قومی ترانہ (پاکستان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قومی ترانہ
National Anthem
Flag of Pakistan.svg

قومی ترانہ Flag of Pakistan.svg پاکستان
مصنفحفیظ جالندھری
، جون 1952ء
موسیقیاحمد جی چھاگلہ
، 21 اگست 1949ء
منتخب13 اگست 1954ء
موقوفتا حال
نمونہ موسیقی

پاکستان کا قومی ترانہ، جو "پاک سرزمین" بھی کہلاتا ہے، سرکاری طور پر 1954ء میں پاکستان کا قومی ترانہ قرار پایا۔ اس کی دھن احمد جی چھاگلہ نے1949 میں ترتیب دی جبکہ ترانے کے بول حفیظ جالندھری نے 1952 میں تخلیق کیے۔۔ اس ترانے کو اس وقت کے گیارہ معروف سنگیت کاروں نے گایا جن میں احمد رشدی، کوکب جہاں، رشیدہ بیگم، نجم آرا، نسیمہ شاہین، زوار حسین، اختر عبّاس، غلام دستگیر، انور ظہیر اور اختر وارث علی شامل ہیں۔قومی ترانے سے قبل پاکستان زندہ باد بطور قومی ترانہ استعمال ہوا کرتا تھا۔

مراحل[ترمیم]

ایس ایم اکرم کی صدرات میں قائم ہونے والی نیشنل سانگ سلیکشن کمیٹی کے حفیظ جالندھری سمیت نو ممبر تھے۔ جن میں سردار عبدالرب نشتر، پیرزادہ عبدالستار، پروفیسر چکرورتی، چودھری نذیر احمد، ذوالفقار علی بخاری، اے ڈی اظہر، نسیم الدین شامل تھے۔ کمیٹی کو 723 ترانے موصول ہوئے جن میں سے کمیٹی نے حفیظ جالندھری، حکیم احمد شجاع اور سید ذوالفقار علی بخاری کے ترانے منتخب کیے- پھر غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے تینوں ترانے، دھن سے مطابقت جانچنے کیلئے بی بی سی کو بھجوا دیے گئے تھے۔ وہاں سے حفیظ جالندھری کے ترانے کو دھن کے مطابق عین معیاری قرار دیا گیا- جس کے بعد 4 اگست 1954ء کو مرکزی کابینہ نے حفیظ جالندھری کے ترانہ کو بطور قومی ترانے کے منظور کرلیا-

شاعر[ترمیم]

قومی ترانہ نامور شاعر ابو الاثر حفیظ جالندھری کا تحریر کردہ ہے، جو جون 1954ء میں منظور ہوا۔

موسیقار[ترمیم]

قومی ترانہ کی دھن مشہور موسیقار احمد جی چھاگلہ نے مرتب کی تھی، یکم اگست 1949ء کو اسے ریڈیو پاکستان پر بہرام رستم جی نے اپنے پیانو پر بجا کر ریکارڈ کرایا۔ اس وقت اس کا دورانیہ 80 سکینڈ تھا۔ اس دھن کو پہلی مرتبہ یکم مارچ 1950ء کو پاکستان میں ایران کے سربراہ مملکت کی آمد پر بجایا گیا تھا،

منتخب ساز[ترمیم]

قومی ترانہ بجانے کے لیے منتخب ساز درج ذیل ہیں۔

  1. ولایتی طرز کی بانسری
  2. کلارنٹ
  3. اوبوا
  4. سیکسو فون
  5. کارنٹ
  6. ٹرمپٹ
  7. ہارن
  8. سلائیڈ
  9. ٹرومبون
  10. بیس ٹرومبون
  11. یوفونیم
  12. بے سون
  13. بیس اور ولایتی طرز کے ڈھول
  14. پکولو

چیرمین[ترمیم]

  • جناب ایس ایم اکرام،

ارکان[ترمیم]

شاعری[ترمیم]

اردو شاعری
پاک سرزمین شاد باد كشورِ حسين شاد باد
تُو نشانِ عزمِ عالی شان ارضِ پاکستان!‏
مرکزِ یقین شاد باد
پاک سرزمین کا نظام قوّتِ اُخوّتِ عوام
قوم، ملک، سلطنت پائندہ تابندہ باد!‏
شاد باد منزلِ مراد
پرچمِ ستارہ و ہلال رہبرِ ترقّى و کمال
ترجمانِ ماضی، شانِ حال جانِ استقبال!‏
سایۂ خدائے ذوالجلال

