ہیکل دوم کی یہودیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہیکل دوم کی یہودیت یروشلیم میں 515 قبل مسیح میں معبد دوم کی تعمیر تک اور 70 قبل مسیح میں رومیوں کے ہاتھوں اس کی تباہی تک کے دور پر محیط ہے۔ ارتقا شریعت مقدس عبرانی، کنیسہ، یہودیوں کے آخرالزمانی کا انتظار اور ظہور مسیح اس دور دوم میں شامل تصور کیے جاتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

Jerus-n4i.jpg


ادوار

(توجہ : تواریخ و ادوار مختلف جہات سے یا تو اندازہ ہیں یا پھر روایتی )

بابل کی اسیری ، 586-539 قبل مسیح

فارسی، 539-333 قبل مسیح

هلنیستی، 333-164 سال قبل مسیح

پتلویمیک، 301-200 سال قبل مسیح

سلوکید، 200-164 سال قبل مسیح

ہشمونی، 164-63 سال قبل مسیح

رومی، 63 سال قبل مسیح - 70 دور عام

یروشلیم اور یہود[ترمیم]

معبد اوّل کا دور 586 قبل مسیح میں اس وقت اختتام پزیر ہوا جب بابل کے بادشاہ نبوکدنزر نے حملہ کر کے یروشلیم پر قبضہ کر لیا، ہیکل سلیمانی کو تباہ کر دیا اور عوام کی ایک کثیر تعداد کو بابل کی طرف جلاوطن ( بابل کی اسیری ) کر دیا اور یا قید کر کے لے گیا۔[1] 539 قبل مسیح میں ایرانی ( فارسی ) فاتح سائرس اعظم نے بابل کو فتح کر لیا اور 538 قبل مسیح میں اسیران بابل ( یا بابل میں جلاوطن ) یہودیوں کو یہود مدیناتا واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔ جو بحیثیت فارسی صوبہ سلطنت یہوداہ کا اس وقت کا علاقہ تھا۔ عام طور پر معبد دوم کی تعمیر کا عرصہ 520-515 قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے۔ لیک ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ضمن میں بیان کیا جانے والا یہ دور افسانوی ہے اور محض اس کیے تخلیق دیا گیا ہے تاکہ معبد اوّل کی تباہی اور معبد دوم کی تعمیر کے دوران یرمیاہ کی بیان کی گئی ستر برس گزر جانے کی پیش گوئی سچ ثابت ہو سکے۔[2][3][4]

یہود جلاوطنی[ترمیم]

بابل کی اسیری یا جلاوطنی سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ یہودی وہاں غلام تھے یا قیدی بنا کر رکھے گئے تھے اور نہ ہی ایسا تھا کہ وہ انتہائی کسمپرسی اور دباؤ کے شکار تھے بلکہ جب ایران ( فارس ) نے بابل پر قبضہ کر لیا اور یہودیوں کو واپس یروشلیم جانے کی اجازت دے دی گئی تو ان میں سے اکثر اپنی مرضی سے بابل میں ہی مقیم رہے۔[5][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Grabbe 2010، صفحہ۔ 2.
  2. Grabbe 2010، صفحہ۔ 2–3.
  3. Coogan, Brettler & Newsom 2007، صفحہ۔ xxii.
  4. Davies 2005، صفحہ۔ 89.
  5. Albertz 2003، صفحہ۔ 101.
  6. Berquist 2007، صفحہ۔ 3-4.