ٹائم ڈائیلیشن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ٹائم ڈائیلیشن اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کس طرح دو ایک ہی طرح کام کرنے والی گھڑیاں مختلف رفتار پر مختلف وقت بتاتی ہیں۔ مثال کے طور پر آئی ایس ایس (انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن) کے خلاباز  جب خلائی مرکز سے واپس زمین پر آتے ہیں تو اُن کی عمر میں اس سے کم اضافہ ہوا ہوتا ہے جو وہ  اگر زمین پرہوتے تو ہوتا۔ جی پی ایس کو بھی زمین کے وقت کے حساب سے رکھنے کے لیے اس میں  ہر روز مائیکرو سیکنڈ کی تبدیلی کی جاتی ہے۔

دو اجسام کی اضافی رفتار کے فرق یا دو اجسام کے قریب موجود کمیتوں کے فرق کی وجہ سے ان اجسام پر گزرنے والے وقت میں فرق پڑ جاتا ہے۔ اس تصور کو ٹائم ڈائیلیشن کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تصور آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت خصوصی (اضافی حرکت کے لیے ) اور نظریہ اضافیت عمومی (کمیت کے قریب ) سے اخذ کیا گیا ہے اور اس کی تجرباتی تصدیق ہو چکی ہے۔

سائنسی تعریف اور مساواتیں[ترمیم]

تجرباتی تصدیق[ترمیم]

وقت کا رکنا[ترمیم]

Time Dilation 1.png
Relativity 5.gif

وقت کا سست پڑنا تو ممکن ہے لیکن اس کا روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ مساوات ہیں:

عام حالات میں v کی قیمت اتنی کم ہوتی ہے کہ ایک بہت ہی چھوٹا عدد 1 سے نفی ہوتا ہے اور ہمیں نہ وقت کے کم پڑنے کا پتا چلتا ہے نا ماس/کمیت کے بڑھنے کا لیکن اگر v کی قیمت قابل ذکر ہو جائے تو ہم اس اثر کو نوٹ کر سکتے ہیں۔

لیکن v کی قیمت c یعنی روشنی کی رفتار کے برابر نہیں ہوسکتی کیونکہ اس طرح جسم کی کمیت لامتناہی ہو جائے گی۔

اگر ہم کسی طرح یہ کر دیں تو وقت کی قیمت، پہلی مساوات میں، صفر ہو جائے گی یعنی وہ رک جائے گا۔ مگر کمیت لامتناہی اور لمبائی صفر ہونے کی وجہ سے یہ نہیں ہو سکتا۔ کسی کمیت والی چیز کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ روشنی سے تیز سفر کر سکے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

==بیرونی روابط==* نظریہ اضافت اور ڈائم ڈائیلیشن کا تصور سمجھانے کے لیے اینی میشن* وقت سست پڑنے کی مزید عملی مثالیں

سانچہ:Relativity