ابوایوب انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Eyupsultan.JPG

ابو ایوب انصاری انصار کے سرکردہ صحابی رسول اور میزبان رسول کہلاتے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

خَالِد بن زيد نام ،ابوایوب کنیت، مدینہ منورہ کےقبیلۂ خزرج کے خاندان نجار سے تھے، سلسلۂ نسب یہ ہے،خالدبن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبدعوف خزرجی،خاندان نجار کو قبائل مدینہ میں خود بھی ممتاز تھا، تاہم رسول اللہ ﷺ کی وہاں نانہالی قرابت تھی اس کو مدینہ کے اورقبائل سے ممتاز کردیا تھا،ابوایوب اس خاندان کے رئیس تھے۔

اسلام[ترمیم]

ابوایوب انصاری ان منتخب بزرگان مدینہ میں ہیں، جنہوں نے عقبہ کی گھاٹی میں جاکر آنحضرتﷺ کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کی تھی۔جب مکہ سے دولت ایمان لیکر پلٹے تو ان کی فیاض طبعی نے گوارا نہ کیا کہ اس نعمت کو صرف اپنی ذات تک محدودرکھیں ؛چنانچہ اپنے اہل وعیال ،اعزہ واقربا اوردوست واحباب کو ایمان کی تلقین کی اوراپنی بیوی کو حلقہ اسلام میں داخل کیا۔

میزبان رسول[ترمیم]

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ہر شخص میزبانی کا شرف حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ اونٹنی بیٹھے گی۔ وہیں آپ مقیم ہوں گے۔ اونٹنی ابو ایوب انصاری کے دروازے پر بیٹھی۔ ان کا مکان دو منزلہ تھا۔ نبی اکرم نے نیچے قیام فرمایا اور سات ماہ تک یہاں رہے۔

آنحضرتﷺ جب تک ان کے مکان میں تشریف فرمارہے،عموما ًانصار یا خود ابو ایوب حضرتﷺ کی خدمت میں روزانہ کھانا بھیجا کرتے تھے،کھانے سے جو کچھ بچ جاتا آپﷺ ابوایوب کے پاس بھیج دیتے تھے، ابو ایوب آنحضرتﷺ کی انگلیوں کے نشان دیکھتے اورجس طرف سے آنحضرتﷺ نے نوش فرمایا ہوتا وہیں انگلی رکھتے اور کھاتے ،ایک دفعہ کھانا واپس آیا تو معلوم ہوا کہ حضورﷺ نے تناول نہیں فرمایا،مضطربانہ خدمت اقدس میں پہنچے اورنہ کھانے کا سبب دریافت کیا،ارشاد ہوا کھانے میں لہسن تھا اور میں لہسن پسند نہیں کرتا،ابوایوب نے کہا"فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَه"جو آپ کو ناپسند ہو یا رسول اللہ ﷺ میں بھی اس کو ناپسند کروں گا۔[1]

مواخات[ترمیم]

ہجرت کے بعد آنحضرتﷺنے مہاجرین وانصار کو باہم بھائی بھائی بنادیا،ابو ایوب انصاری کو جس مہاجر کا بھائی قرار دیا وہ یثرب کے اولین داعی اسلام مصعب بن عمیر قریشی تھے۔

غزوات[ترمیم]

ابوایوب انصاری کا شمار اسلام کے جانباز مجاہدین میں ہوتا ہے۔ آپ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔کسی ایک غزوہ کے شرف شرکت سے بھی محروم نہیں رہے، امیر معاویہ کے زمانے میں قسطنطنیہ کی مہم پیش آئی تو اس میں نمایاں حصہ لیا اور وہیں وفات پائی۔ مرتے وقت وصیت فرمائی کہ شہر پناہ کے متصل دفن کیا جائے۔ آپ کو وہیں دفن کیاگیا۔ آپ کی قبر کے پاس بطور یادگار ایک مسجد تعمیر کی گئی جو ترکی کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے۔

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات 42ھ 662ء میں ہوئی سفر جہاد میں عام وبا پھیلی اورمجاہدین کی بڑی تعداد اس کے نذر ہوگئی، ابوایوب بھی اس وبا میں بیمار ہوئے، یزید عیادت کےلئے گیا اورپوچھا کہ کوئی وصیت کرنی ہو تو فرمائیے تعمیل کی جائےگی، آپ نے فرمایا تم دشمن کی سرزمین میں جہاں تک جاسکو میرا جنازہ لیجاکر دفن کرنا، چنانچہ وفات کے بعد اس کی تعمیل کی گئی، تمام فوج نے ہتیار سج کر رات کو لاش قسطنطنیہ کی دیواروں کے نیچے دفن کی ،نماز میں جس قدر مسلمان فوجی شامل تھےدفن کرنے کے بعد یزید نے مزار کے ساتھ کفار کی بے ادبی کے خوف سے اس کو زمین کے برابر کرادیا، صبح کو رومیوں نے مسلمانوں سے پوچھا کہ رات آپ لوگ کچھ مصروف سے نظر آتے تھے،بات کیا تھی،مسلمانوں نے کہا کہ ہمارے پیغمبر کے ایک بڑے جلیل القدر دوست نے وفات پائی ،ان کے دفن میں مشغول تھے؛ لیکن جہاں ہم نے دفن کیا ہے تمہیں معلوم ہے،اگر مزار اقدس کے ساتھ کوئی گستاخی تمہاری طرف سے روا رکھی گئی تویادرکھو اسلام کی وسیع الحدود حکومت میں کہیں ناقوس نہ بچ سکے گا۔

ابوایوب کا مزار دیوار قسطنطنیہ کے قریب ہے اوراب تک زیارت گاہ خلائق ہے،رومی قحط کے زمانہ میں مزار اقدس پر جمع ہوتے تھے،اس کے وسیلہ سے بارانِ رحمت مانگتے تھے اورخدا کے لطف وکرم کا تماشا دیکھتے تھے۔[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسلم:2/197
  2. اسد الغابہ،تذکرہ ابو ایوب انصاری
  3. ابن سعد،جلد3