دیگر امیدوار ترانے[ترمیم]

کمیٹی کے سامنے جو ترانے بھیجے گئے اُن کی تفصیل درج ذیل ہے

حکیم احمد کا شجاع کا لکھا گیا ترانہ[ترمیم]

زندہ باد پاکستان
حبِ وطن ایمان
اس پہ فدا ہے جان و تن ________جانِ جاں وطن
زندہ باد پاکستان

________
یہ پرچم باوقار
امن و امان کا نشان
پاکستان ہم سب کی عزت
ہم اس پر قُربان
________
زندہ باد پاکستان
حُبِ وطن ایمان
اس پہ فدا ہے جان و تن ________جانِ جاں وطن
زندہ باد پاکستان

زیڈ اے بخاری کا لکھا گیا ترانہ[ترمیم]

انسانیت کا نشان
علم و عمل ایمان
عزم و یقیں ہے زندگی
زندگی عمل
_________
انسانیت کا نشان
انسانیت کا نظام
اللہ کے احکام
پاکستان کی ہر دم خدمت
ہم سب کا ایمان
_________
انسانیت کا نشان
علم و عمل ایمان
عزم و یقیں ہے زندگی
زندگی عمل
انسانیت کا نشان

تنازع[ترمیم]

انگریزی ویکیپیڈیا پر طویل عرصہ تک یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ پاکستان کا پہلا ترانہ قائداعظم نے جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا تھا اور عام لوگوں نے اس پر یقین کرنا شروع کر دیا، تاہم بعد میں محققین نے اس دعوی کو مضحکہ خیز گردانا، [1] جس کے بعد اس دعوی کو ترک کر دیا گیا، مگر بعد میں بھی دہرایا جاتا رہا ہے۔ عقیل عباس جعفری نے اپنی کتاب میں اس قصہ پر تفصیلی تحقیق سے ثابت کیا کہ یہ قصہ جھوٹا ہے۔[2][3] جگن ناتھ آزاد کا لکھا ترانہ اس طر ح ہے۔

اے سرزمینِ پاک !

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک

روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک

تندیِ حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک

دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک

اے سرزمینِ پاک!

-

اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند

اپنا وطن ہے آج زمانے میں سربلند

پہنچا سکے گا اس کو نہ کوئی بھی اب گزند

اپنا عَلم ہے چاند ستاروں سے بھی بلند

اب ہم کو دیکھتے ہیں عطارد ہو یا سماک

اے سرزمینِ پاک!

-

اترا ہے امتحاں میں وطن آج کامیاب

اب حریت کی زلف نہیں محو پیچ و تاب

دولت ہے اپنے ملک کی بے حد و بے حساب

ہوں گے ہم اپنے ملک کی دولت سے فیضیاب

مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک

اے سرزمینِ پاک!

-

اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام

اپنے وطن میں آج نہیں ہے کوئی غلام

اپنا وطن ہے راہ ترقی پہ تیزگام

آزاد، بامراد، جواں بخت شادکام

اب عطر بیز ہیں جو ہوائیں تھیں زہرناک

اے سرزمینِ پاک!

-

ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک

روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک

اے سرزمینِ پاک!

لیکن تاریخی اعتبار سے جگن ناتھ کے ترانے کے قومی ترانہ ہونے کے شواہد نہیں ملتے [4]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر صفدر محمود (6 جون 2010ء). "قائداعظم، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ؟". روزنامہ جنگ. 
  2. انور سِن رائے (13 اگست 2011ء). "پاکستان کا قومی ترانہ". بی بی سی موقع. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2011. 
  3. عباس جعفری، عقیل (2011). پاکستان کا قومی ترانہ کیا ہے حقیقت؟ کیا ہے فسانہ. ورثہ پبلی کیشنز. ISBN 978-969-9454-02-8. 
  4. قومی ترانہ: دھن، شاعری اور تنازعات - پاکستان – Dawn News