انٹارکٹکا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
انٹارکٹیکا

رقبہ: 14٬000٬000 مربع کلومیٹر
(5٬400٬000 مربع میل)


0 مستقل رہائش (2015)

موسم سرما میں: 1000

موسم گرما میں: 5000
انٹرنیٹ ڈومین: aq ۔
دنیا کے نقشے میں انٹارکٹکا کو سبز رنگ سے نمایاں کیا گیا ہے

انٹارکٹکا دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم ہے، جہاں قطب جنوبی واقع ہے۔ یہ دنیا کا سرد ترین، خشک ترین اور ہوا دار ترین براعظم ہے، جبکہ اس کی اوسط بلندی بھی تمام براعظموں سے زیادہ ہے۔ 14٫425 ملین مربع کلومیٹر کے ساتھ انٹارکٹکا ایشیا، افریقا، شمالی امریکا اور جنوبی امریکاکے بعد دنیا کا پانچواں بڑا براعظم ہے۔ انٹارکٹکا 98 فیصد برف سے ڈھکا ہوا ہےجس کے باعث وہاں کوئی باقاعدہ و مستقل انسانی بستی نہیں۔ صرف سائنسی مقاصد کے لئے وہاں مختلف ممالک کے سائنسدان قیام پزیر ہیں۔

انٹارکٹکا یونانی لفظ اینٹارکٹی کوس سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے آرکٹک کے مدمقابل۔

اس براعظم کو پہلی بار روسی جہاز راں میخائل لیزاریف اور فابیان گوٹلیب وون بیلنگشاسن نے 1820ء میں دیکھا۔

1959ء میں 12 ممالک کے درمیان میں معاہدہ انٹارکٹک پر دستخط ہوئے، جس کی بدولت یہاں عسکری سرگرمیاں اور معدنیاتی کان کنی کرنے پر پابندی عائد کی گئی اور سائنسی تحقیق اور براعظم کی ماحولیات کی حفاظت کے کاموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ مختلف تحقیقی کام سرانجام دینے کے لیے دنیابھر سے انٹارکٹکا پہنچنے والے سائنسدانوں کی تعداد ہر سال موسم گرما میں 5،000 سے زائد ہوجاتی ہے، جبکہ موسم سرما میں یہ تعداد کم و بیش 1٬000 تک رہ جاتی ہے۔

انٹارکٹکا کا خلائی منظر
AntarcticaDomeCSnow.jpg

انٹارکٹکا کی بلند ترین چوٹی ونسن ماسف ہے، جس کی بلند 4٬892 میٹر (16٬050 فٹ) ہے۔ یہ دنیا کا سرد ترین مقام ہے اور سب سے کم بارش بھی یہیں ہوتی ہے۔ یہاں کم سے کم درجۂ حرارت منفی 80 سے منفی 90 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ موسم گرما میں ساحلی علاقوں پر زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 5 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان میں رہتا ہے۔ بارشوں میں کمی کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قطب جنوبی پر سال میں 10 سینٹی میٹر (4 انچ) سے بھی کم بارش پڑتی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

انٹارکٹیکا میں وقت

یہاں دن رات کی تقسیم چھ چھ ماہ ہے ــ