محرم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اسلامی تقویم

  1. محرم
  2. صفر
  3. ربیع الاول
  4. ربیع الثانی
  5. جمادی الاول
  6. جمادی الثانی
  7. رجب
  8. شعبان
  9. رمضان
  10. شوال
  11. ذوالقعدہ
  12. ذوالحجہ

محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اسے محرم الحرام بھی کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اس مہینے کو انتہائی قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے یہ احترام جاری رکھآ۔ اس مہینے میں جنگ و جدل ممنوع ہے۔ اسی حرمت کی وجہ سے اسے محرم کہتے ہیں۔ اس مہینے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس مہینے کے اہم واقعات میں یکم محرم کو خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق شہید ہوئے۔ دس تاریخ کو امام حسین ابن علی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت (بروز عاشورہ)، امام زین العابدین علی ابن حسین کی شہادت (25 تاریخ) اور صحابی رسول حضرت میثم تمار کی شہادت (27 تاریخ) شامل ہیں۔یقینا محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا اوربابرکت مہینہ ہے ، اسی ماہ مبارک سے ھجری سال کی ابتداء ہوتی ہے اوریہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارہ میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

یقینا اللہ تعالٰی کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور (یہ تعداد) اسی دن سے قائم ہے جب سے آسمان وزمین کو اللہ نے پیدا فرمایا تھا، ان میں سے چارحرمت و ادب والے مہینے ہیں، یہی درست اورصحیح دین ہے، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو ، اورتم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں ، اور معلوم رہے کہ اللہ تعالٰی متقیوں کے ساتھ ہے۔ [1]

اورابوبکرہ رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سلامی سال یعنی قمری سال یا ہجری سال کا پہلا مہینہ محرّم الحرّم بابرکت اور مقدس مہینہ ہے

محرم کو محرم اس لیے بھی کہا جا تا ہے ب سے اس نے آسمان و زمین بنانے ہے ک بار کسی نے آ قا نے کرہم سے عرض کی کہ یا ر سو ل الله فرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل ہےاور رمضان کے فرض روزے کے بعد کس مہینے کے روزے افضل ہے، حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ا ر شاد فرمایا کہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز نماز تہجد ہے اور رمضان کے بعد افضل روزے محرّم الحرّم کے ہیں۔ جو شخص محرّم کی پہلی رات کو دو رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ سورہ فاتحہ کے بعد سورہ کے (سال کے بارہ میں مہینے ہیں جن میں سے چارحرمت والے ہیں ، تین تو مسلسل ہیں ، ذوالقعدہ ، ذوالحجۃ ، اورمحرم ، اورجمادی اورشعبان کے مابین رجب کامہینہ جسے رجب مضرکہا جاتا ہے) [2]

اورمحرم کو محرم اس لیے کہ جاتا ہے کہ یہ حرمت والا مہینہ ہے اوراس کی حرمت کی تاکید کے لیے اسے محرم کانام دیا گياہے ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا یہ فرمان :

لہذا تم ان میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو

اس کا معنی یہ ہےکہ:

یعنی ان حرمت والے مہینوں میں ظلم نہ کرو کیونکہ ان میں گناہ کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زيادہ شدید ہے ۔

اورابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہما سے اس آيت

لہذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پرظلم وستم نہ کرو

کے بارہ میں مروی ہے :

تم ان سب مہینوں میں ظلم نہ کرو اورپھر ان مہینوں میں سے چارکو مخصوص کرکےانہيں حرمت والے قراردیا اوران کی حرمت کوبھی بہت ‏عظيم قراردیتے ہوئے ان مہینوں میں گناہ کاارتکاب کرنا بھی عظیم گناہ کا باعث قرار دیا اوران میں اعمال صالحہ کرنا بھی عظيم اجروثواب کاباعث بنایا ۔

اورقتادہ رحمہ اللہ تعالٰی اس آیت :

لہذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم وستم نہ کرو

کے بارہ میں کہتے ہيں :

