حیوانات
تمام جانوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق عالم حیوانات (Kingdom Animalia) سے ہے۔ بیشتر جانور حرکت کر سکتے ہیں۔ کئی جانوروں کی آنکھیں، ٹانگیں اور سر ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ سادہ جانوروں کی آنکھیں، ٹانگیں یا پھر سر نہیں ہوتا۔ بعض جانور جو سمندر میں رہتے ہیں، پودوں کی طرح ہوتے ہیں۔ پھول مونگا (Sea-anemone) پودے نما جانوروں کی ایک بہترین مثال ہے۔ جانوروں اور پودوں کے درمیان فرق معلوم کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ان کے خوراک حاصل کرنے کے طریقوں پر غور کیا جائے۔ پودے ضیائی تالیف کے عمل سے اپنی خوراک خود بناتے ہیں جبکہ جانور ضیائی تالیف کا عمل نہیں کر سکتے۔ چنانچہ انھیں اپنی خوراک پودوں یا پھر دوسرے جانوروں سے حاصل کرنا پڑتی ہے۔ ایک چھوٹے سے امیبا اور دیوہیکل وہیل مچھلی میں ایک بات مشترک ہے کہ ان کے لیے دوسرے جانداروں کو کھانا ضروری ہوتا ہے۔
جانوروں کے 10 لاکھ سے زائد انواع ہیں۔ بعض جاندار سمندر کی تہ پر رہتے ہیں اور بعض پہاڑوں کی چوٹیوں پر۔ جانور قطب شمالی اور خط استوا پر بھی پائے جاتے ہیں۔ جانوروں کے بعض انواع صرف ایک ہی خلیے پر مشتمل ہیں جبکہ بعض انواع میں اربوں کھریوں خلیے ہوتے ہیں۔ اسفنج ایک بہت ہی سادہ جاندار ہے اور ایک ہی جگہ پر رہتا ہے۔ انسان کا شمار بھی حیوانات میں ہوتا ہے۔ انسان کی ساخت انتہائی پیچیدہ ہے۔ حیاتیات دان عالمِ حیوانات کے ارکان کو چھوٹے گروہوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین ہر جاندار کی خصوصیات کا انفرادی طور پر مطالعہ کرتے ہیں۔ پھر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس جاندار کا تعلق کسی گروہ کے ساتھ ہے۔
عالم حیوانات میں ہر جانور کا تعلق ایک گروہ کے ساتھ ہوتا ہے جسے قوم (Phylum) کہتے ہیں۔ چند اہم قومیں یہ ہیں: پروٹوزوا (Protozoa) [ایک خلیے والے، خرد بینی جاندار)، نائیڈیریا (Cnidaria)، [نجم البحر یعنی جیلی فش)، پلیٹی ہیلمن تھس (Platyhelminthes) [چپٹے کیڑے]، مولسکا (Mollusca) [ریگ صدفے اور ہشت پائے] ایسکل منتھس (Aschelminthes) [گول کیڑے]، اینی لیڈا (Annelida) [کنڈل یا حلقہ دار کیڑے]، آرتھروپوڈا (Arthropoda) [حشرات ، کیکڑے ، سمندری کیکڑے ، مکڑیاں وغیرہ]، اکائنوڈرمیٹا (Echinoderm) [اسٹار فش] اور کارڈیٹا (Chordata) [تمام اعلیٰ حیوانات جن میں جبلِ عصب (Nerve cord) موجود ہو]۔
ایسے جانور جن سے ہم عام طور پر واقف ہوتے ہیں ان میں جبل عصب اور ریڑھ کی ہڈی موجود ہوتی ہے۔ ایسے جانور فقاریہ (Vertebrates) کہلاتے ہیں۔ مچھلیاں، مینڈک، پرندے، کتے، بلیاں اور انسان سب میں ریڑھ کی ہڈی موجود ہوتی ہے اور ان کا تعلق قوم حبلیات (فائیلم کارڈیٹا) سے ہے۔ وہ جانور جن میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی، غیر فقاریہ (Invertebrates) کہلاتے ہیں ۔
جانداروں اور عالم حیوانات کے مطالعہ کا نام حیوانیات (زولوجی) ہے اور جو سائنس دان اس کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ ماہرین حیوانیات (زولوجسٹ) کہلاتے ہیں۔
ساختی تقسیم
[ترمیم]یہ جانور اپنی ساخت کی وجہ سے دو گروہوں میں تقسیم ہیں۔
(1) ریڑھ کی ہڈی والے
(2) جن میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی ہے
ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں میں ہڈیوں کا ایک مضبوط ڈھانچہ ہوتا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں جن میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی ہے ان میں ہڈیوں کا کوئی ڈھانچہ بھی نہیں ہوتا ہے۔ تمام حشرات الارض میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی ہے۔ زمین پر سب سے پہلے بغیر ریڑھ کی ہڈی والے جاندار پیدا ہوئے تھے۔ ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کو ان کی ساخت کے حساب سے پانچ گروہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
