حیوانات

یہ بہترین مضمون ہے۔ مزید تفصیل کے لیے یہاں طق کریں۔
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

اضغط هنا للاطلاع على كيفية قراءة التصنيف
اضغط هنا للاطلاع على كيفية قراءة التصنيف
Animals
دور: Cryogenian – present, 665–0Ma
EchinodermCnidariaTardigradeCrustaceanArachnidSpongeInsectBryozoaAcanthocephalaFlatwormMolluscaAnnelidVertebrateTunicatePhoronida

اسمیاتی درجہ مملکت[4]  ویکی ڈیٹا پر (P105) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بندی e
Unrecognized taxon (fix): انیمالیا
سائنسی نام
Animalia[4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لنی اس ، 1758  ویکی ڈیٹا پر (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ذیلی تقسیم
مرادفات
* Metazoa سانچہ:Au[1]

حیاتیاتی سلطنت انیمالیا Animalia میں حیوانات کثیر خلوی، یوکرائیوٹک جاندار ہیں۔ چند مستثنیات کے ساتھ، تمام جانور نامیاتی مواد استعمال کرتے ہیں، آکسیجن سانس لیتے ہیں، مائیوسائٹس ہوتے ہیں اور حرکت کرنے کے قابل ہوتے ہیں، جنسی طور پر دوبارہ پیدا کر سکتے ہیں اور جنین کی نشو و نما کے دوران خلیات کے کھوکھلے دائرے، بلاسٹولا سے بڑھ سکتے ہیں۔ سنہ 2022ء تک، تقریباً 2.16 ملین حیوانات کی انواع کی وضاحت کی گئی ہے۔ جن میں سے تقریباً 1.05 ملین کیڑے مکوڑے ہیں، 85,000 سے زیادہ مولسکس ہیں اور تقریباً 65,000 فقاری جانور ہیں۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ زمین پر جانوروں کی 7.77 ملین انواع ہیں۔ جانوروں کے جسم کی لمبائی 8.5 مائیکرو میٹر (0.00033 انچ) سے لے کر 33.6 میٹر (110فٹ) تک ہوتی ہے۔ ان کے ایک دوسرے اور ان کے ماحول کے ساتھ پیچیدہ ماحولیات اور تعاملات ہیں، جو پیچیدہ غذا کے جال بناتے ہیں۔ جانوروں کا سائنسی مطالعے کو حیوانیات zoology کے نام سے جانا جاتا ہے اور جانوروں کے طرز عمل کا مطالعہ کو ٹیکنالوجی ethology کے نام سے جانا جاتا ہے۔

زیادہ تر زندہ جانوروں کی انواع کا تعلق انفراکنگڈم بلیٹیریا سے ہے، ایک انتہائی پھیلاؤ والا کلیڈ جس کے ارکان کا دو طرفہ طور پر متوازن جسمانی منصوبہ ہے۔ موجودہ دو طرفہ افراد میں بیسل گروپ ژیناسولومورفا Xenacoelomorpha شامل ہیں، لیکن اکثریت کا تعلق دو بڑے سپر فائیلا سے ہے:

پروٹوسٹوم، جس میں فائیلا جیسے آرتھروپوڈس، مولسکس، عام کیڑے، اینیلڈس اور نیماٹوڈ وغیرہ شامل ہیں۔ اور

ڈیوٹروسٹومز، جس میں تین فائیلا ایکینوڈرمز، ہیمیکورڈیٹس اور کورڈیٹس شامل ہیں، بعد میں فقاریوں کے ساتھ اس کا سب سے کامیاب ذیلی فائلم ہے۔ پری کیمبرین زندگی کی شکلیں ابتدائی پیچیدہ جانوروں کے طور پر تشریح کی جاتی ہیں جو دیر سے پروٹروزوک کے ایڈیکارن بائیوٹا میں پہلے سے موجود تھیں، لیکن قدیم سپنج اور دیگر قیاس آرائی پر مبنی ابتدائی جانوروں کے فوسلز کی تاریخ ٹونین دور سے شروع کی گئی ہے۔ تقریباً تمام جدید جانوروں کے فائیلا فوسل ریکارڈ میں سمندری انواع کے طور پر کیمبرین دھماکے کے دوران واضح طور پر قائم ہو گئے، جو تقریباً 539 ملین سال پہلے شروع ہوا (Mya) اور زیادہ تر کلاسیں اورڈوویشئین Ordovician تابکاری 485.4 Mya کے دوران وجود میں آئی۔ تمام جانداروں میں مشترک جینز کے 6,331 گروپوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک مشترکہ آبا و اجداد سے پیدا ہوئے ہوں جو کریوجینی دور میں 650 Mya زندہ رہے۔

دنیا میں طرح طرح کے حیوانات یا جانور (انگریزی: animal)پائے جاتے ہیں۔ سب اپنی نوعیت میں الگ ہی نظر آتے ہیں اور ان کی انوکھی وضع و ساخت انھیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ظاہر کرتی ہیں۔ کہیں لمبی سونڈ والا ہاتھی تو مختصر سی جسامت والا چوہا اور ان میں ہمیں کوئی مشابہت نظر نہیں آتی ہے۔ لیکن ہم ان کی ساخت کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو ان کے آپس میں اختلافات اور مشابہتیں معلوم ہوں گی۔ اگرچہ ہاتھی اور چوہا ظاہری طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن دونوں ریڑھ کی ہڈی والے جانور ہیں۔

ساختی تقسیم[ترمیم]

یہ جانور اپنی ساخت کی وجہ سے دو گروہوں میں تقسیم ہیں۔

(1) ریڑھ کی ہڈی والے

(2) جن میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی ہے

ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں میں ہڈیوں کا ایک مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں جن میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی ہے ان میں ہڈیوں کا کوئی ڈھانچہ بھی نہیں ہوتا ہے۔ تمام حشرات الارض میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی ہے۔ زمین پر سب سے پہلے بغیر ریڑھ کی ہڈی والے جاندار پیدا ہوئے تھے۔ ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کو ان کی ساخت کے حساب سے پانچ گروہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

(1) مچھلی

(2) جل تھلیے

(3) رینگنے والے یا پیٹ کے بل چلنے والے

(4) پرندے

(5) ممالیہ، دودھ پلانے والے جانور

مچھلییاں[ترمیم]

ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں میں سب سے پہلے مچھلیاں پیدا ہوئی اور اگلے مرحلے میں مچھلیاں پانی سے نکل کر کنارے پر آنے لگیں۔

جل تھلیے[ترمیم]

خشکی کے تعلق سے ان اعضاء میں رفتہ رفتہ تغیر ہوا اور ایسے جانور وجود میں آئے جو پانی اور خشکی دونوں پر رہنے لگے۔ مینڈک اس کی بڑی مثال ہے، اس کا جسم ابتدا میں مچھلی کی طرح ہوتا ہے اور پانی میں ہی سانس لیتا ہے اور رفتہ رفتہ ان کی جسامت میں تبدیلی ہوتی ہے اور اس کے ہاتھ اور پیر نمودار ہوتے ہیں اور وہ خشکی پر زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ مچھلیوں کے خون میں حرارت نہیں ہوتی ہے۔ خون کی حرارت کی جگہ ان جسم میں موٹی چربی کی تہ ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے سرد پانی کا ان پر اثر نہیں ہوتا ہے۔  

رینگنے والے یا پیٹ کے بل چلنے والے جانور 

اس کے بعد پیٹ کے بل چلنے والے جانور پیدا ہوئے۔ اس جنس کے ہاتھ پیر ہوتے نہیں ہیں یا اتنے مختصر ہوتے ہیں کہ وہ پیٹ کے بل رینگتے معلوم ہوتے ہیں۔ سانپ اور اژدھوں کے ہاتھ پیر نہیں ہوتے مگر ان کے نشانات ہوتے ہیں اور استعمال نہ ہونے کی وجہ سے یہ غائب ہو گئے۔ قدیم زمانے میں یہ زمین پر کثرت سے تھے اور پوری دنیا خوفناک قسم کے جانوروں بھری ہوئی تھی اور اب یہ فنا ہو چکے۔ مگر کچھ چھوٹے جانور جیسے کچھوا، سانپ اور گرگٹ وغیر اب بھی موجود ہیں۔ ان میں دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے ان جانوروں کے خون میں حرارت نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے یہ سرد موسم میں سست ہوجاتے ہیں اور گرمی میں پھرتیلے ہوجاتے ہیں۔

پرندے[ترمیم]

اس کے بعد پرندنے وجود میں آئے۔ ابتدائی پرندوں میں پیٹ کے بل چلنے والوں کی خصوصیات موجود تھیں۔ وہ موجودہ پرندوں سے یکسر مختلف تھے۔ ان کے پر کے جگہ جھلی جیسی کھال تھی۔ جیسے کے چمکاڈر میں ہوتی ہے اور ان کے دو بڑے دانت تھے اور دم گرگٹ کی طرح تھی۔  

ممالیہ یا دودھ پلانے والے جانور [ترمیم]

یہ اپنی خوبیوں اور ساخت کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ ہیں۔ ان سے انسان بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے۔ مثلاً گائے، بھینس اونٹ اور گھوڑا وغیرہ۔ ان سے دودھ، گوشت، اون اور سیکڑوں چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔ ان کے علاوہ جنگلی جانور جیسے شیر، ہاتھی، ژرافہ، بندر اور شہری جانور، کتا، بلی، چوہے وغیرہ بھی اسی کیٹیگری میں آتے ہیں۔ یاد رہے کہ سمندر میں وہیل اور ڈولفن بھی اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں اس لیے ان کا شمار مچھلیوں کی بجائے ممالیہ میں ہوتا ہے۔ اڑنے والے جانوروں میں چمگادڑ بھی اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی وجہ سے پرندوں کی بجائے ممالیہ میں شمار ہوتا ہے۔ ان جانوروں میں مادہ کے تھن ہوتے ہیں۔ جن سے وہ اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے۔ ان جانورں میں حرارت ہوتی ہے۔ یہ انڈے نہیں بچے دیتے ہیں۔ لیکن ایک قسم ایسی ہے جو اس کلیہ سے مبرا ہے۔ ان کے جسم میں تھوڑے بہت بال ضرور ہوتے ہیں اور بالوں کا ہونا ان کی خاص علامت ہے۔ جن کے بدن پر بال نہیں ہوتے ان کے بھی کچھ بال ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جانوروں کے سینگ بھی ہوتے ہیں۔ ان میں بعض پر موٹے کانٹے ہوتے ہیں مثلاً سیہ۔ اس طرح بعض جانورں پر موٹے چھلکے ہوتے ہیں مثلاً پنگولین۔

مطالعاتی تقسیم[ترمیم]

جانوروں کے مطالعہ کے لیے ان کو پانچ گروہ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔

(1) حصہ Division

(2) جنس Class

(3) طبقہ Order

(4) خاندان Family

(5) نوع Genus

(6) صنف Species

(7) فرد  Variety

حصہ[ترمیم]

ہر طبقہ کے جانور بعض خصوصیات کی بنا پر طبقوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ مثلاً جگالی والے جانور، تھیلی دار جانور، گوشت خور جانور۔

جنس Class[ترمیم]

اس کے علاوہ ہر طبقہ میں چند جنسیں ہوتی ہیں۔ مثلاً گوشت خور جانور، بلی کی جنس، کتے کی جنس، بھالو وغیرہ۔ یہ سب جانور گوشت خور ہیں لیکن ان میں تفریق آسانی سے کی جا سکتی ہے،

طبقہ Order[ترمیم]

ہر جماعت میں مختلف نوع کے جانور شامل ہوتے ہیں۔ ان بہت کچھ مشترک ہونے ساتھ ان میں تفریق بھی ہوتی ہے۔ مثلاًً بلی ، ببر شیر، شیر، تیندوا مختلف نوع کے جانور ہیں۔

صنف Species

اس طرح ایک ہی خاندان کے جانوروں میں بھی تفریق ہوتی ہے۔ مثلاً لکڑبھگے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک کے جسم پر دھاریاں ہوتی ہیں اور دوسری کے بدن پر گل یا دھبے ہوتے ہیں۔ یہ ان کی صنف مانی جاتی ہیں

خاندان Family[ترمیم]

ایک ہی صنف کے جانوروں میں رنگ، شکل، صورت اور قد وغیرہ میں آب و ہوا اور عادتوں کی وجہ سے بھی فرق ہوجاتا ہے۔ یہ خاندان کہلاتے ہیں۔

فرد  Variety[ترمیم]

دنیا کا ہر جانور تغیر پزیر ہے مگر پالتو جانورں میں یہ تبدیلیاں جلد ہوجاتی ہیں، کیوں کہ ان مقامات کی تبدیلی، خوراک اور بود باش کے طریقوں سے ان میں فرق ہوجاتا ہے۔ ایک ہی نسل کی بھیڑوں کو دو علحیدہ علحیدہ مقامات پر علحیدہ رکھا جائے تو پچاس سال میں ان میں اس قدر تبدیلیاں واقع ہوجاتی ہیں کہ الگ فرو کی جانور معلوم ہوتی ہیں۔ اس طرح اونٹوں میں دو نسلیں وجود میں آئیں۔ ایک فربہ جو سبک رو جو باربرداری کے کام آتے ہیں اور لمبے پتلے دبلے جو تیزروی اور سواری کے کام آتی ہیں۔ یہ تقسیم قدرتی ہیں انسانی محنت کا ثمر ہیں قدرتی نہیں۔ کیوں کہ قدرت نے جانور کو اس طرح تقسیم نہیں کیا ہے۔

ارتقا[ترمیم]

خیال کیا جاتا ہے کہ ابتدا میں تمام جانور ایک ہی قسم کے یا کچھ خاص قسم کے پیدا ہوئے تھے۔ پھر ارتقا نے ترقی کے مدراج طہ کروا کر ادنیٰ سے اعلیٰ درجہ پر پہنچے اور ابتدائی شکل سے رفتہ رفتہ نئی نئی شکلیں اور صورتیں اختیار کیں اور طرح طرح باطنی اور ظاہری تبدیلیوں سے ان میں تبدیلیاں واقع ہوئیں اور یہ تبدیلیاں اب بھی جاری ہیں اور یعنی یہ ارتقا مسلسل جاری ہے۔  

