سکینہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سکینہ

سکینہ (Shekinah, Shechinah, Shechina, یا Schechinah) (عبرانی: שכינה‎; عربی: السكينة) عبرانی لفظ کی کلمہ نویسی ہے جس مطلب الہی موجودگی کا مظہر ہے۔

اشتقاقیات[ترمیم]

عبرانی میں اس کا مادہ:شین-کاف-نون ہے، یعنی شکینہ، جس کا معرب (عربی صورت) سکینہ ہے۔[1]سکینہ (Shekinah) عبرانی فعل שכן سے ماخوذ ہے، جس کا اصل ماخذ سامی ہے جس کی لفظی معنی بسنا یا سکونت کے ہیں۔ یہ تجریدی اسم تناخ میں غیر مصدقہ ہے اور سب سے پہلے یہ یہودی تحریروں میں ملتا ہے۔[2]

یہودی ماخذ[ترمیم]

عبرانی کتاب مقدس[ترمیم]

اسم سکینہ عبرانی کتاب مقدس میں موجود نہیں، تاہم فعل (shakan) اور ماخذ (škn) کی دوسری اصطلاحات موجود ہیں۔ نہ ہی اسم کی کوئی موجودگی ربیوں سے قبل کی تحریروں مثلا بحر میت کے مخطوطات میں ہے۔

ترجُم[ترمیم]

ترجُم سکینہ (Shekinah) اسم بطور اصطلاح خروج 34:9 "let the Lord go among us" کی پراگندہ گوئی ہے، جسے ترجُم میں سکینہ (Shekinah) ایک اسم کی صورت میں لیا گیا ہے۔[3]

تلمود[ترمیم]

تلمود میں ہے:

the Shekinah rests on man neither through gloom, nor through sloth, nor through frivolity, nor through levity, nor through talk, nor through idle chatter, but only through a matter of joy in connection with a precept, as it is said, But now bring me a minstrel. And it came to pass, when the minstrel played, that the hand of the Lord came upon him

[سلاطین 2 3:15] [شبات 30b]

مسیحیت[ترمیم]

خدا کی موجودگی یا جلال کا اشارہ عبرابی کتابوں کے علاوہ، بہت سے مسیحی اس بات پر متفق ہیں کہ عہد نامہ جدید سکینہ متعدد صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔

پبلک ڈومین ایسٹں بائبل ڈکشنری، 1897 میں شائع کے مطابق:

Shekinah – a Chaldee word meaning resting-place, not found in Scripture, but used by the later Jews to designate the visible symbol of God's presence in the Tabernacle, and afterwards in Solomon's temple. When the Lord led Israel out of Egypt, he went before them "in a pillar of a cloud." This was the symbol of his presence with his people. God also spoke to Moses through the 'Shekinah' out of a burning bush. For references made to it during the wilderness wanderings, see Exodus 14:20; 40:34-38; Leviticus 9:23, 24; Numbers 14:10; 16:19, 42. It is probable that after the entrance into Canaan this glory-cloud settled in the tabernacle upon the ark of the covenant in the most holy place. We have, however, no special reference to it till the consecration of the temple by Solomon, when it filled the whole house with its glory, so that the priests could not stand to minister (1 Kings 8:10–13; 2 Chr. 5:13, 14; 7:1–3). Probably it remained in the first temple in the holy of holies as the symbol of Jehovah’s presence so long as that temple stood. It afterwards disappeared. [1]

مسیحیت میں سکینہ کے حوالے سے کتاب خروج کی یہ آیت ہے۔[4]

تب موسیٰ پہاڑ پر چڑھا اور بادل نے پہاڑ کو ڈھک لیا۔ خدا وند کا جلال سینائی پہاڑ پر آیا۔ بادل نے چھ دن تک پہاڑ کو ڈھکے رکھا۔ ساتویں دن خدا نے بادلوں میں سے موسیٰ سے بات کی۔بنی اسرائیل خدا وند کے جلال کو دیکھ سکتے تھے۔ یہ پہاڑ کی چوٹی پر جلتی ہو ئی روشنی کی طرح تھی۔

— کتاب خروج 17-24:15

روح[ترمیم]

کیوں کہ نبوت کی کو ئی بات آدمی کی مر ضی سے نہیں آئی۔ لیکن وہ لوگ روح القدس کی رہنمائی کے سبب سے خدا کا پیغام بولتے تھے۔[5]

جلال[ترمیم]

لوقا کی انجیل 2:9 کے مطابق "glory of the Lord" (یسوع کی پیدائش پر چرواہوں پر چمک) [6]

موجودگی الہی[ترمیم]

خدا وند نے راستہ دکھا یا۔ دن کے وقت خدا وند بادل کے ستون میں ان لوگوں کو راستہ دکھا نے کے لیے تھا۔ اور رات میں خدا وند آ گ کے ستون میں تھا روشنی دینے کے لیے۔ تاکہ وہ دن اور رات میں بھی سفر کر سکیں۔

— کتاب خروج 13:21

اسلام[ترمیم]

قرآن مجید میں سکینہ کا ذکر چھ بار سورت 2، 9 اور 48 میں آیا ہے۔

حسین ابن علی نے اپنی ایک بیٹی کا نام سکینہ رکھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسیحی اشاعت خانہ، قاموس الکتاب، بار ہشتم، 2005ء صفحہ 577
  2. Martin McNamara, Targum and Testament Revisited: Aramaic Paraphrases of the Hebrew Bible, Wm. B. Eerdmans Publishing, 2nd ed. 2010 p.148-9.
  3. Paul V.M. Flesher, Bruce D. Chilton The Targums: A Critical Introduction 900421769X 2011 - Page 45 "The first comprises the use of the term “Shekinah” (.....) which is usually used to speak of God's presence in Israel's worship. The Hebrew text of Exodus 34:9, for instance, has Moses pray, “let the Lord go among us” which Targum ..."
  4. Zechariah and Jewish Renewal Fred P. Miller
  5. 2 پطرس 1:21
  6. Acclamations of the Birth of Christ, by J. Hampton Keathley, III, Th.M. at bible.org (retrieved 13 August 2006