عبد الرحمٰن الداخل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الرحمٰن الداخل

عبد الرحمن اول (عربی: عبد الرحمن الداخل) اندلس میں امارت امویہ کا بانی تھا جو 756ء سے 788ء تک اندلس میں حکمران رہا۔ وہ 731ء میں پیدا ہوا۔ 756ء میں عبد الرحمٰن الداخل خلافت عباسیہ کو نظر انداز کر کے امارت قرطبہ کا ایک خود مختار امیر بن گیا۔

خلافت امویہ کا خاتمہ اور عبد الرحمن کا فرار[ترمیم]

عبد الرحمن خلافت بنو امیہ کے 10ویں خلیفہ ہشام بن عبدالملک کا پوتا تھا۔ جب عباسیوں نے دمشق پر قبضہ کرکے خلافت امویہ کا خاتمہ کیا تو اس وقت عبد الرحمن اول کی عمر 20 سال تھی۔ وہ عباسیوں کے ہاتھوں خاندان امویہ کے قتل عام میں بچ جانے والا واحد فرد تھا۔ وہ اس کے بھائی یحییٰ نے محل سے فرار ہوکر صحرا میں ایک بدوی قبیلے کے پاس پناہ لے لی۔ اس دوران عباسی اپنے حریفوں کو بے رحمی سے قتل کرتے رہے اور ان دونوں بھائیوں کی تلاش شروع کردی۔ اس دوران انہوں نے عبد الرحمن اور یحییٰ کا بھی پتہ چلالیا جس پر دونوں بھائی فرار ہو گئے اور دریائے دجلہ میں کود گئے۔ عباسی سپاہیوں نے واپس آنے پر امان دینے کا وعدہ کیا جس پر یحییٰ ان کے کہنے پر یقین کرکے دریا سے نکل پڑا تو عباسیوں نے اسے فوراً ہی قتل کر دیا جبکہ عبد الرحمن تیر کر دریائے دجلہ عبور کرگیا اور بعد ازاں شام اور فلسطین سے ہوتا ہوا شمالی افریقہ پہنچ کر عباسیوں کی دسترس سے باہر ہو گیا۔

افریقہ میں قیام[ترمیم]

خلافت بنو امیہ کے خاتمے کے بعد افریقہ کے صوبوں میں مقامی سرداروں نے حکومتیں قائم کرلی تھیں۔ سلطنت امویہ کے یہ سابق امیر امویوں اور عباسیوں دونوں سے آزادی چاہتے تھے اس لیے عبد الرحمٰن کو ان کی جانب سے زندگی کا خطرہ لاحق تھا اور اس نے مزید مغرب کی جانب فرار ہوکر ماریطانیہ میں بربر قبیلوں کے پاس پناہ لے لی۔

مراکش سے ہسپانیہ آمد[ترمیم]

755ء میں وہ کیوٹا کے قریب موجودہ مراکش پہنچا جہاں اس نے اپنا ایک سفیر ہسپانیہ بھیجا تاکہ وہ خاندان امویہ کے وفادار سابق رہنماؤں کی حمایت حاصل کرسکی۔ ان رہنماؤں کی بڑی تعداد صوبہ الویرا، موجودہ غرناطہ میں مقیم تھی جہاں امیر یوسف کی کمزور حکومت موجود تھی جو ایک قبائلی گروہ کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا ہوا تھا۔ یہ افراد عربوں کے درمیان قبائلی اور عربوں اور بربروں کے درمیان نسلی اختلافات کے باعث پریشان تھے۔ عبد الرحمن نے اس کو بھرپور موقع سمجھا اور سابق وفادار پیروکاروں کی دعوت پر ستمبر 755ء میں ملاگا کے مشرق میں المنقب کے ساحل پر اترا۔

ہسپانیہ کی فتح[ترمیم]

ابتدا میں عبد الرحمن نے اپنے حمایت یافتہ افراد سے مشورے لیے جو خطرات کے باعث محتاط تھے۔ امیر یوسف نے مذاکرات کے آغاز میں عبد الرحمن کو زمین اور اپنی ایک بیٹی نکاح میں دینے کی پیشکش کی۔ عبد الرحمن زیادہ کی امید لگائے بیٹھا تھا لیکن وہ دباؤ کے باعث یہ پیشکش قبول کرنے کے قریب تھا کہ امیر یوسف کے ایک اندلسی پیغام رساں کی عبد الرحمن کے ایک حامی عبید اللہ سے جھڑپ ہو گئی۔ اپنی بہترین عربی لکھنے کی صلاحیت پر ٹوکنے پر عبید اللہ نے اس پیغام رساں پر حملہ کر دیا جس کے باعث عبد الرحمن کا یوسف کے ساتھ تصادم ناگزیر ہو گیا۔

756ء میں دونوں جماعتوں نے وادی الکبیر میں ایک جنگ لڑی جو 16 مئی کو قرطبہ کے قریب یوسف کی شکست کے ساتھ ختم ہوئی۔ عبد الرحمن کی فوج نے بہترین اسلحے سے لیس نہ ہونے کے باوجود ایک تاریخی فتح حاصل کی۔ ان کے پاس صرف چند گھوڑے تھے حتیٰ کہ ان کے پاس عَلَم بھی نہ تھا اور ایک سپاہی نے اپنے نیزے پر اپنا سبز عمامہ لپیٹ دیا اور بعد میں یہی اندلس میں امویوں کا علم اور نشان قرار پایا۔

حکومت[ترمیم]

عبد الرحمن کا طویل دور حکومت عرب اور بربر باشندوں کی بغاوتوں کیخلاف جدوجہد کرتے گزرا جن کی اکثریت آزادی چاہتی تھی۔ 763ء میں عبد الرحمن نے اپنے دار الحکومت کے قریب بھی ان باغیوں سے جنگ لڑی جو عباسیوں کی حمایت کر رہے تھی۔ اس نے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ آخری سالوں میں عبد الرحمن نے کئی محلاتی سازشوں کو بھی کچلا۔ اس نے فن تعمیر کے نادر شاہکار مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی جس کی تعمیر اس کے بیٹے اور جانشیں ہشام اول کے دور میں بھی جاری رہی۔ اس نے جس حکومت کو قائم کیا وہ 1031ء تک ہسپانیہ پر حکومت کرتی رہی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]