تبادلۂ خیال:معاویہ بن ابو سفیان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

صارف:Regalchowk کے دو قطعوں پر اعتراض کے بعد (دیکھیں تاریخہ)، ان کے لیے مسنتند حوالہ دینا ضروری ہو گیا۔ اگر یہ وقعات تاریخ دانوں کے مطابق متنازعہ ہیں تو اس کا بھی ذکر ہونا چاہیے۔ --Urdutext 23:16, 28 جولا‎ئی 2008 (UTC)

  • اس مضمون کے تعارفی قطعے کے بہتر بنا کر اسے ایک اچھا مقالہ بنایا جاسکتا ہے۔ اگر اس پر کچھ محنت کر لی جائے تو یہ امیدوار برائے منتخب مقالہ بھی بن سکتا ہے فہد احمد 05:36, 10 ستمبر 2009 (UTC)

کاتب وحی[ترمیم]

@Arif80s: ابوسفیان نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا تھا، تو صحابہ ان سے نفرت کرتے تھے اور نہ ساتھ بیٹھتے تھے تو ابوسفیان نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گزارش کی تھی کہ صحابہ میرے ساتھ یہ کر رہے ہیں اگر آپ میرے بیٹے کو اپنا کاتب رکھ لیں تو شاید ان کے دل سے نفرت دور ہو جائے گی۔ (صحيح مسلم، ج 4 ص 1945، ح2501 ، کتاب فضائل صحابہ، 40 باب من فضائل ابی سفیان بن حرب، تحقيق: محمد فواد عبد الباقی، ناشر: دار احیار التراث العربی - بیروت) اور جب انہوں نے اسلام قبول کیا تھا تو ٩٩ فیصد قرآن نازل ہو چکا تھا۔ آپ نے سنی حوالے دیے ہیں جو معتبر نہیں نیز ہمیں حدیث کی روشنی میں بات کرنی چاہیے۔ بہت سے سنی بزرگ علما یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ معاویہ فقط معمولی خطوطِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لکھتا تھا۔ ”زيد بن ثابت كاتب وحی تھے اور معاویہ عرب کو خط لکھتا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے“ ((1) الذہبی، شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان ابو عبد اللہ، سير اعلام النبلاء، ج 3، ص 123، تحقیق : شعیب الارناؤوط، محمد نعیم العرقسوسی، ناشر: مؤسسہ الرسالہ - بیروت ، الطبعہ: التاسعہ، 1413ھ — (2) العسقلانی ، احمد بن علی بن حجر ابو الفضل الشافعی ، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج 6، ص 153، تحقیق: علی محمد البجاوی، ناشر: دار الجيل - بیروت ، الطبعہ : الاولى ، 1412ھ - 1992ء — (3) ابن ابی الحدید المعتزلی ، ابو حامد عز الدین بن ہبہ اللہ ، شرح نہج البلاغہ، ج 1، ص 201 - 202 ، تحقیق: محمد عبد الکریم النمری، ناشر : دار الکتب العلمیہ - بیروت/لبنان ، الطبعہ: الاولى ، 1418ھ - 1998ء۔)— بخاری سعید تبادلہ خیال 04:58، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)

@Obaid Raza، Tahir mq، محمد شعیب، اور Hindustanilanguage: رائے دیجیے۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 06:02، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
@BukhariSaeed: مضمون میں امیر معاویہ بن ابو سفیان کے حوالے سے کاتبِ وحی ہونے کی عبارت پہلے سے موجود تھی، میں نے کسی صارف کے حوالہ درکار سانچے کے جواب میں دو کتب کے حوالے دئیے ہیں۔ حوالے معتبر ہیں یا نہیں یہ طے کرنا علماء کرام کا کام ہے، میرا یا آپ کا نہیں۔ مزید براں کوئی بھی صارف ان حوالوں کو رد کر سکتا ہے، اگر ایسا کیا گیا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 06:33، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
عارف بھائی، میرا اختلاف اس بات پر ہے کہ آپ ان کے کاتب وحی ہونے کے حق میں حوالے شامل کر رہے ہیں، میں نے علامہ ذہبی کا حوالہ دیا ہے جس کو آپ نے شامل بھی نہیں کیا اور اسی میں مزید حوالے ایڈ کر دیے۔ ذہبی اور کچھ جید سنی علما نے معاویہ کو معمولی ”کاتب“ کہا ہے، وہ خط لکھا کرتے تھے۔ براہ مہربانی کاتب وحی کے آگے یہ بھی لکھا جائے کہ یہ متنازع ہے۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 07:15، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
@BukhariSaeed: جناب بخاری سعید صاحب طبری، ابن خلدون، اور سیوطی نے حضرت معاویہ کو صاف الفاظ میں کاتبِ وہی کہا ہے۔ کیا ہم انہیں رد کر سکتے ہیں؟ میں نے حضرت معاویہ کے کاتبِ وحہ کے حق مین حوالہ دئیے ہیں، کوئی بھی صارف امیر معاویہ کے کاتبِ وحی کے رد میں حوالہ جات شامل کر سکتا ہے۔ محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 07:48، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
@Arif80s: عارف بھائی، عارضی طور پر متنازع کا سانچہ لگا چکا ہوں۔ کچھ دن دیکھتے ہیں۔ اگر رد میں حوالہ جات ہوں تو وہ بھی شامل کرتے ہیں۔ ورنہ اس سانچے کو ویسے ہی ہٹا دیتے ہیں۔ --مزمل الدین (تبادلۂ خیالشراکتیں) 07:53، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
@Hindustanilanguage: بہتر بھی یہی ہے۔ اب فیصلہ منتظمین اور صارفین پر چھوڑتے ہیں۔ امید ہے کہ حوالہ جات کی صحت اور جاچ پڑتال کے بعد جو بھی فیصلہ ہو گا وہ اردو ویکی کے لیے خوش آئند ہوگا اور وہ ہم من و عن تسلیم کریں گے۔ محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:00، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
شاید عارف بھائی میری بات کو غلط سمجھ رہے ہیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ دونوں موقف لکھے جانے چاہییں: ”کاتب وحی“ اور ”کاتب خطوط نبوی“۔ تحقیق کے مطابق وہ کاتب وحی نہیں تھے۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 08:42، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
@BukhariSaeed: بخاری سعید صاحب، میں سمجھ چکا ہوں، حضرت معاویہ کاتب وحی بھی اور کاتب خطوط نبوی بھی۔ موضوع بحث صرف کاتب وحی ہے۔ میں کاتب وحی کے حق میں حوالے دے چکا۔ اب آپ یا کوئی اور رد میں حوالہ دے سکتا ہے۔ محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 09:18، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
یہ مضمون اہل سنت کے بعض مکاتب کے مطابق ہے شافعی مالکی اور حنبلی نیز اہل تشیع کا نقطہ نظر بیان نہیں کیا گیاہے۔--علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 14:52، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
آپ اس میں اہل تشیع کی بھی رائے شامل فرمایئے۔ @Arif80s: اگلے کچھ دنوں میں اس موضوع پر شاید اور بحث ہوگی۔ اس کو ہمیں غیر جذباتی انداز میں، جس میں مکاتب فکر کے خیالات کو جگہ دی جائے، کوئی حکمت عملی تیار کرنا ہو گا۔ نیز سنی اور شیعہ نقطہ نظر ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہو سکتے ہیں۔ --مزمل الدین (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:40، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
متصلًا عرض کردوں کہ ایک آئی پی نے دروناچاریہ پر ایک سطری مضمون لکھا تھا۔ میں نے کم وقت میں اس میں اضافے کی کوشش کی، جس میں اس تاریخی / مذہبی شخصیت کے دو اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی، ایک اس کا طریقہ تدریس، دوسرا اس زمانے میں سماج طبقاتی تفریق۔ مضمون کا حوالہ جات سے خالی ہونا اگرچیکہ اپنے سقیم ہونے کا گواہ ہے، تاہم مثبت و منفی پہلو کے بیان سے متوازن شخصیت نگاری کی کوشش کی گئی ہے۔--مزمل الدین (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:47، 9 اکتوبر 2018ء (م ع و)
@Hindustanilanguage:، @Syedalinaqinaqvi: محترم بھائی یہ مضمون میرا نہیں اور خاکسار اسلام سے متعلق اور خاص کر فقہی مسائل، صحابہ کرام اور جن پر تاریخ اسلام میں اختلاف ہو، ایسے موضوعات پر نہیں لکھتا۔ اس لیے دوستوں سے معذرت کہ میں اس مضمون میں دیگر مسالک کا نقطہ نظر پیش نہیں کر سکتا۔ اس مضمون میں کسی صارف نے حوالہ درکار کا ٹیگ لگایا تھا اس کے جواب میں نے کچھ حوالہ جات دے دئیے اور بس۔ ویسے علی نقی صاحب امیر معاویہ کے کاتبِ وحی ہونے پر دو رائے نہیں، کیا آپ طبری، ابن خلدون اور سیوطی کو رد کر سکتے ہیں؟ دوسری بات کہ کسی محترم دوست نے فقہ حنفیہ کے علاوہ کسی دیگر مسالک کا جو نقطہ نظر پیش کرنا ہےوہ بلا جھجک پیش کر سکتا ہے۔ لیکن درخواست ہے کہ طبری، ابن خلدون اور سیوطی کے حوالہ جات موجود رہنے چاہییں تاکہ موازنہ کرنے میں آسانی ہو۔ میں محترم مزمل صاحب کی اس رائے سے متفق ہوں کہ ہمیں غیر جذباتی انداز میں، جس میں مکاتب فکر کے خیالات کو جگہ دی جائے، کوئی حکمت عملی تیار کرنا ہو گا۔ محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:29، 10 اکتوبر 2018ء (م ع و)

معاویہ نبی کریم صلعم کی نگاہ میں. کتاب البدایہ والنہایہ ‎جلد 8 ‎صفحہ 133 ‎ذکر معاویہ ‎معاویہ کو جب میرے منبر پر دیکھو تو اسکو قتل کر دینا. ‎معاویہ حضرت عمر کی نظر میں. ‎اسی کتاب البدایہ والنہایہ کے صفحہ 125 پر جناب عمر بن خطاب نے معاویہ کو دیکھ کر کافر بادشاھ کا لقب دیا. ‎معاویہ حضرت عثمان کی نظر میں. کتاب تاریخ یعقوبی ‎جلد 2 ‎صفحہ 198 ‎ذکر عثمان ‎حضرت عثمان نے معاویہ کو صاف کہا کہ تو چاھتا ہے کہ عثمان قتل کر دیا جائے اور بعد میں تو میرے قتل کا رونا روئے.

‎معاویہ حضرت علی ع کی نگاہ میں. ‎تحفہ اثنا عشریہ ‎صفحہ 308 ‎معاویہ سے دور رہو کیونکہ وہ شیطان ہے.

‎معاویہ امی عائشہ کی نگاہ میں. ‎البدایہ والنہایہ ‎جلد 8 ‎صفحہ 131 ‎ذکر معاویہ. ‎امی عائشہ نے معاویہ کا دعوی خلافت پر فرمایا. چار سو سال تک مصر پر فرعون نے بھی حکومت کی تھی.

‎معاویہ محمد بن ابوبکر کی نگاہ میں. ‎کتاب مروج الذھب ‎جلد 3 ‎صفحہ 20 ‎انت لعین ابن لعین. ‎کہ تو لعین بیٹا لعین کا ہے.

‎معاویہ عبداللہ ابن عمر بن خطاب کی نظر میں. کتاب شرح ابن ابی الحدید ‎جلد1 ‎صفحہ 322 ‎اے معاویہ تو فتح مکہ کے بعد آزاد کردہ ہے.

‎معاویہ خود اپنی نگاہ میں. ‎کتاب البدایہ والنہایہ ‎جلد 8 ‎صفحہ 118 ‎ذکر معاویہ ‎جب معاویہ کو لقوہ ہوگیا تو مروان کو معاویہ نے کہا کہ عذاب خدا جلدی آگیا ہے. میں نے علی ابن ابوطالب کو اس کے حق سے ہٹایا.

-39.41.235.131 05:29، 10 اکتوبر 2018ء (م ع و)

حوالے درست ہیں مگر محترم اگر اپنی پہچان بتا دیں تو مہربانی ہوگی۔— بخاری سعید تبادلہ خیال 11:36، 14 اکتوبر 2018ء (م ع و)