معاہدۂ مدروس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بحری جہاز ایچ ایم ایس ایگامیمنون مدروس کی بندرگاہ کے قریب

جنگ عظیم اول میں سلطنت عثمانیہ کے ساتھ اتحادیوں کی جنگ ختم کرنے والے معاہدے کو "معاہدۂ مدروس" (انگریزی: Armistice of Mudros) کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ 30 اکتوبر 1918ء کو یونان کی بندرگاہ مدروس پر ایک بحری جہاز میں ہوا۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے امن سمجھوتہ ایک عارضی معاہدہ ہوتا ہے اس کے بعد مستقل امن کے لیے معاہدے کی شرائط طے کی جاتی ہیں اور ان کی توثیق کی جاتی ہے اور فریقین کے دستخط ہوتے ہیں۔ معاہدہ مدروس میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے بحری امور کے وزیر رؤف بے کی زیر قیادت سہ رکنی وفد اور اتحادیوں کی طرف سے برطانوی ایڈمرل سمرسیٹ آرتھر گف-کالتھورپ کے درمیان شرائط طے پائیں۔

شرائط[ترمیم]

  1. آبنائے باسفورس جنگی اور تجارتی جہازوں کے لیے کھلی رہیں گی صرف یونانی جہاز ان آبناؤں سے نہیں گزر سکیں گے۔ عثمانی افواج ان آبناؤں کی حفاظت کریں گی۔
  2. ملک کے داخلی انتظام اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے محدود تعداد کے علاوہ باقی تمام عثمانی فوج ملازمت سے سبکدوش کر دی جائے گی۔
  3. جنگی قیدیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کر دیا جائے گا۔
  4. تمام ترک جنگی جہاز اتحادیوں کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
  5. اتحادیوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی قسم کا خطرہ محسوس کرنے پر جنگی حکمت عملی کے نقطہ نظر سے کسی بھی اہم علاقے پر قابض ہو جائیں۔
  6. عثمانی ریلوے اور تجارتی جہاز اتحادی ممالک کے زیر استعمال رہیں گے۔ ریلوے کا انتظام اتحادیوں کے سپرد کر دیا جائے گا۔
  7. ایران اور قفقاز میں موجود عثمانی افواج کو واپس بلا لیا جائے گا۔
  8. سرکاری مقاصد کے سوا ٹیلی فون اور ٹیلی گراف کے ذرائع مواصلات اتحادی قوتوں کے زیر کنٹرول ہوں گے۔
  9. فوجی بحری اور تجارتی سامان کو ترک حکام استعمال نہیں کریں گے۔
  10. فاضل کوئلہ، تیل اور بحری نقل و حمل کا سامان صرف اتحادی قوتوں ہی کو فروخت کیا جائے گا۔
  11. حجاز، یمن، شام اور عراق میں عثمانی افواج اتحادی کے کمانداروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گی۔
  12. طرابلس اور بنغازی میں عثمانی افواج اطالوی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گی۔
  13. عثمانی سلطنت میں موجود جرمن اور آسٹرین فوجی اور سول افسران و دیگر ملازمین ایک ماہ کے اندر یہاں سے چلے جائيں گے۔
  14. سلطنت میں موجود قابض اتحادی افواج کی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری عثمانی حکومت پر ہوگی۔
  15. عثمانی سلطنت کے جنگی قیدی اتحادیوں کی قید میں ہی رہیں گے۔
  16. عثمانی سلطنت تمام محوری طاقتوں کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرے گی۔
  17. اتحادیوں کو یہ حق ہوگا کہ اناطولیہ کے کسی بھی مشرقی صوبہ میں کسی بھی بغاوت کو کچل سکیں۔

اس معاہدے کے بعد فوراً مصطفٰی کمال پاشا کی زیر قیادت ترکی کی جنگ آزادی شروع ہو گئی اس لیے اس کا نفاذ عارضی ثابت ہوا جبکہ سلطنت عثمانیہ کے سوا دیگر محوری طاقتوں کے ساتھ طے کیے جانے والے معاہدوں کا نفاذ تقریباً مکمل طور پر ہوا لیکن معاہدہ مدروس کی شرائط انتہائی سخت و ظالمانہ تھیں۔