شگر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شگر

شگر : (Shigar) : شگرپاکستان کے شمالی علاقہ جات بلتستان میں واقع ایک نہایت وسیع اور خوبصورت وادی ہے۔یہ بلتستان ڈویژن کے کسی بھی ضلع سے آبادی اور رقبہ دونوں لحاظ سے بڑا علاقہ ہے۔ شگر کی آبادی لمسہ نامی گاوں سے شروع ہوتی ہے، یہاں سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر شگر خاص آتا ہے جو پورے ضلع کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ شگر خاص دریائے باشہ اور دریائے برالدو کا سنگم ہے۔ شگر خاص سے برالدو نالے کی جانب جانے والی سڑک برالدو نالے کے آخری گاوں تستے پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے۔ شگر خاص سے تستے کے بیچ میں یونین کونسل چھورکاہ، الچوڑی اور داسو واقع ہیں۔ یہ ایریا شگر کی داہنی جانب واقع ہے، جس کے اختتام پر دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی (K.2) موجود ہے۔ کے۔ ٹو کے علاوہ گشہ بروم1، گشہ بروم 2، ٹرانگ اینڈ ٹاورجیسی چوٹیاں بھی برالدو ایریا میں دنیا بھر سے کوہ پیماوں اور سیاحوں کو کھینچ لانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

شگر کی باہنی جانب باشے کا ایریا موجود ہے جس کی ابتدا یونین کونسل گلاب پور کے پہلے گاوں نیالی سے ہوتا ہے، اس کے بعد یونین کونسل تسر اور یونین کونسل باشہ کا ایریا آتا ہے۔ یونین کونسل تسر میں چھوترون کا قدرتی گرم چشمہ اور یونین کونسل باشہ میں بیسل کا قدرتی گرم چشمہ بہت مشہور ہیں۔ باشہ ایریا کا اختتام ارندو کے بڑوق سے ہوتا ہے ، وہاں سے حراموش گلگت کی سرحد شروع ہوجاتی ہے۔ ارندو میں سپانگ ٹیک کے نام سے ایک چوٹی ہے، جس کو سر کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک سے کوہ پیما آتے ہیں۔

خوبانی اور خصوصا باشہ کی دیسی گھی کا بہت چرچا ہے۔ شگر میں مختلف قسم کے معدنیات کی فراوانی ہے۔ یہاں سے نکالے گئے سنگ مرمر سے دنیا بھرپور استفادہ کرتی ہے؛ جبکہ یہاں کے باسیوں کے گھر آج بھی مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔

پورے بلتستان کی طرح شگر میں بھی پہلے راجا  کا دور ہوتا تھا مگر اب کونسلر نظام رائج ہے۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت شیعہ اثنا عشری ہے، جواپنے مذہبی پیشواؤں کے تابع ہوتے ہیں۔ سن 2015 میں شگر کو ضلع کا درجہ دیا گیا شگر کی آبادی تقریبا ایک لاکھ چالیس ہزار (1,40،000) کے لگ بھگ ہے۔شگر میں ایک انٹر کالج اور سات ہائی سکول ہیں۔

اس وادی کے خوبصورت اور دلکش قدرتی مناظر ،بلندپھاڑی چوٹیاں ،لہلہا تے کھیت ،ٹھنڈی چشمے اور آبشاریں ،ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنے اندر ایک منفرد کشش رکھتی ہے ۔ اس وادی کی سرحدیں مشرق میں خپلو ، مغرب میں نگر گلگت اور جنوب کی وادی سکردو سے ملتی ہیں۔شمالی طرف دنیا کی دوسری بلندترین چوٹی «کے ٹو»اور کوہ قراقرم کی دیگر پہاڑی چوٹیاں اور گلیشرزہیں۔جن کو مرکونے کی کوشش میں لاتعداد کوہ پیما اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ وادی شگر کے مہمان نواز،بہادر اور جفا کش لوگوںکا پیشہ کھیتی باڑی،اور مویشی پالنا ہے بہت کم لوگ ملازمت پیشہ ہیں۔یہ وادی پھلوں اور میووں کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں۔ان میں خوبا نی ،بادام ،سیب،ناشپاتی،انگور،الوبخارا،گلاس ،شہتوت ،اخروٹ اور دوسری پھلیں شامل ہیں۔وادی کے پہاڑوں میں قدرت کا پیش بہا اور قیمتی خزا نہ پوشیدہ ہیں۔ان پہاڑوں میں چھپی معدنیات کےعلاوہ بہت ہی دوسری قیمتی اشیاء ہیں جن میں سے چند مشہور معدنیات کا ذکر پیش خدمت ہے۔ «ابرق» یہاں خاص مقدار میں ابرق پایا جاتا ہے جو شیشہ سازی کے کام آتا ہے۔ «کچا چونا»شگر میں کئی جگھوںپر چومے کا پتھر دستیاب ہے جن کو کار خانوں میں پکا کر عمدہ قسم کا چونا تیار کیا جاتا ہے۔ «نیلم »اس وادی کے پہاڑو ں سے نیلم بھی ملتے ہیں یہ پتھر جواہرات کی دنیا میں بڑی قیمت پاتے ہیں۔ «زہرمہرہ»شگر سے تقریبا «30»میل مشرق کی سمت پہاڑی نالوں کو عبور کرنے کے بعد ایک تیز سبز رنگ کا پہاڑ ہے جسے مقامی زبان میں «پزول»کہتے ہیں۔یہ سبزرنگ کا پتھر عام پتھروں کی نسبت نرم ہے جس سے ہر قسم کے برتن اور دوسری نمایشی چیزیں بنایی جاسکتی ہیں۔اس پتھر سے بنے ہوئے برتنوں کی یہ خوبی بیان کی جاتی ہے کہ اگر ان میں زہر ملاکر کھانا ڈالا جاے تو کھانا خود بہ خود ابلنے لگتا ہے۔اور زہر کا اثر زائل ہوجا تا ہے اگر کوئی آدمی زہر کھالے یا اسے سانپ کاٹ جائے تو زہر جسم میں پھیلنے سے پہلے زہرہ مہرہ کا ایک ٹکڑا پیس کر پانی میں حل کر کے مریض کو پلا یا جائے تو مریض صحت یاب ہوجاتا ہے۔ «جڑی بوٹیاں»پہاڑوں اور ندی نالوں کے کنارے بہت سی قیمتی جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں جن سے طبی ادویات تیار کی جاتی ہیں۔ موسم بہار میں یہ وادی بہت خوبصورت نظر آتی ہے چاروں طرف ہرے بھرے درخت نظر آتے ہیں لیکن درج ذیل مقامات کو خاص اہمیت حاصل ہے:جربہ ژھو، مسجد امبوڑک، پھونگ کھر، خانقاہ معلی ، حشوپی باغ، گرم چشمہ چھوترون، گرم چشمہ بیسل، مونوکو سپنگ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]