پاکستان کے ڈویژن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پاکستان

ڈویژن صوبوں اور اضلاع کے درمیان پاکستان میں حکومت کی تیسرے درجے کی تقسیم ہیں۔ ضلعی حکومتوں کے ذریعے مقامی حکومت کے لیے راستہ بنانے کے لیے سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت کی طرف سے 2000ء میں ختم کر دیا گیا تھا۔ اگست 2008ء میں کچھ صوبوں میں اس تقسیم کو بحال کر دیا گیا۔ پنجاب نے اس میں پہل کی اور آٹھ ڈویژنوں کو بحال کر دیا۔[1]

پاکستان کے چاروں صوبے انتظامی "ڈویژنوں" میں تقسیم ہیں۔ ڈویژن کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اور قبائلی علاقہ جات پر نہیں ہوتا۔

تاریخ[ترمیم]

انتظامی ڈویژنوں نوآبادیاتی دور سے حکومت کا ایک لازمی درجے کے طور پر قائم کیا۔ اور صوبوں کو برطانوی راج کے دوران ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا جو خود اضلاع میں تقسیم تھے۔

1947ء میں آزادی کے بعد پاکستان دو حصوں پر مشتمل - مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان جبکہ بھارت ایک الگ ملک بنا۔ پاکستان مِیں انتظامی ڈویژنوں کو از سر نو ترتیب دیا گیا۔

نئے ڈویژن[ترمیم]

مغربی پاکستان تحلیل کے بعد چاروں نئے صوبوں میں ڈویژنوں دوبارہ منظم کیے گئے۔

تنسیخ[ترمیم]

ضلعی حکومتوں کے ذریعے مقامی حکومت کے لیے راستہ بنانے کے لیے سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت کی طرف سے 2000ء میں ختم کر دیا گیا تھا۔

بحالی[ترمیم]

2008ء میں عام انتخابات کے بعد نئی حکومت نے تمام صوبوں کے ڈویژنوں کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔[2]

فی الوقت پنجاب کے ساتھ نو ڈویژن (اور 36 اضلاع کی کل) ہیں۔ ساہیوال ڈویژن تازہ ترین اضافہ ہے۔

سندھ میں 2010ء میں مقامی حکومتوں باڈیز کی مدت گزر جانے کے بعد ڈویژنل کمشنرز نظام بحال کرنے کے لیے کہا گیا۔[3][4][5]

جولائی 2011ء میں کراچی شہر میں انتہائی تشدد کی لہر اور پیپلز پارٹی سندھ میں اکثریتی جماعت اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان سیاسی اختلافات اور ایم کیو ایم کے سندھ کے گورنر کے مستعفی ہونے کے بعد حکومت سندھ نے صوبے میں کمشنریٹ نظام کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں سندھ کے پانچ ڈویژن اپنے متعلقہ اضلاع کے ساتھ یعنی، کراچی ڈویژن، حیدر آباد ڈویژن، سکھر ڈویژن، میرپور خاص ڈویژن اور لاڑکانہ ڈویژن کو بحال کر دیا گیا۔[6]

ڈویژن[ترمیم]

بلوچستان کے ڈویژن
ڈویژن رقبہ (کلومیٹر²) دار الحکومت
قلات 140,612 خضدار
مکران 52,067 تربت
نصیر آباد 16,946 نصیر آباد
کوئٹہ 64,310 کوئٹہ
سبی 27,055 سبی
ژوب 46,200 لورالائی


خیبر پختونخوا کے ڈویژن
ڈویژن رقبہ (کلومیٹر²) دار الحکومت
بنوں 4,391 بنوں
ڈیرہ اسماعیل خان 9,005 ڈیرہ اسماعیل خان
ہزارہ 17,194 ایبٹ آباد
کوہاٹ 7,012 کوہاٹ
مالاکنڈ 29,872 سیدو شریف
مردان 3,046 مردان
پشاور 4,001 پشاور


پنجاب کے ڈویژن
ڈویژن رقبہ (کلومیٹر²) دار الحکومت
بہاولپور 45,588 بہاولپور
ڈیرہ غازی خان 38,778 ڈیرہ غازی خان
فیصل آباد 17,917 فیصل آباد
گوجرانوالہ 17,206 گوجرانوالہ
لاہور 16,104 لاہور
ملتان 21,137 ملتان
راولپنڈی 22,255 راولپنڈی
سرگودھا 26,360 سرگودھا
ساہیوال 10,302 ساہیوال


سندھ کے ڈویژن
ڈویژن رقبہ (کلومیٹر²) دار الحکومت
حیدر آباد 48,670 حیدر آباد
کراچی 3,528 کراچی
لاڑکانہ 15,543 لاڑکانہ
میرپور خاص 38,421 میر پور خاص
سکھر 34,752 سکھر


آبادی[ترمیم]

ڈویژن آبادی-1998 آبادی-1981 رقبہ
(کلومیٹر²)
دار الحکومت
آزاد کشمیر 2,800,000 1,980,000 11,639 مظفرآباد
بہاولپور 7,635,591 4,668,636 45,588 بہاولپور
بنوں 1,165,692 710,786 4,391 بنوں
ڈیرہ غازی خان 6,503,590 3,746,837 38,778 ڈیرہ غازی خان
ڈیرہ اسماعیل خان 1,091,211 635,494 9,005 ڈیرہ اسماعیل خان
فیصل آباد 2,885,685 6,667,425 17,917 فیصل آباد
قبائلی علاقہ جات 3,176,331 2,198,547 27,220 اسلام آباد
گوجرانوالہ 4,431,058 7,522,352 17,206 گوجرانوالہ
ہزارہ 3,505,581 2,701,257 17,194 ایبٹ آباد
حیدرآباد 6,829,537 4,678,290 48,670 حیدرآباد
اسلام آباد 805,235 204,364 906 اسلام آباد
قلات 1,457,722 1,044,174 140,612 خضدار
کراچی 15,856,318 5,437,984 3,528 کراچی
کوہاٹ 1,307,969 758,772 7,012 کوہاٹ
لاہور 4,248,641 8,670,358 16,104 لاہور
لاڑکانہ 4,233,076 2,746,201 15,543 لاڑکانہ
مکران 832,753 652,602 52,067 تربت
مالاکنڈ 4,262,700 2,466,767 29,872 سیدو
مردان 2,486,904 1,506,500 3046 مردان
میر پور خاص 3,936,349 2,419,745 38,421 میر پور خاص
ملتان 11,577,431 7,533,710 21,137 ملتان
نصیر آباد 1,076,708 699,669 16,946 نصیر آباد
شمالی علاقہ جات 910,000 562,000 72,520 گلگت
پشاور 3,923,588 2,281,752 4,001 پشاور
کوئٹہ 1,699,957 880,618 64,310 کوئٹہ
راولپنڈی 6,659,528 4,552,495 22,255 راولپنڈی
سرگودھا 5,679,766 3,930,628 26,360 سرگودھا
ساہیوال 6,271,247 10,302 ساہیوال
سبی 494,894 305,768 27,055 سبی
سکھر 5,584,613 3,746,446 34,752 سکھر
ژوب 1,003,851 749,545 46,200 لورالائی

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Office of Div Commissioner restored"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "Commissionerate system restored"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "Commissioner system to be restored soon: Sindh CM"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Commissioner system to be restored soon: Durrani"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. "Sindh: Commissioner system may be revived today"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "Commissioners, DCs posted in Sindh"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