وائرس
وائرس یا سمیہ (Virus) ساده ترین جاندار ہیں۔ وائرس کا لفظ لاطینی لفظ وینم (Venom) سے نکلا ہے جس کے معنی زہریلے مائع کے ہیں۔ وائرس اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ سادہ خورد بین سے نظر نہیں آ سکتے۔ ان کو الیکٹرانی خورد بین کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے یا کیمیائی ٹسٹ سے ان کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ یہ بیکٹیریا سے 10 یا 1000 گنا چھوٹے ہوتے ہیں۔ دیگر جانداروں کی طرح اپنی نسل بڑھاتے ہیں لیکن تنفس اور اخراج نہیں کرتے۔ غیر موزوں حالات میں یہ قلمی شکل (Crystal) اختیار کر لیتے ہیں۔
وائرس صرف اپنے میزبان کے زندہ خلیے کے اندر ہی فعال اور زندہ رہ سکتے ہیں۔ خلیے سے باہر آتے ہی یہ غیر فعال اور مردہ ہو جاتے ہیں (قلمی شکل اختیار کر لیتے ہیں)۔ اس لیے وائرس دنیا کے واحد جاندار ہیں جو زندہ اور مردہ دونوں کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ عام خلیے قلم یا کرسٹل کی شکل اختیار نہیں کر سکتے جب کہ ایک دفعہ قلم بنا لینے کے بعد دوبارہ عام خلیہ نہیں بن سکتے۔ وائرس یہ دونوں کام کر سکتے ہیں۔ وائرس نیوکلیو پروٹین ہیں۔ ان کا جسم بیرونی پروٹین کے خول اور کیمیائی طور پر اندر موجود ڈی این اے یا آر این اے پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں خلیہ مایہ (سائٹوپلازم) اور میٹابولزم نہیں ہوتا۔ یہ جس خلیے میں رہتے ہیں اس کے میٹابولزم پر انحصار کرتے ہیں۔ الیکٹران مائیکرو اسکوپ کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ وائرس مختلف جسامت اور شکل کے ہوتے ہیں۔ ان کی جسامت 10 سے 40 نینو میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ وائرس جانداروں کی گروہ بندی میں سب سے نیچے رکھے جاتے ہیں۔
وائرس کے بارے میں اکثر معلومات بیکٹیریا خور (Bacteriophage) وائرس کے مطالعے سے حاصل ہوئی ہیں۔ بیکٹیریوفیج وائرس اندرونی ڈی این اے اور بیرونی پیچیدہ لحمیاتی خول (جس کو کیسپڈ Caspid کہا جاتا ہے) پر مشتمل ہوتا ہے۔ تمباکو کے موزائیک وائرس کا بیرونی لحمیاتی خول 158 امائنو ایسڈ اور 16 قسم کے لحمیات سے بنا ہوتا ہے۔
ہر وائرس کسی مخصوص خلیہ کو نشانہ بناتا ہے مثلا زرد بخار کا وائرس جگر کے خلیوں کو متاثر کرتا ہے اور زکام کا وائرس ہوائی نالی کے خلیات کو۔ وائرس پر اینٹی بائیوٹک اثر نہیں کرتے البتہ کچھ طبعی اور کیمیائی عوامل مثلا تیزابیت، شعاعیں، درجہ حرارت اور پانی کی کمی ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اقسام
[ترمیم]اپنے میزبان کی بنیاد پر وائرس کی تین بنیادی اقسام پودوں کے وائرس، جانوروں کے وائرس اور بیکٹیریوفیج (بیکٹیریا خور) ہیں۔
انسان اور جانوروں کا وائرس
[ترمیم]یہ وائرس انسانوں اور دیگر جانوروں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان میں نیوکلیائی مادہ ڈی این اے یا آر این اے ہوتا ہے۔ زکام، نزلہ، فالج، خسرو، جرمن خسرہ، باؤلا پن اور ایڈز کے وائرس میں آر این اے ہوتا ہے۔
بیکٹیریا خور
[ترمیم]ان کا جینیاتی مادہ ڈی این اے ہوتا ہے۔
گروہ بندی
[ترمیم]وائرس کو پانچ عالمی گروہ بندی میں شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ نہ پودے ہیں نہ جانور۔ ارتقائی اعتبار سے وائرس زندہ اور بے جان اشیاء کی سرحد پر واقع ہیں۔ یہ جانداروں کی طرح تولید کے ذریعے نسل بڑھاتے ہیں اور بطور جینیاتی مادہ ڈی این اے یا آر این اے رکھتے ہیں جو زندہ اشیا کی خصوصیات ہیں۔ دوسری طرف زندہ خلیے سے باہر آتے ہی یہ قلمی شکل (کرسغل) میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو بے جان اشیا کی خصوصیت ہے۔ قلمی شکل میں وائرسوں کو لامتناہی وقت تک کے لیے رکھا جا سکتا ہے جس کے دوران ان کی تولیدی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔ جب بھی کسی قلم شدہ وائرس کو مناسب ماحول (زندہ خلیہ) ملتا ہے یہ دوبارہ اپنی نسل بڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔
غذا
[ترمیم]وائرس دوسرے زندہ جانداروں سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں اور بطور طفیلی (پیراسائٹ) زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان سے کوئی بھی جاندار محفوظ نہیں۔ انسانوں میں یہ نزلہ، زکام، پولیو، چیچک اور خسرہ جیسی بیماریاں پھیلاتے ہیں جب کہ پودوں میں یہ آلو، ٹماٹر، تمباکو اور گوبھی وغیرہ کے پتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر وائرس سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |