تاسوعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تاسوعہ 9 محرم الحرام کا دن اور اس سے مراد واقعۂ کربلا کی تاسوعہ (٩محرم سنہ 61ھ قمری) ہے۔ اسی دن سنہ 61ھ میں شمر، عبید اللہ بن زیاد کا خط لے کر کربلا میں داخل ہوا جس میں عمر بن سعد بن ابی وقاص کو حکم دیا گیا تھا کہ یا تو وہ امام حسین(ع) کے ساتھ سخت رویہ اپنائے یا پھر لشکر کی قیادت شمر کے سپرد کر دے۔ عمر بن سعد نے لشکر کی کمان شمر کو سپرد کرنے سے اجتناب کیا اور امام حسین(ع) کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہوا۔ اس دن عمر بن سعد کے لشکر نے خیام حسینی کی طرف یلغار کرنے کا ارادہ کیا تو امام حسین(ع) نے اپنے بھائی حضرت عباس علیہ السلام کو ابن سعد کی طرف بھیجا کہ وہ انہیں ایک رات کی مہلت دے۔

نیز اسی دن شمر حضرت عباس علیہ السلام(ع) اور ام البنین کے دوسرے بیٹوں کے لیے امان نامہ لے کر آیا لیکن عباس بن علی(ع) نے امان نامہ قبول نہیں کیا۔ اسی بنا پر یہ دن شیعیان اہل بیت(ع) کے نزدیک بہت زیادہ مذہبی اہمیت کا حامل ہے۔ شیعیان اہل بیت(ع) تاسوعہ کو یوم عباس بن علی(ع) کے طور پر مناتے ہیں اور اس کو روز عاشورہ کی مانند تعظیم و تکریم اور احترام و عقیدت سے مناتے ہیں اور اس دن عباس علمدار(ع) کے فضائل بیان کرتے ہیں اور ان کی عزاداری کرتے ہیں۔ اس دن ایران میں، عاشورہ کی مانند سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔

تاسوعہ کے معنی[ترمیم]

محرم الحرام کے نویں دن کو "تاسوعہ" کہا جاتا ہے۔ تاسوعہ عربی کے لفظ "تسع" ـ بمعنی 9 یا نویں سے ماخوذ ہے لیکن اس کی شہرت کا سب واقعات ہیں جو محرم الحرام سنہ 61 ھ کو کربلا کی زمین پر رونما ہوئے ہیں۔

واقعات[ترمیم]

تاسوعہ کا دن وہ آخری دن ہے جس دن کی امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب نے رات بھی دیکھی اور یہ دن واقعہ کربلا کی شب سے منسلک ہے جسے شب عاشور کہا جاتا ہے۔ عاشور کی شب کے بہت سے واقعات ہیں جو ایک مستقل مضمون کے متقاضی ہیں۔

کربلا میں شمر کی آمد[ترمیم]

9 محرم ـ تاسوعہ ـ کے دن دوپہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر کربلا میں داخل ہوا۔،[1][2] وہ عمر بن سعد کے لیے عبیداللہ بن زیاد کا خط لے کر آیا تھا چنانچہ کربلا پہنچتے ہی اس نے خط ابن سعد کے سپرد کیا۔ اس خط میں ابن زياد نے ابن سعد کو حکم دیا تھا کہ یا تو امام حسین(ع) کو بیعت پر مجبور کرے یا پھر آپ(ع) کے خلاف لڑائی چھیڑ دے۔

عبید اللہ نے اس خط کے ضمن میں عمر بن سعد کو دھمکی آمیز انداز سے لکھا تھا کہ اگر وہ اس کے احکامات کی مکمل تعمیل نہ کرے تو اس کو لشکر سے کنارہ کشی کرکے اس کی سربراہی کا عہدہ شمر کے سپرد کرنا پڑے گا۔[3].[4].[2].[5].[6].[7].[8]

