رامانوجن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رامانوجن
Srinivasa Ramanujan - OPC - 2.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 22 دسمبر 1887[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اروڑ[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 26 اپریل 1920 (33 سال)[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کومبھکونم[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سل[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
رہائش
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن رائل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مقام_تدریس ٹرینیٹی کالج، کیمبرج
مقالات Highly Composite Numbers
مادر علمی جامعہ مدراس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
استاد
پیشہ ریاضی دان[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ریاضی دان
ملازمت ٹرینٹی کالج، کیمبرج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
رائل سوسائٹی فیلو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Srinivasa Ramanujan signature

مشہور ریاضی دان۔ پورا نام سرینواسا آینگر رامانوجن تھا۔ ریاست تمل ناڈو میں 1887ء میں پیدا ہوئے۔ امانوجن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں ’لامحدود کی سمجھ تھی‘۔

برصغیر نے پچھلی تین صدیوں میں سب سے بڑا ذہین شخص جو پیدا کیا وہ Ramanujan تھے سب سے بڑی بات یہ کہ راما نوجن کی وفات محض 33 برس کی عمر میں ہوئی . [8]

رامونجن 1887 میں پیدا ہوئے اور بتیس سال کی کمسن عمر میں ٹی-بی سے 1920 میں فوت ہوگئے:

"خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں"

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ریاضی سے بے انتہا لگاؤ کی وجہ سے انہیں کالج پہنچ کر تعلیم چھوڑنا پڑی کیونکہ وہ دیگر مضامین کی طرف توجہ نہیں دے سکے۔ پیسوں کی کمی کی وجہ سے رامانوجن کا گزارا زیادہ تر خیرات پرتھا مگران کی ریاضی میں دلچسپی برقرار رہی۔ رامانوجن نے مدراس میں کلرک کی نوکری شروع کر دی لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے لوگوں کو اپنے ریاضی کے علم سے متعارف کروانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ [8]

کارہائے نمایاں[ترمیم]

انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے ریاضی کے ماہرین کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ امانوجن کو تیسرے ہی خط کے بعد اس وقت کامیابی حاصل ہو گئی جب پروفیسر جی ایچ ہارڈی نے رامانوجن کے دس صفحات کے خط میں دیے گئے ریاضی کے مسئلوں پر غور کرنے کے بعد انہیں کیمبرج بلا لیا۔


رامانوجن نے ریاضی کی تعلیم باقاعدہ حاصل نہیں کی پر کیمبرج میں ایک ریاضی دان نے بلوا لیا، وہاں کام کیا 3100 ایکویشنز اور رزلٹس دریافت کیے ۔ ۔ ذہانت خاص کر ریاضیاتی ذہانت تو ختم تھی . انکی ذہانت کا ایک قصہ انکا نمبر ہے , جسے ہم ریاضی میں Ramanujan Number کے نام سے جانتے ہیں ۔ ہوا یوں کہ کیمبرج کے ریاضی دان Hardy انکو ملے اور یہ اس وقت گاڑی میں سامان ڈال رہے تھے ہارڈی نے کہا کہ میں پریشان ہوں، انہوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے؟ ہارڈی نے کہا کہ میں نے ابھی ٹیکسی پر 1729 نمبر دیکھا، کیا اس نمبر میں کچھ خاص ہے؟ رامانوجن نے کچھ سیکنڈ . کے بعد کہا کہ ہاں یہ سب سے چھوٹا نمبر ہے جو دو مختلف 2 نمبرز کے کیوبز کا سَم ہے 1729 = (1)^3 + (12)^3 = (9)^3 + (10)^3 [8]


رامونجن صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے ہردفعہ ایف-اے میں داخلے کے ٹیسٹ میں تمام مضامین میں فیل ہوجاتے اور ریاضی میں بھی واجبی سے نمبر حاصل کرسکتے کیونکہ یہ ٹیسٹ میں صرف اُن سوالوں کا جواب دیتے جس کو یہ اہم سمجھتے تھے باقیوں کو چھوڑ دیتے۔ اس صورت میں شدید غربت میں رہے اور فاقوں میں زندگی بسر کی لیکن خود سے اپنی ریاضی میں تحقیق جاری رکھی 1910 میں ان کی رسائی راماسوامی ایئار سے ہوئی جو ہندوستان ریاضی سوسائیٹی کے بانی تھے جس کے بعد رامونجن کو کچھ پذیرائی ملی اور آپ مدراس یونیورسٹی میں آنے جانے لگے۔

آپ نے اپنے زمانے کے یورپ اور امریکہ کے تمام بڑے ریاضی کے ماہرین کو خطوط لکھے اور اپنے وضع کردہ ثبوت لکھے، کیونکہ رامونجن باقاعدہ ریاضی کی تعلیم نہیں رکھتے تھے اس لئے ان کے ثبوتوں میں زبان، علامتیں بالکُل غیر مانوس تھیں کسی بھی ریاضی دان نے ان کو گھاس نہ ڈالی سوائے جی-ایچ- ہارڈی کے جس نے اس کا خط دیکھ کہ یہ فیصلہ کیا کہ یہ کوئی شعبدے باز ہے اور اس کے خط ردی میں پھینکے لیکن بہت گہری سوچ میں رہا کہ اگر یہ کوئی شعبدے باز بھی ہے تو اتنے گہرائی میں فارمولوں کا جاننا بھی کوئی کم نہیں پھر اس نے رامونجن سے خط و کتاب شروع کی تو معلوم ہوا کہ یہ تو جینئیس ہے اور اس غرض سے کہ اس کو ریاضی کی جدید تعلیم دی جائے 1914 میں انگلستان بلوایا جہاں یہ شدید سردی اور صرف سبزی خور ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر صحت مند نہ رہ سکے اور 1918 میں برصغیر لوٹ آئے اور 1920 میں وفات پا گئے۔

میں نے آجتک عظیم ترین ریاضی دانوں کی کوئی فہرست ایسی نہیں دیکھی جس میں رامونجن کا ذکر پہلے پانچ لوگوں میں نہ ہو


انتقال[ترمیم]

رامانوجن پانچ سال کیمبرج میں گزارنے کے بعد 1919ء میں بھارت واپس آئے اور ایک سال کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ رامانوجن کی برطانیہ کے سخت سرد موسم میں صحت بہت خراب ہو گئی تھی جہاں انہوں ہمیشہ صرف سبزیوں پر مشتمل خوراک کھائی۔ رامانوجن کی تحقیق نے جدید دور میں ڈیجیٹل انقلاب کے بیج بوئے۔ خودکار ٹیلر مشینیں جن سے پیسے نکلوائے جاتے ہیں رامانوجن کے نظریہ پارٹیشن کے تحت کام کرتی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w66x1fd4 — بنام: Srinivasa Ramanujan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=21850 — بنام: Srinivasa Ramanujan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Srinivasa Ramanujan Birthday, Age, Family & Biography — اخذ شدہ بتاریخ: 24 فروری 2018 — شائع شدہ از: سوانح
  5. Srinivasa Ramanujan Biography — اخذ شدہ بتاریخ: 24 فروری 2018 — شائع شدہ از: Biography.com
  6. ^ ا ب The Mystery of Srinivasa Ramanujan's Illness — اخذ شدہ بتاریخ: 24 فروری 2018
  7. SRINIVASA RAMANUJAN Mathematician — اخذ شدہ بتاریخ: 24 فروری 2018
  8. ^ ا ب پ "رامانوجن"۔ سائنس کی دنیا۔ 13 نومبر 2018۔ صفحہ سائنس کی دنیا (گروپ)۔