قومی ترانہ (پاکستان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قومی ترانہ
قومی ترانہ Flag of Pakistan.svg پاکستان
شاعری حفیظ جالندھری
موسیقی احمد غلام علی چغلا, 1950
اختیار کردہ 1954
نمونۂ موسیقی

پاکستان کا قومی ترانہ پہلی بار 1954 میں نشر ہوا۔اس کی دھن احمد جی چھاگلہ نے ترتیب دی جبکہ ترانے کے بول حفیظ جالندھری نے تخلیق کیے۔قومی ترانے سے قبل پاکستان زندہ باد بطور قومی ترانہ استعمال ہوا کرتا تھا۔

قومی ترانہ
English Translation
پاک سرزمین شاد باد
كشور حسين شاد باد
تو نشان عزم عالي شان
ارض پاکستان!
مرکز یقین شاد باد
پاک سرزمین کا نظام
قوت اخوت عوام
قوم ، ملک ، سلطنت
پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد
پرچم ستارہ و ہلال
رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال
جان استقبال!
سایۂ خدائے ذوالجلال
Blessed be the Sacred Land
Happy and bounteous realm
Symbol of high resolve
Land of Pakistan
Blessed be thou, Citadel of Faith
The Order of this Sacred Land
Is the might of the Brotherhood of the People
May the nation, the country, and the state
Shine in glory everlasting
Blessed be the goal of our ambition
This Flag of the Crescent and Star
Leads the way to progress and perfection
Interpreter of our past, glory of our present
Inspiration of our future
Symbol of the Almighty's protection

مراحل[ترمیم]

شاعر[ترمیم]

قومی ترانہ نامور شاعر ابو لاثر حفیظ جالندھری کا تحریر کردہ ہے جو جون 1954 میں منظور ہوا۔

موسیقار[ترمیم]

قومی ترانہ کی دھن مشہور موسیقار احمد جی چھاگلہ نے مرتب کی تھی جسکا کل دورانیہ 80 سیکنڈ پر محیط ہے۔

منتخب ساز[ترمیم]

قومی ترانہ بجانے کے لیے منتخب ساز درج ذیل ہیں۔

  1. ولایتی طرز کی بانسری
  2. کلارنٹ
  3. اوبوا
  4. سیکسو فون
  5. کارنٹ
  6. ٹرمپٹ
  7. ہارن
  8. سلائیڈ
  9. ٹرومبون
  10. بیس ٹرومبون
  11. یوفونیم
  12. بے سون
  13. بیس اور ولایتی طرز کے ڈھول
  14. پکولو

قومی ترانے کی منظوری دینے والی کمیٹی[ترمیم]

چیرمین[ترمیم]

  • جناب ایس ایم اکرام،

ارکان[ترمیم]

انگریزی ویکیپیڈیا پر طویل عرصہ تک یہ دعوی کیا جاتا رہا کہ پاکستان کا پہلا ترانہ قائداعظم نے جگن ناتھ سے لکھوایا تھا، اور عام لوگوں نے اس پر یقین کرنا شروع کر دیا، تاہم بعد میں محققین نے اس دعوی کو مضحکہ خیز گردانا،[1] جس کے بعد اس دعوی کو ترک کر دیا گیا، مگر بعد میں بھی دہرایا جاتا رہا ہے۔ عقیل عباس جعفری نے اپنی کتاب میں اس قصہ پر تفصیلی تحقیق سے ثابت کیا کہ یہ قصہ جھوٹا ہے۔[2] [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "قائداعظم ، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ؟روزنامہ جنگ، 6 جون 2010ء، http://jang.net/urdu/archive/details.asp?nid=448001. 
  2. ^ انور سِن رائے (13 اگست 2011ء). "پاکستان کا قومی ترانہ". بی بی سی موقع. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/08/110813_pakistan_antham_sen.shtml. Retrieved 13 August 2011. 
  3. ^ عباس جعفری, عقیل (2011). پاکستان کا قومی ترانہ کیا ہے حقیقت؟ کیا ہے فسانہ. ورثہ پبلی کیشنز. ISBN 978-969-9454-02-8.