لیکن ابن سعد نے شمر سے کہا: "میں لشکر کی امارت تمہارے حوالے نہیں کروں گا اور میں تیرے وجود میں اس کام کی اہلیت نہیں دیکھ رہا ہوں چنانچہ میں اس کام کو خود ہی انجام تک پہنچا دوں گا؛ تم صرف پیدل دستوں کے سالار رہو"۔[9].[10].[11].[12].[13].[14]

ام البنین کے بیٹوں کا امان نامہ[ترمیم]

(کوفہ میں) شمر نے عمر سعد کے لیے عبید اللہ کا خط لینا چاہا تو اس نے ام البنین(س) کے بھتیجے عبداللہ بن ابی المحل کے ساتھ مل کر اپنے بھانجوں کے لیے امان نامہ دینے کی درخواست کی۔ عبید اللہ نے اس تجویز کو پسند کیا۔[15].[16].[17]

عبد اللہ بن ابی المحل نے مذکورہ امان نامہ اپنے غلام "کزمان یا عرفان" کے ہاتھوں کربلا ارسال کیا اور کربلا پہنچنے کے بعد امان نامے کا متن ام البنین(س) کے فرزندوں کے لیے پڑھا۔ لیکن انھوں نے امان نامہ مسترد کر دیا۔[18].[19].[20].[13]

دوسری روایت کے مطابق شمر خود ہی امان نامہ لے کر کربلا میں عباس بن علی(ع) اور ان کے بھائیوں عبداللہ، جعفر اور عثمان کو پہنچایا۔[21].[22]

عباس(ع) اور ان کے بھائی ابا عبداللہ الحسین(ع) کے پاس بیٹھے تھے اور شمر کا جواب دے رہے تھے۔ امام(ع) نے بھائی عباس(ع) سے فرمایا: "گو کہ وہ فاسق ہے لیکن اس کا جواب دے دو، بے شک وہ تمہارے مامؤوں میں سے ہے". عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور شمر سے کہا: "کیا چاہتے ہو؟" شمر نے ان سے کہا: "اے میرے بھانجو! تم امان میں ہو؛ میں نے تمہارے لیے عبید اللہ بن زیاد سے امان نامہ حاصل کیا ہے". لیکن عباس اور ان کے بھائیوں نے مل کر کہا: "خدا تم پر اور تمہارے امان نامے پر لعنت کرے؛ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ہم امان میں ہوں اور بنت پیغمبر کی اولاد (ص) امان میں نہ ہوں"۔[23].[24].[25].[26].[27]

ام البنین سلام اللہ علیہا(س) کے بیٹوں کی طرف سے ابن زیاد کا امان نامہ مسترد ہونے کے بعد عمر بن سعد نے لشکر کو حکم دیا گیا کہ جنگ کی تیاری کریں؛ چنانچہ سب سوار ہوئے اور جمعرات 9 محرم بوقت عصر امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب و خاندان کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہوئے۔[28].[24].[29].[30].[14]

جنگ کی تیاری[ترمیم]

9 محرم بوقت عصر صحرائے کربلا میں عمر بن سعد کی سپاہ کی نقل و حرکت بڑھ گئی اور عمر سعد امام حسین(ع) کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہوا اور اپنی سپاہ کو بھی جنگ کے لیے تیار ہونے کا حکم دیا۔ اس نے اپنی سپاہ میں منادی کرا دی کہ

"يا خيل اللہ ارکبی و بالجنۃ ابشري، اے خدا کے لشکریو! سوار ہوجاؤ کہ میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں!"۔

کوفی سب سوار ہوئے اور جنگ کے لیے تیار۔[31].[24].[29].[30].[14]

لشکر میں شور اور ہنگامہ بپا ہوا، امام(ع) اپنے خیمے کے سامنے اپنی تلوار پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ان کی بہن حضرت زینب(س) کوفیوں کے لشکر کا شور و غل سن کر بھائی کے قریب آئیں اور کہا: "بھائی جان! کیا آپ قریب تر آنے والی صدائیں سن رہے ہیں؟"۔ امام حسین(ع) نے سر اٹھا کر فرمایا: "میں نے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: "بہت جلد ہمارے پاس آؤگے"۔ امام حسین(ع) نے عباس بن علی(ع) کو فرمایا: "اے عباس! میری جان فدا ہو تم پر، اپنے گھوڑے پر سوار ہوجاؤ اور ان کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کس لیے آگے بڑھ آئے ہیں؟"۔

حضرت عباس(ع) زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر سمیت 20 سواروں کے ہمراہ دشمن کی طرف گئے اور اور ان سے پوچھا: "کیا ہوا ہے؟ اور تم چاہتے کیا ہو؟" انہوں نے کہا: "امیر کا حکم ہے کہ ہم آپ سے کہہ دیں کہ یا بیعت کرو یا جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ"۔ حضرت عباس علیہ السلام نے کہا: "اپنی جگہ سے نہ بڑھو جب تک میں ابا عبداللہ (ع) کے پاس جا کر تمہارا جواب نہ لے آؤں"۔ وہ مان گئے چنانچہ حضرت عباس(ع) اکیلے امام حسین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ انہیں پیش آمدہ صورت حال سے آگاہ کریں۔[32].[33].[34].[35].[36].[37]

امام حسین(ع) نے حضرت عباس(ع) سے فرمایا: "اگر تمہارے لیے ممکن ہو تو انہیں راضی کرو کہ جنگ کو کل تک ملتوی کریں اور آج رات کو ہمیں مہلت دیں تا کہ اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز کریں اور اس کی درگاہ میں نماز بجا لائیں؛ خدا جانتا ہے کہ میں اس کی بارگاہ میں نماز اور اس کی کتاب کی تلاوت کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔[38].[39].[40]

جب تک عباس(ع) امام حسین(ع) کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، ان کے ساتھیوں حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین نے بھی موقع سے فائدہ اٹھا کر ابن سعد کی سپاہ کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں امام حسین(ع) کے ساتھ جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کی جبکہ اسی حال میں وہ ابن سعد کے سپاہیوں کو پیشقدمی سے بھی روکے ہوئے تھے۔[41].[42].[43].[44]

ابوالفضل العباس(ع) دشمن کے سپاہیوں کی طرف واپس آئے اور امام حسین(ع) کی جانب سے ایک رات کی مہلت کا مطالبہ ان تک پہنچایا اور اسی رات تاسوعہ کی ان سے مہلت مانگی۔ ابن سعد نے امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کو ایک رات کی مہلت کی دے دی۔[38].[42].[40] اس دن امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے خاندان اور اصحاب و انصار کے خیام کا محاصرہ کیا گیا۔

امام صادق(ع) کی حدیث[ترمیم]

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں اس روز کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا:

تاسوعہ یوم حوصر فیہ الحسین(ع) واصحابہ بکربلاء واجتمع علیہ خیل اہل الشام واناخوا علیہ وفرح ابن مرجانۃ وعمر بن سعد بتواتر الخیل وکثرتہا واستضعفوا فیہ الحسین(ع) واصحابہ وایقنوا انہ لا یأتی الحسین(ع) ناصر ولا یمدہ اہل العراق
ترجمہ: تاسوعہ وہ دن ہے جس دن حسین(ع) اور اصحاب حسین کربلا میں محصور ہوئے اور شامی سپاہ ان کے خلاف اکٹھی ہوئی۔ ابن مرجانہ / ابن زیاد اور عمر سعد اتنا بڑا لشکر فراہم ہونے پر خوش ہوئے اور اس دن حسین(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کو کمزور سمجھا اور انھوں نے یقین کر لیا کہ حسین(ع) کے لیے کوئی مددگار نہیں آئے گا اور عراقی بھی آپ(ع) کی مدد نہیں کریں گے۔[45].[46].[47]

اہل تشیع کے ہاں اس دن کی اہمیت[ترمیم]

اس دن رونما ہونے والے واقعات کی بنا پر یہ دن شیعوں کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ شیعیان اہل بیت(ع) تاسوعہ کو قمر بنی ہاشم عباس(ع) سے منسوب کرتے ہیں؛ اور اسے روز عاشورہ کی مانند احترام و عقیدت سے مناتے ہیں اور اس دن عباس علمدار(ع) کے فضائل و مصائب بیان کرتے ہیں اور ان کی عزاداری کرتے ہیں۔

اس دن ایران اور بعض شیعہ اکثریتی ممالک میں عاشورہ کی مانند سرکاری چھٹی ہوتی ہے؛ اس دن بھی عزاداری کے عظیم اجتماعات کیے جاتے ہیں اور عزاداروں کے دستے اور جلوس نکالے جاتے ہیں اور لوگ زنجیر زنی اور ماتم کرتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج5، ص94.
  2. ^ ا ب ابن شہرآشوب، مناقب ج4، ص98.
  3. ابن سعد، الطبقات الکبری، جلد پنجم، ص466.
  4. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ص94.
  5. طبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص414-415.
  6. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص88.
  7. مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، ج2، صص72-73.
  8. ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، ج4، ص55.
  9. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص183.
  10. طبری، تاریخ الأمم و۔..، ج5، ص415.
  11. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89.
  12. مسکویہ، تجارب الامم، ص73.
  13. ^ ا ب ابن اثیر، الکامل۔..، ص56.
  14. ^ ا ب پ طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
  15. طبری، تاریخ الأمم و۔..، ج5، ص415
  16. الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
  17. ابن اثیر،الکامل۔..، ص56۔
  18. طبری، تاریخ الأمم و۔..،ج5، ص415
  19. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج5، صص93-94
  20. خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
  21. حسنی، ابن عنبہ، عمدۃ الطالب فی ...، ص327
  22. خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ص246.
  23. البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف ج3، ص184
  24. ^ ا ب پ طبری، تاریخ الأمم و۔..، ج5، ص416
  25. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
  26. الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص246
  27. ابن اثیر، الکامل۔..، ج4، ص56.
  28. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
  29. ^ ا ب شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
  30. ^ ا ب خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص249
  31. البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
  32. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، صص184-185
  33. طبری، تاریخ الأمم و۔..، ج5، صص416-418
  34. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج5، صص97- 98
  35. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص90
  36. خوارزمی، مقتل الحسین (ع)، ج1، صص249-250
  37. مسکویہ، تجارب الامم، صص73- 74.
  38. ^ ا ب طبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417
  39. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص91
  40. ^ ا ب ابن اثیر،الکامل۔..، ص57.
  41. طبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص416-417
  42. ^ ا ب ابن اعثم کوفی، الفتوح، ص98
  43. خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص249-250
  44. تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ "بلاذری، احمد بن یحیی"، انساب الاشراف، ص184.
  45. الکلینی، الکافی، ج4، ص147
  46. مجلسی، بحار الانوار، ج45، ص95
  47. عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعہ، ج10، ص460.


مآخذ[ترمیم]

  • الکوفی، ابن اعثم
  • الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، چاپ اول، ص1991
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، الطبقات الکبری، تحقیق محمد بن صامل السلمی، طائف، مکتبۃ الصدیق، چاپ اول، 1993، خامسہ1
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابیطالب، قم، علامہ، 1379ق
  • ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر-داربیروت، 1965
  • البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق احسان عباس، بیروت، جمیعۃ المتشرقین الامانیہ، 1979
  • الخوارزمی، الموفق بن احمد، مقتل الحسین(ع)، تحقیق و تعلیق محمد السماوی، قم، مکتبۃ المفید، بی‌تا
  • طبری، تاریخ الأمم و۔..، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث
  • حسنی، ابن عنبہ، عمدۃ الطالب فی انساب آل ابیطالب، قم، انصاریان، 1417
  • شیخ مفید، الارشاد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413
  • عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعہ، قم، آل البیت(ع)، 1409
  • طبرسی،اعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، چاپ سوم، 1390ق
  • کلینی، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1365ش
  • مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، تحقیق ابوالقاسم امامی، تہران، سروش، چاپ دوم، 1379ش
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، تہران، اسلامیہ، بی‌تا

بیرونی ربط[ترمیم]

یوم تاسوعہ کے واقعات