عید فسح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مضامین بسلسلہ

یہودیت

Star of David.svg
Lukhot Habrit.svg  Menora.svg

تاریخ یہودیت

عقائد
خدا کی وحدانیت · ارض اسرائیل · بنی اسرائیل · صدقہ · صنوعت
عبادات اور عبادت گاہیں
مِقواہ · شول · بیت مِقداش · منیان · شاخاریت · منخا · معاریب · شماع
تہوار
شابات · روش ھاشنہ · عشرۃ التوبہ · یوم کپور · سکوت · سِمخات توراہ · حانوکا · عیدپوریم · عید فسح · شاوُوت
اہم شخصیات
ابراہیم · سارہ · اسحاق · یعقوب عرف اسرائیل · بارہ قبائل · موسیٰ · سلیمان · داؤد
کتب و قوانین
تورات · زبور
مشنی · تلمود · ہالاخا · کاشرُوت

عید فسح (عبرانی: פֶּסַח) یہودیوں کی ایک عید جو سات دنوں تک منائی جاتی ہے، اس عید کا آغاز یہودی تقویم کے مطابق 15 اپریل سے ہوتا ہے۔ اس کو بعض مسیحی فرقے مثلاً کیتھولک بھی مناتے ہیں۔ فسح کو عید فطیر اور "بے خمیری روٹی" کی عید بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بنی اسرائیل کی فرعون سے رہائی اور خدا کے نجات بخش کام کے ذریعہ یہودیوں کو ایک قوم بنانے کی یاد میں منائی جاتی ہے۔[1]یہ عموماً بہار میں منایا جاتا ہےـ

وجہ تسمیہ[ترمیم]

عبرانی میں فسح (فَسَحَ) جس فعل سے مشتق ہے اس کا مطلب یہاں چھوڑنا ، نظر انداز کرنا ہے۔[2] فسح کی اصطلاح رسم اور قربانی کے جانور دونوں کے لئے مستعمل ہے۔[3]، بے خمیری روٹی کا بھی اس سے گہرا تعلق ہے، جب بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کا حکم دیا گيا تو اس وقت ان پر توریت میں پابندی لگائی گئی کہ وہ سب سات روز تک بے خمیری روٹی کھائیں۔ اس کے ساتھ ہی توریت میں یہ حکم ہے کہ" اس دن کو ہر سال عید سمجھ کر منانا، اور ہمیشہ ایسا کرنا"۔[4]

تورات میں تہوار منانے کا حکم[ترمیم]

تورات میں لکھا ہے:

اور تم یاد رکھو گے کہ تم مصر میں غلام تھے

اور مزید کہ اس تہوار کا منانا لازم اس لیے ہے:

کہ تم تمام زندگی وہ دن یاد رکھو جب تم ارضِ مصر سے نکلے تھے

تاریخ[ترمیم]

تورات کے جز کتاب خروج کے مطابق خدا کی منتخب قوم، بنی اسرائیل، مصر میں غلام تھی ـ غلامی میں بنی اسرائیل خدا کی عبادت اور واحدانیت بھول گئی تھی ـ موسیٰ کو خدا سے حکم ہوا کہ اپنے بندوں کو غلامی سے آزاد کرو اور واپس کنعان لے جاؤ جہاں ابرام (ابراہیم علیہ السلام) کو خدا نے بھیجا تھاـ موسیٰ مصر کے بادشاہ فرعون کے گھر میں پلے تھےـ جب خدا کا یہ حکم آیا تو موسیٰ نے فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا تقاضا کِیا مگر فرعون نے صاف انکار کر دیاـ بعض معجزات کی مدد سے موسیٰ نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان کے پاس اصلی خدا کا پیغام ہے اور وہی خدا ہے جو بنی اسرائیل کو پر امن طریقہ سے آزاد کرنے کو تیار ہے، بس فرعون کی ہاں کی دیر ہے ـ فرعون نے نہ صرف انکار کِیا بلکہ موسیٰ کے خلاف کارروائی شروع کر دی ـ آخر کار موسیٰ نے بنی اسرائیل کو آزاد کِیا اور مصر سے جزیرہ نمائے سیناء کی طرف لے آئےـ جب قوم بحیرہ احمر تک پہنچی تو موسیٰ نے پانی کو چیر کر بنی اسرائیل کے لیے راستہ بنایاـ اس طرح ہر فرد سیناء تک سلامت پہنچا لیکن فرعون اور اس کی فوج انکے پیچھے آچکی تھی ـ موسیٰ نے پانی کو چھوڑ دیا اور فرعون کے ساتھ اس کی فوج ڈوب کر ہلاک ہوگئی۔ مصر چھوڑتے ہوئے لوگوں نے جلدی میں اپنے لیے روٹی پکائی جس میں خمیرہ ڈالنے کا وقت نہیں تھا، لِہٰذا وہ بہت سوکھی اور پتلی تھی ـ یہی وجہ ہے کہ ہر سال پیساخ کے تہوار پر نیک یہودی گھرانوں میں صرف یہ روٹی کھائی جاتی ہے، جسے "ماتزہ" کہتے ہیں ـ

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قاموس الکتاب، صفحہ 674
  2. خروج 13:12
  3. اس سلسلہ میں ایک فعل ہے جس کا اشتقاقی مطلب "لنگڑانا" ہے اور جس سے دیگر نظریات نکلے ہیں۔
  4. خروج، 15:12