قیصر بارہوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قیصر بارہوی
پیدائش 16 جنوری 1928(1928-01-16)ء
بارہہ، برطانوی ہندوستان
وفات 26 دسمبر 1992(1992-12-26)ءکراچی، پاکستان
قلمی نام قیصر بارہوی
پیشہ سرکاری ملازمت ، شاعر
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف مرثیہ گوئ
نمایاں کام

شبابِ فطرت

موج شہر

بارگاہ ( قصائد کا مجموعہ )

امتزاج ( غزلوں کا دیوان )

قیصر بارہوی (1928 - 1996) کا شمار پاکستان کے ممتاز مرثیہ نگاروں میں ہوتا ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

نام سید قیصر عباس زیدی المعروف قیصر بارہوی 16 جنوری 1928 کو بارہہ کی ایک بستی کیتھوڑا میں پیدا ہوئے۔ والد سید وزارت حسین زیدی کے زیرِ تربیت ابتدای تعلیم پای ۔ گیارہ برس کی عمر میں لکھنؤ آۓ اور 1950 تک وہاں مقیم رہ کر مغربی تعلیم کے ساتھ علومِ مشرقی کی تحصیل بھی کی ۔ علم عروض کو بھی سیکھا ۔ 1938 میں شاعری کی ابتدا کی ۔شاعری میں نجم آفندی سے متاثر تھے ۔[1] اور انیس کے بھی معتقد تھے۔1950 میں وہ 22 برس کہ عمر میں جب پاکستان آئے تو ادارہِ ترقیاتِ تھل میں انہوں نے گورنمنٹ کی ملازمت اختیار کی ۔ملازمت کے سلسلے میں وہ پنجاب کے مختلف شہروں میں رہے ۔ پنجاب کے مختلف حصوں میں رہے تاہم 1969 میں ادارہ ترقیاتِ تھل ختم ہو جانے کے بعد انہیں ریونیو بورڈ کی تھل برانچ میں ملازمت مل گئی لہذا مستقل طور پر لاہور میں سکونت اختیار کی ۔

شعرو شاعری[ترمیم]

قیصر بارہوی نے لکھنؤ کے زمانے سے ہی غزل ، سلام ، قصیدے اور رباعیات کہیں ۔البتہ اس قادرا لکلام شاعر نے 1952 میں پہلا مرثیہ کہا ۔ ابتدای سات مرثیوں کا مجموعہ شبابِ فطرت شائع ہوا ۔اور جلد ہی اس زود گو شاعر نے مرثیہ گوئ کے حوالے سے ملک گیر شہرت پا لی ۔ جناب قیصر بارہوی نے نہ صرف مرثیہ خوانی اور اسکی ترویج میں کارہائے نمایاں انجام دیئے بلکہ انہوں نے مرثیہ میں ایک ایسا لحن اختیار کیا جو انکی شخصیت کے ساتھ ہی مخصوص ہو کر رہ گیا ۔ ۔

نمونہِ کلام[ترمیم]

مرثیہ کا بند

جب کربلا کی سمت بڑھا حق کا رہنما کچھ آگیا خیال جو ماں کے مزار کا
آیا سوۓ بقیع وہ ، زہراؑ کا لاڈلا رخسار رکھ کے صدرِ لحد پر یہ دی صدا
چھٹتا ہے اب مدینہ میرے دل کو تھام لو
اماں غریب بیٹے کا آخر سلام لو

مرثیہ کا بند

پھر خیمہ نگاہ سے تازہ دھُواں اُٹھا پھر کاروانِ فکر سے شور فغاں اُٹھا
دل کی زمیں سے درد کا اِک آسماں اُٹھا پھر ہر نفس کیساتھ غمِ بیکراں اُٹھا
ہیں گرم آنسوؤں میں سمندر ملال کے
پانی پہ چل رہے ہیں سفینے خیال کے

کتب[ترمیم]

جناب قیصر بارہوی نے تقریباً 85 /86 مرثیے کہے ۔[2]جو مختلف مجموعوں میں بھی شائع ہوئے ۔

  1. شبابِ فطرت( سات مرثیئے )سب سے پہلا مجموعہ
  2. موج شہر
  3. عظیم مرثیے ( 12 مرثیئے ) 1978
  4. منتخب مرثیئے
  5. منفرد مرثیئے
  6. معتبر مرثیئے
  7. بارگاہ ( قصائد کا مجموعہ )
  8. امتزاج ( غزلوں کا دیوان )

تنقید و آرا[ترمیم]

ممتاز مرثیہ گو ڈاکٹر مسعود رضا خاکی نے قیصر بارہوی کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ۔

قیصر بارہوی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اردو مرثیئے کی ان حدود کا احترام کرتے ہیں جو انیس و دبیر نے قائم کی ہیں۔

تاہم عاشور کاظمی کے نزدیک ان کی شاعری میں جدت بہر طور قائم رہی، وہ کہتے ہیں۔

انیس و دبیر کی قائم کردہ حدود میں رہ کر بھی منفرد لب و لہجہ میں انہوں نے جدید مرثیہ کے فن اور مقصد دونوں کو نہایت سلیقہ مندی اور ذہانت سے برتا ہے ۔

جدید مرثیہ مصائبِ سید الشہدا کے بیان میں بہت پیچھے ہے ۔ لیکن قیصر بارہوی مصائب اور فضائل دونوں میں ایک متوازن رشتہ قائم رکھتے ہیں ۔

وفات[ترمیم]

جناب قیصر بارہوی نے 26 دسمبر 1996 میں کراچی میں وفات پائ ۔[3]


حوالہ جات[ترمیم]