(1) مچھلی
(2) جل تھلیے
(3) رینگنے والے یا پیٹ کے بل چلنے والے
(4) پرندے
(5) ممالیہ، دودھ پلانے والے جانور
مچھلییاں
[ترمیم]ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں میں سب سے پہلے مچھلیاں پیدا ہوئی اور اگلے مرحلے میں مچھلیاں پانی سے نکل کر کنارے پر آنے لگیں۔
جل تھلیے
[ترمیم]خشکی کے تعلق سے ان اعضاء میں رفتہ رفتہ تغیر ہوا اور ایسے جانور وجود میں آئے جو پانی اور خشکی دونوں پر رہنے لگے۔ مینڈک اس کی بڑی مثال ہے، اس کا جسم ابتدا میں مچھلی کی طرح ہوتا ہے اور پانی میں ہی سانس لیتا ہے اور رفتہ رفتہ ان کی جسامت میں تبدیلی ہوتی ہے اور اس کے ہاتھ اور پیر نمودار ہوتے ہیں اور وہ خشکی پر زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ مچھلیوں کے خون میں حرارت نہیں ہوتی ہے۔ خون کی حرارت کی جگہ ان جسم میں موٹی چربی کی تہ ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے سرد پانی کا ان پر اثر نہیں ہوتا ہے۔
رینگنے والے یا پیٹ کے بل چلنے والے جانور
اس کے بعد پیٹ کے بل چلنے والے جانور پیدا ہوئے۔ اس جنس کے ہاتھ پیر ہوتے نہیں ہیں یا اتنے مختصر ہوتے ہیں کہ وہ پیٹ کے بل رینگتے معلوم ہوتے ہیں۔ سانپ اور اژدھوں کے ہاتھ پیر نہیں ہوتے مگر ان کے نشانات ہوتے ہیں اور استعمال نہ ہونے کی وجہ سے یہ غائب ہو گئے۔ قدیم زمانے میں یہ زمین پر کثرت سے تھے اور پوری دنیا خوفناک قسم کے جانوروں بھری ہوئی تھی اور اب یہ فنا ہو چکے۔ مگر کچھ چھوٹے جانور جیسے کچھوا، سانپ اور گرگٹ وغیر اب بھی موجود ہیں۔ ان میں دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے ان جانوروں کے خون میں حرارت نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے یہ سرد موسم میں سست ہوجاتے ہیں اور گرمی میں پھرتیلے ہوجاتے ہیں۔
پرندے
[ترمیم]اس کے بعد پرندنے وجود میں آئے۔ ابتدائی پرندوں میں پیٹ کے بل چلنے والوں کی خصوصیات موجود تھیں۔ وہ موجودہ پرندوں سے یکسر مختلف تھے۔ ان کے پر کے جگہ جھلی جیسی کھال تھی۔ جیسے کے چمکاڈر میں ہوتی ہے اور ان کے دو بڑے دانت تھے اور دم گرگٹ کی طرح تھی۔
ممالیہ یا دودھ پلانے والے جانور
[ترمیم]یہ اپنی خوبیوں اور ساخت کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ ہیں۔ ان سے انسان بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے۔ مثلاً گائے، بھینس اونٹ اور گھوڑا وغیرہ۔ ان سے دودھ، گوشت، اون اور سیکڑوں چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔ ان کے علاوہ جنگلی جانور جیسے شیر، ہاتھی، ژرافہ، بندر اور شہری جانور، کتا، بلی، چوہے وغیرہ بھی اسی کیٹیگری میں آتے ہیں۔ یاد رہے کہ سمندر میں وہیل اور ڈولفن بھی اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں اس لیے ان کا شمار مچھلیوں کی بجائے ممالیہ میں ہوتا ہے۔ اڑنے والے جانوروں میں چمگادڑ بھی اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی وجہ سے پرندوں کی بجائے ممالیہ میں شمار ہوتا ہے۔ ان جانوروں میں مادہ کے تھن ہوتے ہیں۔ جن سے وہ اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے۔ ان جانورں میں حرارت ہوتی ہے۔ یہ انڈے نہیں بچے دیتے ہیں۔ لیکن ایک قسم ایسی ہے جو اس کلیہ سے مبرا ہے۔ ان کے جسم میں تھوڑے بہت بال ضرور ہوتے ہیں اور بالوں کا ہونا ان کی خاص علامت ہے۔ جن کے بدن پر بال نہیں ہوتے ان کے بھی کچھ بال ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جانوروں کے سینگ بھی ہوتے ہیں۔ ان میں بعض پر موٹے کانٹے ہوتے ہیں مثلاً سیہ۔ اس طرح بعض جانورں پر موٹے چھلکے ہوتے ہیں مثلاً پنگولین۔
