بےلربیئی محل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بےلربیئی محل
Beylerbeyi Palace
Beylerbeyi Sarayı
Istanbul Beylerbeyi Palace IMG 7663 1805.jpg
بےلربیئی محل, باسفورس
عمومی معلومات
معماری طرزعثمانی معماری
شہر یا قصبہاستنبول
ملکترکی
آغاز تعمیر1861
مؤکلسلطان عبدالعزیز
مالکترکی ریاست
ڈیزائن اور تعمیر
معمارہاگوپ بالیان، سارکس بالیان

بے لربیئی محل (Beylerbeyi Palace) (ترکی: Beylerbeyi Sarayı) ایک عثمانی شاہی محل ہے جو باسفورس کے کنارے استنبول، ترکی کے ایشیائی حصے میں ضلع اسکردار میں واقع ہے۔ یہ عثمانی شاہی محل، موسم گرما کی شاہی رہائش گاہ تھی جو 1860 کی دہائی میں تعمیر ہوئی تھی۔ سلطان عبدالحمید ثانی اپنی موت سے قبل اسی محل میں نظر بند تھے۔

تاریخ[ترمیم]

بے لربیئی محل کو بنانے کا حکم سلطان عبد العزیز (1830– 1876) نے دیا تھا اور یہ 1861 ء سے 1865 کے درمیان تعمیر ہوا۔ اس محل کا مقصد موسم گرما کی شاہی رہائش گاہ اور مہمان سربراہان مملکت کی تفریح ​​کے لئے تھا۔

فرانس کی ملکہ یوجنیی د مونتییو نے 1869 میں جبکہ وہ نہر سویز کا افتتاح کرنے جا رہی تھی اس محل میں رہی۔ ملکہ یوجنیی د مونتییو محل کی خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے اپنے پیرس کے تویلیغی محل میں اپنے کمرے میں بے لربیئی محل جیسی کھڑکی بنوائی۔

ایران کے نصیرالدین شاہ قاجار، فرانس کے ایکسپیژن یونیورسل (1889) سے واپس جاتے ہوئے جب وہ استنبول میں تھے تو اسی محل میں ہی قیام پذیر رہے۔ محل میں آنے والے دوسرے باقاعدہ مہمانوں میں ڈیوک اور ڈچس آف ونڈسر شامل تھے۔

یہ محل 1912 سے لے کر 1918 میں ان کی وفات تک معزول سلطان عبدالحمید ثانی کی اسیر کی آخری جگہ تھا۔

تفصیل[ترمیم]

اس محل کا ڈیزائن سارکس بالیان نے بنایا تھا اور اس سے پہلے تعمیر شدہ محل دولماباغچہ محل کی نسبت سادہ انداز میں تعمیر کیا گیا۔ یہ محل باسفورس سے سب سے زیادہ پرکشش نظر آتا ہے ، جہاں سے اس کے دو غسل خانہ ، ایک حرم (صرف خواتین کے لئے) اور دوسرا سیلامک (مردوں کے لئے) کے لئے ، سب سے زیادہ دیکھا جاسکتا ہے۔ سب سے دلکش کمروں میں سے ایک استقبالیہ ہال ہے ، جس میں ایک تالاب اور چشمہ ہے۔ گرمی میں خوشگوار آواز اور ٹھنڈک کے اثر کے لئے عثمانی گھروں میں بہتا ہوا پانی مقبول تھا۔

نگارخانہ[ترمیم]