باؤلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
باؤلی

باؤلی:اردو اور ہندی میں سیڑھی والے کنویں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

باؤلی تاریخی تناظر[ترمیم]

عموما باؤلی راجپوت دور میں استعمال ہونا شروع ہوئی شیر شاہ سوری نے بھی کافی باؤلیاں بنوائیں ان میں ہاتھی اور گھوڑے بھی اتر سکتے تھے بعض باؤلیوں میں خفیہ راستے بھی بنائے جاتے تا کہ ہنگامی حالات میں استعمال ہو سکیں بعض اوقات انخلاء کے مقصد کے لیے بھی استعمال ہوتیں ان کے قریب زیر زمین کئی کلومیٹر خفیہ راستے بھی ملتے ہیں جہاں بھی راجپوت اور شیر شاہ سوری کے دور کے قلعے ہیں وہاں یہ باؤلیاں ضرور ملتی ہیں۔

باؤلی کی دو قسمیں[ترمیم]

باؤلی کی دو قسمیں ہیں شمالی باؤلی اور مغربی باؤلی

شمالی باؤلی[ترمیم]

شمال کی باؤلی عموما سادہ جس میں ایک چوڑا زینہ ہوتا ہے جو عمارت کی پوری چوڑائی میں سطح زمین سے پانی کی سطح تک جاتا ہے اس طرح کی باؤلی شیخ سلیم چشتی کے مزار پر فتح پور سیکری میں ہے دہلی میں خواجہ نظام الدین اولیاء کے مقبرے پر ہے ان کا مقصد پانی نکالنا اور وضو اورغسل کرنے میں کارآمد بنانا ہے اس میں زائرین روپے اور سکے ڈالتے ہیں یہ انداز مسلمانوں نے یہاں اپنایا اس سے پہلے کا ذکر نہیں ملتا۔

مغربی باؤلی[ترمیم]

مغربی باؤلی اعلیٰ فنی اور تعمیری کمال کا نمونہ ہوتی ہے اور بڑی کارآمد ہوتی ہے جس کے لیے کافی محنت کی ضرورت ہوتی ہے یہ عموما دو حصوں پر مشتمل ہء ایک عمودی مدور یا مثمن ستون اور دوسرادالانوں کا ایک سلسلہ جنہیں سیڑھیوں کے ذریعہ ملا دیا جاتا ہے یہ عمارتیں گجرات کے اسلامی عہد میں بنی ہیں [1]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرہ معارف اسلامیہ جلد3 صفحہ1016 جامعہ پنجاب لاہور