اگر ہم وسیع نظری سے مطالعہ کریں تو ہم پر واضح ہوتا ہے کہ محض طاقت ور ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا ہے۔ کتنے ہی دیو ہیکل اور خونخوار جانور اس دنیا سے فنا ہو چکے ہیں۔ ان ڈائینوسار، میتھ ہاتھی وغیرہ کی صرف ہڈیاں ملتی ہیں۔ دو صدی پہلے ببر شیر شمالی ہند میں بنارس کے قرب و جوار میں پائے جاتے تھے اب کاٹھیاوار تک محدود ہو گئے ہیں۔ اس اس کے باوجود گھوڑا لاکھوں سال سے ترقی کرتا ہوا اب بھی موجود ہے۔ بارسنگہ اور ہرن جو انسانوں اور جانوروں کا نوالہ بنتے رہے اب بھی پائے ہیں۔ اونٹ بھی زمانہ قدیم سے اب بھی موجود ہے۔ نظریہ ارتقا کے مطابق جانور زمین سے اس لیے نیست و نابود ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے ارضی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال نہیں سکے۔       

ماخذ[ترمیم]

برجیش بہادر۔ عالم حیوانی


اضغط هنا للاطلاع على كيفية قراءة التصنيف
اضغط هنا للاطلاع على كيفية قراءة التصنيف

حیوانات

 

اسمیاتی درجہ مملکت[4]  ویکی ڈیٹا پر (P105) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بندی
طبقہ: گوشت خور، نباتات خور، شکار خور، مردم خور
سائنسی نام
Animalia[4][6]  ویکی ڈیٹا پر (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لنی اس ، 1758  ویکی ڈیٹا پر (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


درجہ (Rank) نباتات (Plants) طَحالِب (Algae) فُطریات (Fungi) حیوانات (Animal) اولانیات (Protista)
  • حیوانیات = قسمہ (Phylum)
  • نباتیات = شعبہ (Division)
-تات (-phyta) -قط (-mycota) -یا (-a)
ذیلی قسمیہ/ذیلی شعبہ

Subdivision/Subphylum

-تاتیہ (-phytina) -قطہ (-mycotina)
جماعت (Class) -یتی (-opsida) -یبی (-phyceae) -قطر (-mycetes)
ذیلی جماعت (Subclass) -یتیہ (-idae) -یبیہ (-phycidae) -قطریہ (-mycetidae) -تیہ
فوقی طبقہ (Superorder) -فط (-anae) -فطق
طبقہ (Order) -طب (-ales) -طبق
ذیلی طبقہ (Suborder) -طبی (-ineae) -طبقی
زیریں طبقہ (Infraorder) -طبیہ (-aria) -طبقیہ
فوقی خاندان (Superfamily) -فان (-acea) -(oidea) -خان
خاندان (Family) -آن (-aceae) (-idae) -خن
ذیلی خاندان (Subfamily) -آنہ (-oideae) (-inae) -خنہ
قبیلہ (Tribe) -یل (-eae) (-ini) حیل
ذیلی قبیلہ (Subtribe) -یلی (-inae) (-ina) حیلی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Kevin de Queiroz، Philip Cantino، Jacques Gauthier، مدیران (2020)۔ "Metazoa E. Haeckel 1874 [J. R. Garey and K. M. Halanych], converted clade name"۔ Phylonyms: A Companion to the PhyloCode (1st ایڈیشن)۔ CRC Press۔ صفحہ: 1352۔ ISBN 9780429446276۔ doi:10.1201/9780429446276 
  2. Claus Nielsen (2008)۔ "Six major steps in animal evolution: are we derived sponge larvae?"۔ Evolution & Development۔ 10 (2): 241–257۔ PMID 18315817۔ doi:10.1111/j.1525-142X.2008.00231.x 
  3. ^ ا ب پ Werner Rothmaler (1951)۔ "Die Abteilungen und Klassen der Pflanzen"۔ Feddes Repertorium, Journal of Botanical Taxonomy and Geobotany۔ 54 (2–3): 256–266۔ doi:10.1002/fedr.19510540208 
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ITIS TSN: https://www.itis.gov/servlet/SingleRpt/SingleRpt?search_topic=TSN&search_value=202423 — اخذ شدہ بتاریخ: 27 اپریل 2021 — عنوان : Integrated Taxonomic Information System
  5.   ویکی ڈیٹا پر (P830) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"معرف Animalia دائراۃ المعارف لائف سے ماخوذ"۔ eol.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 مارچ 2024ء 
  6.   ویکی ڈیٹا پر (P830) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"معرف Animalia دائراۃ المعارف لائف سے ماخوذ"۔ eol.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 مارچ 2024ء