لسان القدس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لسان القدس یا لغة مقدسة کے الفاظ عربی زبان سے لے گئے ہیں جن کا مطلب ہے پاکیزہ زبان، اعلیٰ درجے کی زبان ، یا متقی پرہیز گاروں کی زبان جو مختلف مذاہب کے اجتماعات اور مذہبی ادب میں استعمال کی جاتی ہے۔

اسلام[ترمیم]

کلاسیکی عربی یا قرآنی عربی وہ زبان ہے جو قرآن میں مستعمل ہے۔ مسلمان قرآن کو مقدس نزول سمجھتے ہیں۔ یہ پاکیزہ سمجھا جاتا ہے اور ایک دائمی دستاویز تسلیم کیا گیا ہے۔ الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ ہم معنی عربی متن کو بھی قرآن نہیں مانا گیا۔ اسی طرح دوسری زبان میں دست یات قرآن کے تراجم بھی قرآن ہی نہیں تسلیم کیے گئے ہیں؛ بلکہ انہیں تاویلی متن سمجھا گیا گیا جو مقدس پیام کو دوسری کی زبانوں تک پہنچانی کی کوشش سمجھی گئی ہے۔ اسی وجہ سے زیادہ تر نماز اور دیگر دعائیہ کلمات عربی ہی میں ہوتے ہیں۔ علمائے اسلام پر اس لیے لازم ہے کہ وہ قرآن کو عربی زبان میں سمجھیں اور اسی میں اس کی تاویل کریں۔

بدھ مت[ترمیم]

پارسیت[ترمیم]

تاؤ مت[ترمیم]

جین مت[ترمیم]

مسیحیت[ترمیم]

ہندو مت[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]