مندرجات کا رخ کریں

کالی داس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کالی داس
کالی داس 375 عیسوی میں بادل کا پیغامبر میگھ دوت کی نشان دہی کرتے ہوئے۔
کالیداس 375 عیسوی میں بادل کا پیغامبر میگھ دوت کی نشان دہی کرتے ہوئے۔
مقامی نامسنسکرت: कालिदास، نقحر: Kālidāsa، لفظی ترجمہ: 'کالی کا خادم'‎
پیدائشغالباْ چوتھی صدی عیسوی
ممکنہ طور پر سلسلہ کوہ ہمالیہ یا اوجین کے قریب
وفاتغالباْ پانچویں صدی عیسوی
گپتا سلطنت، ممکنہ طور پر اججین یا سری لنکا
پیشہڈراما نگار اور شاعر
قومیتبھارتی
اصنافسنسکرت ڈراما
موضوعہندو پران
نمایاں کامابھجنان شکنتلم، "میگھدوتم"
شریک حیاتکہا جاتا ہے کہ شہزادی ودیوتما سے شادی کی

کالی داس چوتھی یا پانچویں صدی قبل مسیح کے سنسکرت زبان کے شاعر اور مصنف تھے۔ کالی داس کو سنسکرت زبان میں انگریزی زبان کے ولیم شیکسپیئر کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔[1] ان کی زیادہ تر تصانیف ہندو فلسفے کے متعلق ہیں۔ سنسکرت زبان میں نظم گوئی اور ڈراما نگاری کے لیے کالی داس عالمی شہرت کے مالک ہیں۔ ہندوستان میں انھیں ’مہا کوی‘ کالی داس یعنی شاعرِ اعظم کہا جاتا ہے۔ کوی کے لفظی معنی تو شاعر کے ہیں لیکن حوالے میں ڈراما نگاری کی صنف بھی شامل ہوتی ہے۔ کالی داس کے حالات زندگی بہت کم معلوم ہیں۔ دیگر ہندوستانی فن کاروں کی طرح کالی داس نے اپنی تخلیقات میں اس جانب کہیں کوئی اشارہ بھی نہیں کیا ہے۔ چنانچہ کالی داس کے مقام پیدائش اور ان کے عہد کے تعلق سے مختلف روایتیں ملتی ہیں۔ محققین نے ان کے زمانے کا تعین دوسری صدی ق م سے لے کر چوتھی صدی عیسوی تک کیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق سمدر گپت کے زمانۂ حکومت میں کالی داس کا جنم ہوا اور چندرگپت دوم کے آخری دور تک ان کے لکھنے کا کام جاری رہا۔ یوں تو بنگال، اڈیشا، مدھیہ پردیش اور کشمیر سبھی مقامات ان کے مسکن رہے ہیں لیکن ان میں کالی داس کا مدھیہ پردیش یا کشمیر کا ہونا زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔[2]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ R A Malagi (2005), "Toward a Terrestrial Divine Comedy: A study of The Winter's Tale and Shakuntalam", In Poonam Trivedi; Dennis Bartholomeusz (eds.), India's Shakespeare: translation, interpretation, and performance (بزبان انگریزی), University of Delaware Press, p. 123, ISBN:978-0-87413-881-8
  2. ↑ جامع اردو انسائیکلوپیڈیا (جلد 1 ادبیات)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، 2003ء، ص 427