان کی ترقی میں رکاوٹ کی وجہ سے عوام حکومت سے سخت ناراض ہے۔[32][33] اور ملک بھر میں وسیع پیمانے پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں۔[34][35][36][37] مرکزی حکومت نے عوام کے غصہ کو کم کرنے کے لیے اناج کی ایک قیمت متعین کی مگر اس کا نفاذ حکومت کے لیے ٹھیڑھی کھیر ثابت ہورہا ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ اب کافی گرما گیا ہے اور عوام اور کسانوں کے بیچ اب بحث کا مُدعا بنتا جا رہا ہے۔[38][39][40][41][42] بھارت کے عبوری بجٹ، 2019ء میں حکومت نے پی ایک کسان اِسکیم کا اعلان کیا جس کی رو سے ہر چھوٹے کسان کو سالانہ 6000 روپئے ملیں گے،[43][44] لیکن ملک کے مختلف حصوں میں حکومت کے اس قدم کو ناکافی بتایا گیا ہے۔[45][46][47][48][49][50][51] حکومت کی اسکیموں سے ناراض کسانوں نے 14 فروری 2019ء کو بند کا اعلان کیا۔[52] حکومت مغربی بنگال سے آل انڈیا ترنمول کانگریس اور حکومت مدھیہ پردیش سے انڈین نیشنل کانگریس نے پی ایم کسان اسکیم کی سخت مخالفت کی ہے۔[53]

راہل گاندھی نے وعدہ کیا ہے کہ اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو کسانوں کے قرض معاف کر دیے جائیں گے۔[54] وزیر اعظم مودی نے اسے ووٹ حاصل کرنے والا جملہ قرار دیا ہے۔[55]

نوکریوں میں کمی[ترمیم]

بھارت میں بے روزگاری مسلمل بڑھ رہی ہے۔[56] بھارت میں 500 اور 1000 کے نوٹوں کا اسقاط زر کی وجہ سے 1.5 ملین نوکریاں ضائع ہو گئی ہیں۔[57] نئے ٹیکس کے نظام نے بھی بے روزگاری اور نوکری کی میں اپنا منفی کردار ادا کیا ہے۔[58][59]

7 فروری 2019ء کو مرکزی حکومت نے نوکریوں کی کمی کا انکار کیا ہے۔[60] وزیر اعظم نے دعوی کیا ہے کہ نوکریوں کی کمی نہیں ہے البتہ اعداد و شمار صحیح پیش نہیں کیے جا رہے ہیں۔[61][62] سی ایم آئی ای کے واضح کیا ہے کہ محض 2018ء میں 11 ملین نوکریاں ضائع ہوئی ہیں۔[63] حکومت بے روزگاری کی سرکاری رپورٹ شائع کرنے میں تاخیر سے کام لے رہی ہے۔[64] قومی کمیشن برائے اعداد و شمار کے صدر نشین نے یہ کہتے ہوئے استعفی دے دیا ہے کہ حکومت نے سال 2017ء-2018ء کی بے روزگاری کی رپورٹ شائع نہیں ہونے دی۔[65] ان کے علاوہ کئی سرکاری افسران نے بھی حکومت پر ان کو کام نہ کرنے دینے کا الزام لگاتے ہوئے احتجاجا استعفی دے دیا ہے۔ اسی دوران میں ایک رپورٹ لیک ہو گئی جس میں لکھا ہے کہ سال 2017ء-2018ء بے روزگاری گزشتہ 45 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔[66] حالانکہ حکومت یہ کہ کر پلہ جھاڑ رہی ہے یہ رپورٹ حتمی نہیں ہے۔[67] لیکن چیرمین کا دعوی ہے کہ حکومت رپورٹ کو چھپانا چاہتی ہے۔[68] کمیشن کے ایک سابق چیرمین نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ کمیشن کی منظور کردہ رپورٹ کہ حتمی ہے۔[69] 7 فروری 2019ء کو تقریباً 30 ہزار نوجوانوں نے قومی دارالحکومت علاقہ دہلی میں “ینگ انڈیا ادھیکار“ مارچ نکالا اور نوکریوں میں کمی کی وجہ سے حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔[70]

حکومتی اداروں اور کام کاج کا غلط استعمال[ترمیم]

مخالف پارٹیوں نے موجودہ مرکزی حکومت پر حکومتی اداروں اور کام کاج کو بے جا اور غلط استعمال کا الزام لگایا ہے۔ ان کا دعوی ہے موجودہ حکومت تمام اداروں میں اپنی من مانی کرتی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت نے عدلیہ[71]، پارلیمان [72]، میڈیا، [73] ریزرو بینک آف انڈیا،[74] سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن[75][76] اور قانون حق معلومات، 2005ء، [77][78] کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ان کے کام کاج کے طریقہ کار کو نظر اندان کرتے ہوئے اپنا حکم چلانے کی کوشش کی ہے۔[79]

3 فروری و2019ء کو آل انڈیا ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے کولکاتا میں ”دستور بچاو تحریک“ دھرنا دیا۔[80] ان کا الزام تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ نے مغربی بنگال میں ایک پولیس افسر کے ساتھ زیادتی کی ہے۔[81] بی جے پی کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی بدعنوانی کو چھپانے کے لیے دھرنا دے رہی ہیں۔[82] حالانکہ انڈین نیشنل کانگریس، عام آدمی پارٹی، تیلگو دیشم پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، جموں اور کشمیر نیشنل کانفرنس، مکل نیدھی مایم اور ڈراوڈا منیترا کژگم نے ممتا بنرجی سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔[83] ترنمول کانگریس اور بی جے پی کا جھگڑا بھارتی عدالت عظمیٰ کے ایک فیصلہ سے ختم ہوا جسے دونوں پارٹیاں اپنی فتح بتا رہی ہیں۔[84]

بابری مسجد اور رام مندر[ترمیم]

بی جے پی علی الاعلان رام مندر کی تائید کرتی ہے اور اسے بنانے کی وکالت کرتی ہے۔گزشتہ انتخابات میں بھی بی جے پی ایودھیا میں موجود ایودھیا تنازع کو انتخابی مہم میں استعمال کیا تھا اور رام مندر بنانے کا دعوی کیا تھا جسے وہ شرمندہ تعبیر نہ کرسکے۔ اس مرتبہ بھی ہندو ووٹ حاصل کرنے کے لیے نریندر مودی اور اتر پردیشکے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ رام مندر کی حمایت میں زبردست مہم چلانے والے ہیں۔[85][86][87]

رافیل تنازع[ترمیم]

اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت پر رافیل معاملے میں زیادہ قیمت اور ایک خاص کمپنی کو فائدہ پہونچانے کا الزام لگایا ہے۔[88][89] حکومت وقت نے اسے سراسر بے بنیاد الزام بتایا ہے۔[90] اس معاملہ میں بھارتی عدالت عظمیٰ نے بھارت کے مفاد عامہ مقدمات یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ رافایل معاملہ میں تمام رسمی کارروائیاں کی گئی ہیں اور انل امبانی کو فائدہ نہیں پہنچایا گیا ہے۔[91] حالانکہ اس فیصلہ کی چوطرفہ تنقید ہقئی کیونکہ اس میں بھارتی ناظر حسابات و محاسب عام اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کے رپورٹس کو نظر انداز کیا گیا ہے حتی کہ ان کی تفتیشوں کو بھی شمال نہیں کیا گیا ہے۔[92][93] کانگریس کا دعوی ہے کہ حکومت نے عدالت کو گمراہ کیا ہے اور کیگ کی رپورٹ پر بھی سوالہ نشان کھڑا کیا ہے۔[94] حکومت نے کہا ہے کہ اس نے عدالت کو گمراہ نہیں کیا ہے [95] بلکہ عدالت حکومت کی بات نہیں سمجھ پائی۔[96]حکومت نے عدالت سے فیصلہ پر نطر ثانی کرنے کی درخواست کی ہے۔[97] 2 جنوری 2019ء کو عدالت میں اس فیصلہ پر نطر ثانی کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔[98] عام آدمی پارٹی نے بھی 14 جنوری کے فیصلہ پر نطر ثانی کرنے کی درخواست کی ہے۔[99] کانگریس پارلیمان کا مشترک اجلاس کی مانگ کررہی ہے تاکہ اس مسئلہ پر تحقیق کی جا سکے۔[100][101] کانگریس نے اس معاملہ کو انتخابی مدعا بنایا ہے اور نریندر مودی اور بی جے پی ہر زبردست لفظی حملے کیے ہیں۔[102][103] کانگریس کا دعوی اس وقت مزید مضبوط ہو گیا جب دی ہندو اخبار نے خبر شائع کی کہ وزیر اظم نریندر مودی نے رافایل بات چیت کو نطر انداز کرتے ہوئے خود متوازی گفتگو کا انعقاد کیا۔[104][105] وزیر دفاع نرملا سیتارمن نے کانگریس کے دعوی کو جھوٹا بتایا ہے۔[106] ایک اور رپورٹ مطابق سابق وزیر دفاع منوہر پاریکرکا نام بھی سامنے آیا ہے۔[107]

اتحاد[ترمیم]

Results of the election by alliance

قومی جمہوری اتحاد[ترمیم]

2019ء کے عام انتخابات کے لیے قومی جمہوری اتحاد کی فہرست:

جماعت گڑھ نشستیں
لڑا جیتا
بھارتیہ جنتا پارٹی[108] کچھ ریاستیں
جنتا دل (متحدہ)[108] بہار 17
شرومنی اکالی دل[108] پنجاب 10
لوک جن شکتی پارٹی[108] بہار 6
شیو سینا[109] مہاراشٹر 23
آل انڈیا انا ڈراوڈا منیترا کژگم[110] تمل ناڈو
پاٹالی مکل کچی[110] تمل ناڈو 7
آل انڈیا این آر کانگریس پونڈیچیری 1
قومی جمہوری اتحاد 543 اعلان ہونا باقی

متحدہ ترقی پسند اتحاد[ترمیم]

جماعت گڑھ نشستیں
لڑا جیتا
انڈین نیشنل کانگریس[111] کچھ نشستیں
راشٹروادی کانگریس پارٹی[111] کچھ نشستیں 24
جھارکھنڈ مکتی مورچہ[112] جھارکھنڈ 4
جھارکھنڈ وکاس مورچا (پرجاتانترک)[112] جھارکھنڈ 2
راشٹریہ جنتا دل بہار
ڈراوڈا منیترا کژگم تمل ناڈو
مرومالرچھی ڈراوڈا منیترا کژگم تمل ناڈو
ویڈوتلئی سیروتائیگل کچی تمل ناڈو
انڈین یونین مسلم لیگ تمل ناڈو 1
متحدہ ترقی پسند اتحاد 543 اعلان ہونا باقی

مہا گٹھ بندھن[ترمیم]

جماعت گڑھ نشستیں
لڑا جیتا
بہوجن سماج پارٹی [113] اترپردیش 38
سماجوادی پارٹی[113] اترپردیش 38

عوامی استصواب رائے[ترمیم]

عمومی انتخابات کا بگل بجتے ہی بہت سی تنظیمیں بھارت کا انتخابی رجحان جاننے کے لیے استصواب رائے شروع کر دیتی ہیں اور فہرست میں ان کے نتیجے دکھائے جاتے ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات (2014) کے تین استصواب رائے جو اپریل اور مئی کے درمیان میں ہوئے تھے، کی فہرست حسب ذیل ہے:

تاریخ استصواب رائے ایجنسی این ڈی اے دیگر یو پی اے بڑھت
مئی 2018 اے بی پی نیوز- سی ایس ڈی ایس 274 105 164 110
جنوری 2018 ریپبلک- سی ووٹر 335 119 89 216
جنوری 2018 انڈیا ٹوڈے 309 132 102 177
جنوری 2018 اے بی پی نیوز- سی ایس ڈی ایس 301 115 127 174
اگست 2018 انڈیا ٹوڈے 349 119 75 230
جنوری 2018 انڈیا ٹوڈے 370 123 60 237
اگست 2018 انڈیا ٹوڈے 304 145 94 159
فروری 2018 انڈیا ٹوڈے 286 147 110 139
اگست 2018 انڈیا ٹوڈے 288 174 81 114
اپریل-مئی 2018 نتیجہ برائے عمومی انتخابات 336 147 60 189

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "EC may announce Lok Sabha election schedule in مارچ first week: Sources – Times of India"۔ The Times of India۔
  2. Scroll Staff۔ "2019 General Elections: Voting to be held in 7 phases from اپریل 11 to مئی 19, counting on مئی 23"۔ Scroll.in (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2019۔
  3. "Lok Sabha Election 2019 Dates Schedule LIVE, Assembly Elections Dates For Andhra Pradesh, Odisha, Sikkim, Arunachal Pradesh, 2019 Election Date Time for Polling, Counting and Results"۔ timesnownews.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2019۔
  4. "Lok Sabha elections will begin on اپریل 11 and polling will be held over seven phases through مئی 19, followed by counting of votes on مئی 23. Lok Sabha Election 2019 : Key Dates, Live News Updates, Election Calendar."۔ english.manoramaonline.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 مارچ 2019۔
  5. At 67.1%، 2019 turnout's a record: Election Commission، The Times of India (20 مئی 2019)
  6. Polls Are Closed in India’s Election: What Happens Next?، The New York Times، Douglas Schorzman and Kai Schultz (19 مئی 2019)
  7. Women turn out in greater numbers than in previous elections، The Economic Times، Aanchal Bansal (20 مئی 2019)
  8. "India Election Results: Modi and the B.J.P. Make History"۔ NYT۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2019۔
  9. "Election Results LIVE – Lok Sabha Election: PM Modi dedicates victory to nation, vows to take even rivals along"۔ Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2019۔
  10. Revathi Hariharan؛ Stela Dey۔ "People Of India Have Decided, I Respect That: Rahul Gandhi Concedes Defeat In Amethi Against Smriti Irani: Live Updates"۔ NDTV۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2019۔
  11. "Assembly polls in 4 states with Lok Sabha elections but not in J&K- Malayala Manorama"۔ english.manoramaonline.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 مارچ 2019۔
  12. "Lok Sabha elections 2019: Congress MP favours more seats for RJD in Bihar" (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 ستمبر 2018۔
  13. Electoral system IPU
  14. "General Voters"۔ Systematic Voters' Education and Electoral Participation (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-04۔
  15. (پی‌ڈی‌ایف) https://www.bjp.org/images/pdf_2014/full_manifesto_english_07.04.2014.pdf۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 فروری 2019۔ |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  16. Vijaita Singh۔ "General election will be held in 2019 as per schedule, says Rajnath Singh"۔ The Hindu (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0971-751X۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-04۔
  17. https://www.loksabhaelections.in/news/lok-sabha-election-2019-dates-to-be-announced-by-مارچ-first-week-mostly۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 فروری 2019۔ |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  18. "Election cancelled in Vellore Lok Sabha seat after money seized from DMK leaders"۔ The News Minute۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-04-17۔
  19. "Lok Sabha polls in Vellore cancelled due to use of money power"۔ The Economic Times۔
  20. "Polling in Tripura East deferred to اپریل 23"۔ The Hindu (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0971-751X۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-04-18۔
  21. "Country has to decide what kind of 'pradhan sevak' it wants: PM Modi – Times of India"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-12۔
  22. https://www.aei.org/publication/modis-india-doubles-down-on-hindu-nationalism/
  23. https://www.bloomberg.com/news/features/2019-01-30/narendra-modi-s-big-play-for-india-s-heartland-could-backfire
  24. Sayantan Bera۔ "Low food inflation doesn't bode well for farmers"۔ https://www.livemint.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔ External link in |website= (معاونت)
  25. "Mamata's Opposition rally top quotes: 'One ambition — save India, save democracy'"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-03-14۔
  26. T Ramavarman۔ "Opposition united only for corruption, undermining institutions, alleges PM Modi"۔ Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2019۔
  27. ^ ا ب SWOT analysis shows NDA well ahead of UPA، The Times of India, SA Aiyar (14 اپریل 2019)
  28. Narendra Modi's Challenge In India's Upcoming Elections، The Forbes, Harry Broadman (29 مارچ 2019)
  29. India to be global growth leader in 2019–20: IMF، India Today (22 جنوری 2019); At 7.5%، 7.7% India to be top growing economy in 2020: IMF، The Hindu (21 جنوری 2019)
  30. India: Report، International Monetary Fund (2019)
  31. 131 accountants from India just responded to the open letter from economists and social scientists challenging official GDP data، Business Insider, D Dhillon (18 مارچ 2019)
  32. Aparna Iyer۔ "Agrarian crisis clear & present danger for Indian economy"۔ https://www.livemint.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔ External link in |website= (معاونت)
  33. "India's deepening farm crisis: 76% farmers want to give up farming, shows study"۔ downtoearth.org.in (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  34. "Why the farmers have stormed Delhi, what they want"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  35. "Why Maharashtra's farmers are protesting and why Mumbaikars are supporting them: 10 points – Times of India ►"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  36. "Farmers' protest 2nd day live: Haryana CM stirs controversy"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  37. "PM Modi hails 'historic increase in MSP'، Congress calls it jumla"۔ dna (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  38. "Does Modi govt's hike in MSP really help farmers?- Business News"۔ businesstoday.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  39. Himanshu۔ "Will the MSP increase for kharif crops reduce India's agrarian distress?"۔ https://www.livemint.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔ External link in |website= (معاونت)
  40. "In MP & Rajasthan, Farmers Not Getting MSP"۔ NewsClick (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  41. "Modi Government's 'Historic' MSP Hike Is Nothing More Than a Band-Aid for Farmers"۔ The Wire۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  42. "Eye on Lok Sabha polls, a populist Budget 2019 was the only option for Modi govt"۔ The Financial Express۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  43. "Eye on elections, Centre for early roll out of direct benefit scheme"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  44. "What farmers have to say about Modi government's income support scheme"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  45. "What farmers have to say about Modi government's income support scheme"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  46. "Interim Budget 2019: Government's big farmer push falls short"۔ downtoearth.org.in (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  47. https://www.facebook.com/Millennium-Post-1121157364607635۔ "Western UP farmers unhappy"۔ millenniumpost.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  48. "Rs 6,000 is 6% of a small farmer's annual income, according to NSSO data"۔ https://www.hindustantimes.com/ (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔ External link in |website= (معاونت)
  49. "Budget 2019: Farmer payout Rs 6,000 won't cost much but won't mean much either"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  50. "Rs 6,000 is lollipop, Telangana model better, say farmers – Times of India"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  51. "Maharashtra CM hails Budget, Opposition calls it mere 'jumla' & 'lollipop'"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  52. Sutanuka Ghosal؛ P. K. Krishnakumar۔ "West Bengal and Madhya Pradesh question merits of PM-KISAN"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  53. "Rahul Gandhi slams govt's cash transfer scheme, promises farm loan waiver across India"۔ https://www.hindustantimes.com/ (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔ External link in |website= (معاونت)
  54. "Farm loan waiver promise a Congress 'gimmick' to win votes: Modi"۔ The Week (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  55. Suneera Tandon؛ Suneera Tandon۔ "India's stunning economic growth is hiding a staggering job crisis"۔ Quartz India (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  56. Michael Safi۔ "Demonetisation drive that cost India 1.5m jobs fails to uncover 'black money'"۔ The Guardian (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0261-3077۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  57. "Dip in jobs, profits for MSMEs; noteban, GST to blame: Survey"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  58. "Job loss! Demonetisation, GST led to dip in jobs, profits for MSMEs, traders: AIMO survey"۔ The Financial Express۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-02۔
  59. "Modi Government is in Deep Denial Over India's 'Jobless Growth' Crisis"۔ The Wire۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  60. "Jobs not lacking, issue is lack of data on jobs, says PM Modi"۔ https://www.hindustantimes.com/ (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔ External link in |website= (معاونت)
  61. "Modi Claims The Job Crisis Is Actually A Data Crisis"۔ HuffPost India (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  62. "India lost 11 million jobs in 2018, rural areas worst hit: CMIE"۔ businesstoday.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  63. New DelhiOctober 8؛ 2018UPDATED: اکتوبر 8؛ 2018 17:12 Ist۔ "Government delays in releasing unemployment survey report"۔ India Today (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  64. "Govt sits on post-noteban jobs report, two top statistics panel members quit"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  65. "India's unemployment rate hit four-decade high of 6.1% in 2017–18, says NSSO survey"۔ businesstoday.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  66. "Jobs data not finalised: Government after NSSO 'Report'"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  67. "Resignation of NSC members exposes government's unwillingness to tackle unemployment"۔ businesstoday.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  68. Somesh Jha۔ "Unemployment rate at four-decade high: NSSO survey compared past figures"۔ Business Standard India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  69. Archis Mohan۔ "Thousands of youth converge in National Capital to protest lack of jobs"۔ Business Standard India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-07۔
  70. "'Muzzling of Democratic Institutions': Congress Attacks Modi After SC Brings Back CBI Chief"۔ News18۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  71. Shayan Ghosh۔ "RBI deputy governor bats for its independence"۔ https://www.livemint.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔ External link in |website= (معاونت)
  72. Shayan Ghosh۔ "RBI deputy governor bats for its independence"۔ https://www.livemint.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔ External link in |website= (معاونت)
  73. Shayan Ghosh۔ "RBI deputy governor bats for its independence"۔ https://www.livemint.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔ External link in |website= (معاونت)
  74. Shayan Ghosh۔ "RBI deputy governor bats for its independence"۔ https://www.livemint.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔ External link in |website= (معاونت)
  75. Munish Ch؛ ra P؛ ey New DelhiNovember 19؛ 2018UPDATED: نومبر 20؛ 2018 06:08 Ist۔ "CBI war gets murkier, senior officer claims NSA Ajit Doval interfered in Asthana probe"۔ India Today (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  76. "The Modi Govt Is Trying To Destroy The RTI Act. That's Dangerous For Democracy"۔ HuffPost India (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  77. "Mamata's Opposition rally top quotes: 'One ambition — save India, save democracy'"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  78. Munish Ch؛ ra P؛ ey New DelhiNovember 19؛ 2018UPDATED: نومبر 20؛ 2018 06:08 Ist۔ "CBI war gets murkier, senior officer claims NSA Ajit Doval interfered in Asthana probe"۔ India Today (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  79. "Mamata Banerjee begins dharna, says PM Modi, Amit Shah plotting coup in Bengal"۔ https://www.hindustantimes.com/ (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔ External link in |website= (معاونت)
  80. "Yogi Adityanath in Purulia: Nothing more shameful than a CM on dharna to protect corrupt officer"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔
  81. "After 13 years, Mamata Banerjee returns to dharna politics, as chief minister – Times of India ►"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔
  82. "Opposition supports Mamata in battle against Centre, but CPM has a different take"۔ https://www.hindustantimes.com/ (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔ External link in |website= (معاونت)
  83. "Centre vs Mamata: Standoff ends; SC says no arrest, police chief Rajeev Kumar has to face CBI"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔
  84. https://www.telegraphindia.com/opinion/the-bjp-has-fallen-back-on-the-ram-temple-in-its-bid-for-electoral-victory/cid/1683306
  85. http://www.theshillongtimes.com/2019/02/02/bjp-rss-plays-temple-card-to-swing-general-elections-its-way/
  86. https://www.indiatoday.in/mail-today/story/no-ram-temple-means-no-vote-for-bjp-warn-sadhus-1433500-2019-01-18
