جن گن من

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

جن گن من بھارت کا قومی ترانہ ہے، جو بنگالی زبان میں تھا۔ پھر اس کو سنسکرت کا لہجہ دے کر سنوارا گیا۔ اس کے شاعر نوبل لارائٹ رابندرناتھ ٹیگور ہیں۔ یہ ترانہ در اصل، کنگ جارج پنجم کے لئے لکھا گیا تھا، جب بھارت کی حکومت اس کے سپرد ہوئی، اس کی تاج پوشی ہورہی تھی، اس وقت خدا کی حمد کے لیے لکھی گئی نظم تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس کے 1911 اجلاس میں یہ پہلی دفعہ گائی گئی۔ 24 جنوری 1950 کو بھارت کی قانون ساز کمیٹی سرکاری طور پر منظوری دی اور یہ نظم، بھارت کا قومی ترانہ ہوگی۔[1][2][3] [4][5][6][7]

ترانہ[ترمیم]

اردو ہندی اردو ترجمہ

جن گن من ادھی نایک جئے ہے.
بھارت بھاگیہ ودھاتا
پنجاب سندھ گجرات مراٹھا
دراوڈ اتکل ونگا
وندھیہ ہماچل یمنا گنگا
اچھلہ جلہ دھی ترنگا
توا سبھ نامے جاگے
توا شبھ آشش مانگے
گاہے توا جیا گادھا
جن گن منگل دایک جیہ ہے
بھارت بھاگیہ ودھاتا
جیا ہے، جیا ہے، جیا ہے
جیا جیا جیا جیا ہے

जन गण मन अधिनायक जय हे
भारत भाग्य विधाता
पंजाब सिंध गुजरात मराठा
द्राविड उत्कल वंग
विंध्य हिमाचल यमुना गंगा
उच्छल जलधि तरंग
तव शुभ नामे जागे
तव शुभ आशिष मागे
गाहे तव जयगाथा
जन गण मंगल दायक जय हे
भारत भाग्य विधाता
जय हे, जय हे, जय हे
जय जय जय जय हे!

اے! بھارت کی منزل کا فیصلہ کرنے والے، عوام کے ذہن و دلوں پر حکومت کرنے والے تیری جئے ہو،

تیرا نام ہی، پنجاب، سندھ، گجرات، مراٹھا عللاقوں کے دلوں میں جگتا ہے
دراوڈ، اتکل اور بنگال میں بھی
تیرا ہی نام وندھیہ اور ہمالہ کی پہاڑیوں میں گونجتا ہے،
جمنا اور گنگا کے پانی میں یہی رواں دواں ہے،
یل (مذکورہ) علاقے تیرا ہی نام گنگناتے ہین،
اور یہ تیری ہی محترم دعائیں مانتے ہیں،
وہ صرف عظیم فتوحات کے نغمے گاتے ہیں،
اور اس عوام کی مغفرت تیرے ہی ہاتھوں ہے،
اے! بھارت کی منزل کا فیصلہ کرنے والے، عوام کے ذہن و دلوں پر حکومت کرنے والے
تیری جئے ہو، تیری جئے ہو، تیری جئے ہو,
جئے ہو، جئے ہو، جئے ہو، تیری ہی جئے ہو!

انگریزی ترجمہ اور کامپوزشن - شہر مدنپلی[ترمیم]

رابندرناتھ ٹیگور، اس ترانہ کو دیوناگری (سنسکرت) سے انگریزی ترجمہ کیے۔ انی بسینٹ کی قائم شدہ کالج، جو بسینٹ تھیوسوفکل کالج کے نام سے مشہور ہے، چند دن ٹیگور اس کالج میں قیام کیے ہویے تھے۔ اسی ایام میں انہوں نے انگریزی ترجمہ اس کالج میں کیا۔ اتفاق سے اس کی دھن بھی ہییں بنائی گئی۔ اور یہ کالج، ریاست آندھرا پردیش ، چتور ضلع کے شہر مدنپلی میں ہے۔ [8]

اس ترجمہ کی جلد کو آج بھی اس کالج میں دیکھا جاسکتا ہے۔

میڈیا[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]