حرمت والے مہینوں میں ظلم وستم کرنادوسرے مہینوں کی بنسبت یقینا زيادہ گناہ اوربرائي کا باعث ہے، اگرچہ ہرحالت میں ظلم بہت بڑي اور عظيم چيز ہے لیکن اللہ سبحانہ وتعالی اپنے امرمیں سے جسے چاہے عظيم بنا دیتا ہے۔

اورقتادہ RAHMAT.PNG کہتے ہيں: بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی مخلوق میں سے کچھ کو اختیار کرکے اسے چن لیا ہے : فرشتوں میں سے بھی پیغمبر چنے اورانسانوں میں سے بھی رسول بنائے، اورکلام سے اپنا ذکر چنا اورزمین سے مساجد کو اختیار کیا، اورمہینوں میں سے رمضان المبارک اورحرمت والے مہینے چنے ، اورایام میں سے جمعہ کا دن اختیارکیا، اورراتوں میں سے لیلۃ القدرکو چنا، لہذا جسے اللہ تعالٰی نے تعظیم دی ہے تم بھی اس کی تعظیم کرو، کیونکہ اہل علم وفہم اور ارباب حل وعقد کے ہاں امور کی تعظیم بھی اسی چيز کےساتھ کی جاتی ہے جسے اللہ تعالٰی نے تعظيم دی ہے۔ [3]

محرم الحرام کے مہینہ میں کثرت سے روزے رکھنے کی فضیلت[ترمیم]

ابوہریرہ RAZI.PNG بیان کرتے ہيں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

رمضان المبارک کے بعدافضل ترین روزے اللہ تعال کے مہینہ محرم الحرام کے روزے ہيں۔ [4]

شھر الله یعنی اللہ تعالٰی کا مہینہ، یہاں مہینہ کی اضافہ کی اضافت اللہ تعالی کے جانب تعظیماً کی گئي ہے؛ یہ اضافت تعظیمی کہلاتی ہے ۔

ملا علی قاریRAHMAT.PNG کا قول ہے : ظاہر ہے کہ یہاں سب حرمت والے مہینے مراد ہيں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مہینہ کے مکمل روزے نہیں رکھے ، لہذا اس حدیث کومحرم میں کثرت سےروزے رکھنے پرمحمول کیا جائے گا نہ کہ پورے محرم کے روزے رکھنے پر ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ شعبان کے مہینہ میں کثرت سے روزہ رکھا کرتے تھے ، ہوسکتا ہے کہ محرم کی فضیلت کے بارہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوآخری عمر میں وحی کی گئي ہو اورآپ روزے نہ رکھ سکے ہوں ۔ [5]

اللہ سبحانہ وتعالی ہی جگہ اورزمانے و اوقات سے جوچاہے اختیار کرلیتا ہے۔

عزبن عبدالسلام رحمہ اللہ تعالٰی کہتے ہیں :

جگہوں اورزمانے کی فضیلت دوقسموں کی ہوتی ہے :

ایک قسم تو دنیاوی ہے اوردوسری دینی، جو اللہ تعالٰی کی طرف لوٹتی ہے جس میں اللہ تعالٰی اپنے بندوں پران اوقات اورجگہوں میں عمل کرنے والوں پراجرو ثواب عطا کرتا ہے، مثلا رمضان المبارک کے روزوں کوباقی سارے مہینوں کے روزوں پرفضیلت حاصل ہے، اوراسی طرح عاشوراء کےدن روزہ رکھنے کی فضلیت۔ تواس کی فضیلت اللہ تعالٰی کی جود وسخا اوراپنے بندوں پراحسان کی طرف لوٹتی ہے ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ التوبۃ (36)
  2. ^ صحیح بخاری حدیث نمبر (2958)۔
  3. ^ دیکھیں تفسیر ابن کثیر سورۃ التوبۃ آیت نمبر ( 36 )۔
  4. ^ صحیح مسلم حدیث نمبر (1982)۔
  5. ^ دیکھیں: شرح مسلم للنووی رحمہ اللہ ۔
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=محرم&oldid=800667’’ مستعادہ منجانب