روح المعانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قرآن کریم کی یہ عربی تفسیر علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی کی تصنیف ہے اس تفسیر کا مکمل نام "روح المعانی فی تفسير القرآن العظيم والسبع المثانی" ہے۔

وجہ شہرت[ترمیم]

علامہ آلوسی کی وجہ شہرت تفسیر’’روح المعانی فی تفسیرالقرآن العظیم و سبع مثانی‘‘ہی ہے۔ ایسی آیات جن میں اللہ تعالی کے احکامات بیان ہوئے ہیں علامہ آلوسی ؒانکی تفسیر میں بہت تفصیل سے کام لیتے ہیں اور اکابر فقہاء کی آراء اورانکاموقف پیش کرتے ہیں اور اس موقف کے حق میں یااس کے خلاف دلائل بھی لاتے ہیں۔ احکامات سے متعلق آیات کی تفسیر میں آپ کا زیادہ تر جھکاؤ شوافع کی طرف رہتاہے اور کبھی کبھی احناف کے موقف کی بھی تائید کرتے ہیں اور بہت کم مواقع پر آپ نے اپنا جداگانہ موقف بھی اختیار کیا ہے

مجتہدانہ بصیرت[ترمیم]

جس سے جہاں آپ کی مجتہدانہ بصیرت کا پتہ چلتاہے وہاں آپ کی حزم و احتیاط بھی سامنے آتی ہے۔ اسرائیلیات سے آپ حتی الوسع پرہیز کرتے ہیں بلکہ ان مفسرین پر حیرانی کااظہار کرتے ہیں جنہوں نے اپنی تفسیر کی بہت بڑی جگہ اسرائیلیات کے لیے میسروفراہم کر دی تھی۔ علامہ آلوسی ؒکو چونکہ علم ہیئت پر بھی عبور حاصل تھااس لیے قرآن مجید میں جہاں کہیں اجسام فلکی اوراسرارکائنات کا ذک رہے وہاں آپ کا قلم اس وقت تک کی ہیئتی تحقیقات و مشاہدات کو بھی سمیٹنے لگتاہے۔

حسن باطن[ترمیم]

علامہ آلوسی ؒکے تفسیری اقوال صرف و نحو اور لغت کی بحثوں سے بھرے پڑے ہیں،اگرچہ عام قاری کے لیے یہ اسلوب بعض اوقات بہت ثقالت کا باعث بن جاتاہے لیکن جہاں قانون سازی اور استنباط احکامات کامرحلہ درپیش ہوتاہے وہاں یہ بحثیں بہت سے چھپے ہوئے گوشوں کوبے نقاب کرتی ہیں اور اس کتاب عظیم کی گہرائی اور گیرائی سے طاب علموں کو آگاہ کرتی ہیں۔ علامہ آلوسی ؒنے قرآنی آیات کے ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ ان کے باطنی حسن پر بھی بہت روشنی ڈالی ہے کہیں کہیں تو اس تفصیل کے ساتھ وہ قرآن مجید کے باطن میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں کہ ان کے عالم ہونے کی بجائے صوفی ہونے کا گمان غالب آنے لگتاہے۔ علامہ آلوسی ؒنے اپنی اس تفسیر میں مسلمانوں میں موجود بعض باطل نظریات وعقائد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان اصلاح کی کوشش کی ہے۔

تفاسیر سابقہ کا خلاصہ[ترمیم]

علامہ آلوسی ؒکی اس تفسیر کو بلاتامل گزشتہ بہترین تفاسیر کا خلاصہ کہاجاسکتاہے۔ فاضل مفسرنے اپنے تفسیری اقوال میں گزشتہ تفاسیر کے خلاصے کو گویا سمیٹ کر رکھ دیا ہے،مولف نے ابوحیان، کشاف، بیضاوی اور امام رازی ؒ کی تفاسیر سے باقاعدہ اقوال نقل کیے ہیں۔ ان مفسرین کا ذکر کرتے ہوئے ان کے احترام کو بھی علامہ آلوسی ؒنے ملحوظ خاطر رکھاہے چنانچہ بیضاوی کو ’’قاضی ‘‘لکھتے ہیں اور فخرالدین رازی کو’’امام‘‘کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان مفسرین کے اقتباسات نقل کرنے کے بعد ان پر آزادانہ بحث کرتے ہیں ان سے اتفاق کرتے ہیں اورکہیں کہیں ان سے اختلاف بھی کرنے لگتے ہیں اور ان اقوال کے درمیان تقابل پیش کر کے ان پر نقد بھی کرتے ہیں جبکہ حسب روایت آخر میں اپنی رائے کے ساتھ بحث کو سمیٹ لیتے ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]