  87. "Centre increased Rafale jet deal price by 3 billion: Congress – Times of India"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  88. Press Trust of India۔ "Rahul alleges Modi helped Ambani through Rafale deal"۔ Business Standard India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  89. "Jaitley dismisses report of price escalation in Rafale deal as 'fudged arithmetic' – Times of India"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  90. India Today Web Desk New DelhiDecember 14؛ 2018UPDATED: دسمبر 14؛ 2018 17:24 Ist۔ "No objection to Rafale deal: Supreme Court dismisses PILs"۔ India Today (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  91. Samanwaya Rautray۔ "Rafale ruling based on errors: Review plea in Supreme Court"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔
  92. "Did the Supreme Court Get Its Facts Wrong on the CAG Report on Rafale?"۔ The Wire۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔
  93. "Govt misled SC on Rafale deal, where is CAG report, asks Rahul Gandhi – Times of India"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔
  94. Rahul Shrivastava New DelhiDecember 15؛ 2018UPDATED: دسمبر 16؛ 2018 07:33 Ist۔ "Rafale row: Govt says did not mislead SC on CAG report, seeks to correct error"۔ India Today (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔
  95. Krishnadas Rajagopal۔ "Rafale verdict: 'Supreme Court misinterpreted statement made by government in sealed cover on pricing details'"۔ The Hindu (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0971-751X۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔
  96. "Rafale verdict: Government asks SC to correct error, says court misinterpreted wording"۔ https://www.hindustantimes.com/ (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔ External link in |website= (معاونت)
  97. Priyanka Mittal۔ "Yashwant Sinha, Arun Shourie move SC to review its verdict on Rafale deal"۔ https://www.livemint.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔ External link in |website= (معاونت)
  98. "Aam Aadmi Party MP moves Supreme Court seeking review of Rafale verdict"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔
  99. Pretika Khanna۔ "Rafale verdict: Congress demands JPC probe"۔ https://www.livemint.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔ External link in |website= (معاونت)
  100. "No setback, our stand has been vindicated, we want JPC: Congress on Rafale verdict"۔ https://www.hindustantimes.com/ (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-06۔ External link in |website= (معاونت)
  101. "Congress Accuses PM Modi of Unilaterally Raising Price for Rafale Jets"۔ The Wire۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-03۔
  102. N. Ram۔ "Defence Ministry protested against PMO undermining Rafale negotiations"۔ The Hindu (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0971-751X۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  103. N. Ram۔ "Defence Ministry protested against PMO undermining Rafale negotiations"۔ The Hindu (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0971-751X۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  104. India Today Web Desk New DelhiFebruary 8؛ 2019UPDATED: فروری 8؛ 2019 13:56 Ist۔ "Narendra Modi nailed directly: Congress on report that PMO held parallel Rafale talks with France"۔ India Today (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  105. "Defence Minister Nirmala Sitharaman Rejects New Allegations By Congress In Rafale Case: Highlights"۔ NDTV.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  106. "Rafale deal: Know what the Defence Ministry note exactly read, including ex-Raksha Mantri Parrikar's response"۔ timesnownews.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  107. "More Questions As Centre Cites Manohar Parrikar's Reply To Rafale Note"۔ NDTV.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-09۔
  108. ^ ا ب پ ت Rakesh Mohan Chaturvedi۔ "BJP, JDU, LJP finalise 17:17:6 seat sharing formula for Bihar Lok Sabha polls"۔ The Economic Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-24۔
  109. "Lok Sabha polls: BJP to contest on 25 seats, Shiv Sena settles for 23 in Maharashtra"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-18۔
  110. ^ ا ب ""Will Sweep Elections": BJP, AIADMK Join Hands For Lok Sabha Polls"۔ NDTV.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-19۔
  111. ^ ا ب "Congress-NCP seal seat sharing agreement except for 6 Lok Sabha seats in Maharashtra"۔ https://www.hindustantimes.com/ (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-24۔ External link in |website= (معاونت)
  112. ^ ا ب "Jharkhand: Congress, JMM reach agreement for Lok Sabha, assembly polls – Times of India"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-26۔
  113. ^ ا ب "SP, BSP announce tie-up for Lok Sabha polls, to contest 38 seats each in UP – Times of India ►"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-12۔


نقص حوالہ: "note" نام کے حوالے کے لیے ٹیگ <ref> ہیں، لیکن مماثل ٹیگ <references group="note"/> نہیں ملا یا پھر بند- ٹیگ </ref> ناموجود ہے