مطالعاتی تقسیم
[ترمیم]جانوروں کے مطالعہ کے لیے ان کو پانچ گروہ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔
(1) حصہ Division
(2) جنس Class
(3) طبقہ Order
(4) خاندان Family
(5) نوع Genus
(6) صنف Species
(7) فرد Variety
حصہ
[ترمیم]ہر طبقہ کے جانور بعض خصوصیات کی بنا پر طبقوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ مثلاً جگالی والے جانور، تھیلی دار جانور، گوشت خور جانور۔
جنس Class
[ترمیم]اس کے علاوہ ہر طبقہ میں چند جنسیں ہوتی ہیں۔ مثلاً گوشت خور جانور، بلی کی جنس، کتے کی جنس، بھالو وغیرہ۔ یہ سب جانور گوشت خور ہیں لیکن ان میں تفریق آسانی سے کی جا سکتی ہے،
طبقہ Order
[ترمیم]ہر جماعت میں مختلف نوع کے جانور شامل ہوتے ہیں۔ ان بہت کچھ مشترک ہونے ساتھ ان میں تفریق بھی ہوتی ہے۔ مثلاًً بلی ، ببر شیر، شیر، تیندوا مختلف نوع کے جانور ہیں۔
صنف Species
اس طرح ایک ہی خاندان کے جانوروں میں بھی تفریق ہوتی ہے۔ مثلاً لکڑبھگے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک کے جسم پر دھاریاں ہوتی ہیں اور دوسری کے بدن پر گل یا دھبے ہوتے ہیں۔ یہ ان کی صنف مانی جاتی ہیں
خاندان Family
[ترمیم]ایک ہی صنف کے جانوروں میں رنگ، شکل، صورت اور قد وغیرہ میں آب و ہوا اور عادتوں کی وجہ سے بھی فرق ہوجاتا ہے۔ یہ خاندان کہلاتے ہیں۔
فرد Variety
[ترمیم]دنیا کا ہر جانور تغیر پزیر ہے مگر پالتو جانورں میں یہ تبدیلیاں جلد ہوجاتی ہیں، کیوں کہ ان مقامات کی تبدیلی، خوراک اور بود باش کے طریقوں سے ان میں فرق ہوجاتا ہے۔ ایک ہی نسل کی بھیڑوں کو دو علحیدہ علحیدہ مقامات پر علحیدہ رکھا جائے تو پچاس سال میں ان میں اس قدر تبدیلیاں واقع ہوجاتی ہیں کہ الگ فرو کی جانور معلوم ہوتی ہیں۔ اس طرح اونٹوں میں دو نسلیں وجود میں آئیں۔ ایک فربہ جو سبک رو جو باربرداری کے کام آتے ہیں اور لمبے پتلے دبلے جو تیزروی اور سواری کے کام آتی ہیں۔ یہ تقسیم قدرتی ہیں انسانی محنت کا ثمر ہیں قدرتی نہیں۔ کیوں کہ قدرت نے جانور کو اس طرح تقسیم نہیں کیا ہے۔
ارتقا
[ترمیم]خیال کیا جاتا ہے کہ ابتدا میں تمام جانور ایک ہی قسم کے یا کچھ خاص قسم کے پیدا ہوئے تھے۔ پھر ارتقا نے ترقی کے مدراج طہ کروا کر ادنیٰ سے اعلیٰ درجہ پر پہنچے اور ابتدائی شکل سے رفتہ رفتہ نئی نئی شکلیں اور صورتیں اختیار کیں اور طرح طرح باطنی اور ظاہری تبدیلیوں سے ان میں تبدیلیاں واقع ہوئیں اور یہ تبدیلیاں اب بھی جاری ہیں اور یعنی یہ ارتقا مسلسل جاری ہے۔
اگر ہم وسیع نظری سے مطالعہ کریں تو ہم پر واضح ہوتا ہے کہ محض طاقت ور ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا ہے۔ کتنے ہی دیو ہیکل اور خونخوار جانور اس دنیا سے فنا ہو چکے ہیں۔ ان ڈائینوسار، میتھ ہاتھی وغیرہ کی صرف ہڈیاں ملتی ہیں۔ دو صدی پہلے ببر شیر شمالی ہند میں بنارس کے قرب و جوار میں پائے جاتے تھے اب کاٹھیاوار تک محدود ہو گئے ہیں۔ اس اس کے باوجود گھوڑا لاکھوں سال سے ترقی کرتا ہوا اب بھی موجود ہے۔ بارسنگہ اور ہرن جو انسانوں اور جانوروں کا نوالہ بنتے رہے اب بھی پائے ہیں۔ اونٹ بھی زمانہ قدیم سے اب بھی موجود ہے۔ نظریہ ارتقا کے مطابق جانور زمین سے اس لیے نیست و نابود ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے ارضی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال نہیں سکے۔
حوالہ جات
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر حیوانات سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |