فاطمہ عالیہ توپوز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(فاطمہ عالیہ ٹوپوز سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
فاطمہ عالیہ توپوز
Fatma Aliye Portrait (cropped).png
 

معلومات شخصیت
پیدائش 9 اکتوبر 1862[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استنبول  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 جولا‎ئی 1936 (74 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استنبول  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the Ottoman Empire (1844–1922).svg سلطنت عثمانیہ
Flag of Turkey.svg ترکی  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ناول نگار،  مضمون نگار،  کالم نگار،  مصنفہ،  صحافی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ترک  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل مضمون  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فاطمہ عالیہ توپوز جنہیں اکثر فاطمہ عالیہ کے نام سے جانا جاتا ہے ، ایک ترک ناول نگار ، کالم نگار ، مضمون نگار ، خواتین کے حقوق کی کارکن اور انسان دوست شخصیت کی مالک تھیں۔ اگرچہ اس سے قبل 1877 میں ترکی کی مصنفہ ظفر خانم کا شائع کردہ ناول آچکا تھا، [2] مگر چونکہ یہ ان کا واحد ناول رہا ،اس لئے فاطمہ  کو اپنے پانچ ناولوں کے ساتھ ادبی حلقوں میں ترک ادب کی پہلی خاتون ناول نگار کے طور پرجانا جاتا ہے۔[3] [4]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

فاطمہ 9 اکتوبر 1862 کو قسطنطنیہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ معروف  سرکاری ملازم ، مشہور مورخ اور بیوروکریٹ احمد جودت پاشا (1822–1895) اور ان کی اہلیہ ادویہ رابعہ  کی دوسری اولاد تھیں۔ [5]ان کے دو بہن بھائی تھے، ایک بھائی علی سدات اور ایک بہن امینہ سمیعہ۔ 1878 میں ، وہ اپنے خاندان کے ساتھ نو ماہ دمشق میں بھی  رہیں۔ فاطمہ عالیہ نے غیر رسمی طور پر گھر میں تعلیم حاصل کی ، چونکہ اس وقت ، لڑکیوں کے لئے باضابطہ اسکول میں داخلہ لینا عام بات نہیں تھی ۔ اپنے فکری تجسس کی وجہ سے ، انہوں نے عربی اور فرانسیسی زبان میں اعلیٰ درجے کی مہارت حاصل کی۔ 1879 میں ، جب وہ سترہ سال کی ہوئیں ، تو ان کے والد نے ان کی شادی کا اہتمام کپتان میجر (عثمانی ترکی: کول آغا سی) محمد فائق بے ، سلطان عبد الحمید ثانی کے معاون اور غازی عثمان پاشا (محاصرہ پلونہ (1877) کے ہیرو)کے بھتیجے، سے کیا۔ جن سے انھوں نے چار بیٹیوں کو جنم دیا: خدیجہ (پیدائش 1880) ، عائشہ (پیدائش 1884) ، نعمت (پیدائش 1900) اور زبیدہ عصمت (پیدائش 1901)۔ ان کے شوہر ایک قدامت پسند  شخص تھے اور انھیں شادی کےابتدائی سالوں کے دوران غیرملکی زبان میں ناول پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔

آخری سال[ترمیم]

ان کی سب سے چھوٹی بیٹی زبیدہ عصمت نے 1926 میں عیسائیت قبول کرلی اور ترکی چھوڑ دیا تاکہ رومن کیتھولک راہبہ بنیں۔  فاطمہ عالیہ نے 1920 کی دہائی میں اپنی بیٹی کی تلاش میں اور اپنی صحت کی وجہ سے بھی کئی بار فرانس کا سفر کیا۔ 1928 میں ، انھوں نے اپنے شوہر کو کھو دیا۔ 21 جون 1934 کو ترکی میں قانونِ کنیت نافذ ہونے کے بعد فاطمہ عالیہ نے اپنا خاندانی نام "توپوز" اپنا لیا۔ خراب صحت اور مالی پریشانی میں زندگی گذارنے کے بعد وہ 13 جولائی 1936 کو استنبول میں انتقال کر گئیں۔ انہیں فریکوئے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Proleksis enciklopedija ID: https://proleksis.lzmk.hr/57724 — بنام: Aliye Topuz Fatma — عنوان : Proleksis enciklopedija
  2. "Zafer Hanim'in Ask-i Vatan Romani". February 26, 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 05 مارچ 2016. 
  3. Yunus, Ceyda (28 March 2008). "Fatma Aliye kime uzak?" (بزبان التركية). Milliyet. اخذ شدہ بتاریخ 03 مئی 2009. 
  4. "Fatma Aliye Hanım" (بزبان التركية). Edebiyat Öğretmeni. اخذ شدہ بتاریخ 03 مئی 2009. 
  5. "فاطمہ عالیہ خانم" (بزبان ترکی). زمان. 12 اپریل 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 03 مئی 2009.