آبراہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آبراہ یا آب گزر یعنی پانی کی گذرگاہ یا راستہ ہے۔ دور جدید میں شہروں کو آب رسانی پائپوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ اہل روم نے زمانہ قبل از مسیح میں دور دراز آبی ذخیروں سے شہروں کو آب رسانی کا ایسا نظام وضع کیا جو آج عجائبات عالم میں شمار ہوتا ہے۔ چونکہ اہل روم کے پاس اس وقت ایسی دھات یا ہنرمندی نہ تھی جس سے پائپ بنا لیے جاتے اس لیے وہ پانی کے اصل منبعوں سے شہروں تک پانی کھلی زمینی گذرگاہوں کے ذریعے یا بہتے پانی کے قدرتی و مصنوعی نالوں سے گذارتے تھے جن کو آبراہ کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں پانی بہنے کا اصول وہی قدرتی تھا کہ پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہے اور ہمیشہ نشیب کی جانب گرتا ہے۔ مشکل اس وقت پیش آتی جب رستے میں کوئی گہری وادی آجاتی۔ اس مشکل کا حل محراب دار پل تعمیر کر کے کیا گیا جن کو اوپر سے نالہ یا نہر نما بنا دیا جاتا تاکہ پانی گذرتا رہے اور یہی محرابی پلوں پر بنی آبراہیں آج عجائبات ہیں۔ روم کو پانی لے جانے والی پہلی آبراہ 312 ق م میں کلاڈیس نے تعمیر کی جو گیارہ میل لمبی تھی۔ اس کے بعد سے مسیحیت کے دور تک کئی آبراہیں تعمیر کی گئیں جن کی تعداد گیارہ تک پہنچ گئی۔ جن میں سے بعض کی لمبائی ساٹھ میل تک تھی۔ کچھ آبراہیں بہت زیادہ بلند بنانا پڑیں جس کے لیے رومی انجئنیروں نے محرابوں کی ایک سے زیادہ قطاریں اوپر نیچے بنائیں۔ مسالے کے لیے آتش فشانی راکھ استعمال کی گئی اس راکھ کی خاصیت یہ ہے کہ پانی میں سخت پتھر کی مانند ہو جاتی ہے۔ روم کی گیارہ آبراہوں میں سے بیک وقت بائیس کروڑ گیلن پانی روزانہ فراہم ہو سکتا تھا۔ رومیوں نے آبراہ بنانے کے فن کو نقطہ کمال تک پہنچادیا۔ چھ میل لمبی آبراہ ایکوا مارسیا اور نو میل لمبی ایکواکلاڈیا کے آثار گواہی دے رہے ہیں کہ رومیوں نے 2000 سال قبل فن معماری کے جو کا رہائے نمایاں سر انجام دیے وہ رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ماہنامہ معلومات، ص 53،54، ج 2- مدیر ،مظفر حسین۔ لاہور

کتابیات[ترمیم]