عکرمہ بن ابوجہل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عکرمہ بن عمرو سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
عکرمہ بن عمرو/عكرمہ بن ابی جہل
عكرمہ بن عمرو بن ہشام بن مغیرہ
عکرمہ بن ابوجہل

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 598  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 636 (37–38 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دریائے یرموک  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ام حكيم بنت حارث بن ہشام بن مغیرہ
والد ابوجہل  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رشتے دار والد: عمرو بن ہشام بن مغیرہ
والدہ: ام مجالد من بنی ہلال بن عامر بن صعصعہ
بھائی: زرارة، تممی
عملی زندگی
نسب مخزومی قرشی
تاریخ قبول اسلام 8 ہجری (يوم فتح مكہ)
پیشہ عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں فتح مکہ، جنگ یرموک  ویکی ڈیٹا پر لڑائی (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عکرمہ بن عمرو عکرمہ بن ابو جہل عمرو بنِ ہشام المخزومی یہ ابوجہل کے بیٹے ہیں جو بعد کو اسلام لائے۔

نام ونسب[ترمیم]

عکرمہ نام، باپ کا نام ابو جہل تھا، نسب نامہ یہ ہے ،عکرمہ بن ابی جہل بن ہشام ابن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ بن کعب بن لوئی قرشی مخزومی ان کا لقب الراکب المہاجر تھا

قبل از اسلام[ترمیم]

عکرمہ مشہور دشمن اسلام ابو جہل کے بیٹے ہیں، باپ کی طرح یہ بھی اسلام اورمسلمانوں کے خلاف بڑی سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا،اس معرکہ میں ان کا باپ معوذ اورمعاذ دو نوجوان کے ہاتھوں سے مارا گیا، باپ کو خاک وخون میں تڑپتا دیکھ کر عکرمہ نے اس کے قاتل معاذ پر ایسا وار کیا کہ معاذ کا ہاتھ لٹک گیابدر کے بعد جن لوگوں نے ابو سفیان کو مقتولین بدر کے انتقام لینے پرآمادہ کیا تھا،ان میں ایک عکرمہ بھی تھے، احد میں یہ اور خالد مشرکین کی کمان کرتے تھے، 5ھ میں جب تمام مشرکین عرب نے اپنے قبیلوں کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی تو عکرمہ بھی بنی کنانہ کو لیکر مسلمانوں کے استیصال کے لیے گئے فتح مکہ میں اہل مکہ نے بغیر کسی مقابلہ کے سپر ڈال دی تھی،لیکن بعضوں نے جن میں عصبیت زیادہ تھی مزاحمت کی، ان میں ایک عکرمہ بھی تھے غرض شروع سے آخر تک اُنہوں نے ہر موقع پر اپنی اسلام دشمنی کا پورا ثبوت دیا۔[1] یہ بھاگ کر یمن چلے گئے لیکن ان کی بیوی اُمِ حکیم جو ابوجہل کی بھتیجی تھیں انہوں نے اسلام قبول کرلیااوراپنے شوہر عکرمہ کے لیے بارگاہ رسالت میں معافی کی درخواست پیش کی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معاف فرمادیا۔ اُمِ حکیم خود یمن گئیں اور معافی کا حال بیان کیا۔ عکرمہ حیران رہ گئے اور انتہائی تعجب کے ساتھ کہا کہ کیا مجھ کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے معاف کر دیا! بہرحال اپنی بیوی کے ساتھ بارگاہ رسالت میں مسلمان ہوکر حاضر ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو بے حد خوش ہوئے اور اس تیزی سے ان کی طرف بڑھے کہ جسم اطہر سے چادر گر پڑی۔ اور ملتے ہوئے فرمایا(مَرْحَباً بِالرَّاكِبِ المُهَاجِرِ) اے ہجرت کرنے والے سوار مرحبا پھر عکرمہ نے خوشی خوشی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت اسلام کی۔ (موطا امام مالک کتاب النکاح وغیرہ)[2][3]

شہادت[ترمیم]

عکرمہ کی جائے شہادت میں بڑا اختلاف ہے،بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فحل میں جامِ شہادت پیا اوربعضوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یرموک میں اور کچھ راوی اجنادین اور مرج صفر بتاتے ہیں ،زیادہ صحیح یہ ہے کہان کی شہادت خلافت ابوبکر صدیق جنگ یرموک میں ہوئی[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرۃ ابن ہشام:2/365
  2. سیرتِ مصطفی، مؤلف عبد المصطفیٰ اعظمی، صفحہ449، مکتبۃ المدینہ، باب المد ینہ، کراچی۔
  3. سیر اعلام البنلاء علامہ ذھبی
  4. رواۃ التھذیبین