اعتکاف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔ شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں۔

اعتکاف قرآن میں[ترمیم]

  • پچھلی قوموں میں بھی اعتکاف کی عبادت موجود تھی، قرآن میں ہے:

ترجمہ [[کنزالایمان

اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرہ گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے۔[1]

اعتکاف حدیث میں[ترمیم]

  • ’’محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ عائشہ سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات (بیویاں) اعتکاف کرتی رہیں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔[2][3][4][5]

پس منظر[ترمیم]

اللہ تعالٰیٰ کی قربت و رضا کے حصول کے لئے گزشتہ امتوں نے ایسی ریاضتیں لازم کر لی تھیں، جو اللہ نے ان پر فرض نہیں کی تھیں۔ قرآن حکیم نے ان عبادت گزار گروہوں کو ’’رہبان اور احبار‘‘ سے موسوم کیا ہے۔ تاجدار کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقرب الی اللہ کے لئے رہبانیت کو ترک کر کے اپنی امت کے لئے اعلیٰ ترین اور آسان ترین طریقہ عطا فرمایا، جو ظاہری خلوت کی بجائے باطنی خلوت کے تصور پر مبنی ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لئے دنیا کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کی محبت کو دل سے نکال دینا اصل کمال ہے۔

شرائط اعتکاف[ترمیم]

اعتکاف جماعت والی مسجد میں ہی درست ہے یعنی ایسی مسجد جہاں لوگ باجماعت نماز کی ادائیگی کے لئے اکٹھے ہوتے ہوں۔ شمنی نے کہا : جماعت والی مسجد اعتکاف کے لئے شرط ہے اور اس سے مراد ایسی مسجد ہے جہاں مؤذن اور امام مقرر ہو اور اس میں پانچ وقت کی نمازیں یا کچھ نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہوں۔ اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے : اعتکاف صرف ایسی جامع مسجد میں درست ہے جہاں پانچوں وقت کی نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہوں اور یہی امام احمد کا قول ہے۔ علامہ ابن ہمام نے کہا : اس کو بعض مشائخ نے صحیح قرار دیا ہے۔ قاضی خان نے کہا : اور ایک روایت میں ہے کہ اعتکاف جامع مسجد میں ہی درست ہے اور یہی حدیث کا ظاہری معنی ہے۔ اور امام ابو یوسف اور امام محمد سے مروی ہے کہ اعتکاف کسی بھی مسجد میں جائز ہے اور یہی امام مالک اور امام شافعی کا بھی قول ہے۔[6]
  • *سنت یہ ہے کہ 19 رمضان کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے مسجد میں معتکف پہنچ جائے۔
  • علامہ ابو الحسن سندھی لکھتے ہیں:
راوی کے قول’’ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے‘‘ سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اول وقت جس میں معتکف اعتکاف گاہ میں داخل ہوتا ہے وہ سورج غروب ہونے سے تھوڑی دیر قبل ہے اور اسی بات پر ائمہ اربعہ اور اہل علم کے ایک طبقہ کا اتفاق ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی ترغیب دیا کرتے تھے اور دس کا شمار راتوں کی گنتی کے اعتبار سے کیا ہے۔ پس اس میں (عشرہ اخیرہ کی) پہلی رات بھی شامل ہے ورنہ یہ عدد بالکل پورا ہی نہیں ہوتا۔[7]

ایام اعتکاف[ترمیم]

رمضان کےآخری دس دن کا اعتکاف[ترمیم]

  • حضرت عبد اﷲ بن عمر سے روایت ہے : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرے(دس دن) کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔[8]

رمضان کےآخری بیس دن کا اعتکاف[ترمیم]

  • حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے۔ لیکن جس سال آپ کا وصال ہوا اس سال آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔[9][10][11][12]

پورے رمضان کا اعتکاف[ترمیم]

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بار یکم رمضان تا بیس رمضان تک اعتکاف کرنے کے بعد فرمایا: میں نے شب قدر کی تلاش کے لئے رمضان کے پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا پھر درمیانی عشرہ کا اعتکاف کیا پھر مجھے بتایا گيا کہ شب قدر آخری عشرہ میں ہے سو تم میں سے جو شخص میرے ساتھ اعتکاف کرنا چاہے، وہ کر لے۔[13]

رمضان کے علاوہ اعتکاف[ترمیم]

اعتکاف کی اقسام[ترمیم]

واجب اعتکاف[ترمیم]

سنت اعتکاف[ترمیم]

نفل اعتکاف[ترمیم]

اعتکاف کی قضا[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قرآن مقدس، سورہ بقرہ،آیت 125، ترجمہ کنزالایمان
  2. أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف في العشر الأواخر والاعتکاف في المساجد، جلد2 صفحہ713، حدیث نمبر 1922،
  3. مسلم في الصحيح، کتاب الاعتکاف، باب اعتکاف العشر الأواخر من رمضان،جلد 2 صفحہ831، حدیث نمبر 1172
  4. وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب الاعتکاف،جلد 2 صفحہ331، حدیث نمبر2462
  5. الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في الاعتکاف، وقال : حديث حسن صحيح، جلد 3 صفحہ157، حدیث نمبر 790
  6. ملا علی قاری، مرقاة المفاتيح، جلد 4 صفحہ530.
  7. أبو الحسن سندھی، حاشيہ علی سنن النسائی، جلد2 صفحہ 44
  8. أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف في العشر الأواخر والاعتکاف في المساجد کلها، جلد2 صفحہ713، حدیث نمبر1921/أحمد بن حنبل في المسند، جلد2 صفحہ133، حدیث نمبر6127.
  9. البخاري في الصحيح، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف في العشر الأوسط من رمضان، جلد2 صفحہ 719، حدیث1939
  10. أحمد بن حنبل في المسند، جلد2 صفحہ 355، حدیث8647
  11. أبو داود في السنن کتاب الصوم، باب أين يکون الاعتکاف، جلد2 صفحہ332، حدیث2466
  12. ابن ماجه في السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء في الاعتکاف، جلد1 صفحہ562،حدیث1769.
  13. صحیح مسلم، صفحہ 594، حدیث 1168