اسد ملتانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسد ملتانی
Allama Asad.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 13 دسمبر 1902  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ضلع ملتان،  برطانوی پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 17 نومبر 1959 (57 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
راولپنڈی،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل غزل،  نعت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

اسد ملتانی (پیدائش: 13 دسمبر، 1902ء - وفات: 17 نومبر، 1959ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر، ماہرِ اقبالیات اور سول سرونٹ تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

اسد ملتانی 4 دسمبر، 1902ء کو کڑی افغاناں، ضلع ملتان، صوبہ پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے[1]۔ وہ پاکستان کی وزارت خارجہ میں ڈپٹی سیکریٹری تھے۔ وہ اردو اور فارسی کے ایک قادر الکلام شاعر تھے اور ان کے شعری اسلوب کا اندازہ ان اشعار سے ہوتا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں مشارق، مرثیہ اقبال اور تحفہ حرم، اقبالیات کے موضوع پر اقبالیاتِ اسد ملتانی شائع ہوچکی ہے جسے ڈاکٹر جعفر بلوچ نے مرتب کیا۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • مرثیہ اقبال
  • اقبالیاتِ اسد ملتانی (ترتیب ڈاکٹر جعفر بلوچ)
  • مشارق (حمد و نعت، ترتیب ڈاکٹر جعفر بلوچ)
  • تحفہ حرم(شاعری)
  • کلیاتِ اسد ملتانی (ترتیب و تدوین سید شوکت علی بخاری)

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

تماشا ہے کہ سب آزاد قومیںبہی جاتی ہیں آزادی کی رو میں
وہ گردِ کارواں بن کے چلے ہیںستارے تھے رواں جن کے جلو میں
سفر کیسا فقط آوارگی ہےنہیں منزل نگاہِ راہرو میں
ہے سوز دل ہی رازِ زندگانیحیات شمع ہے صرف اس کی لو میں
بہت تھے ہم زباں لیکن جو دیکھانہ نکلا ایک بھی ہمدرد سو میں
اسدؔ ساقی کی ہے دوہری عنایتشرابِ کہنہ ڈالی جام نو میں[2]

غزل

ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہےیہ تنگ دلی کیوں ہے یہ کم نظری کیوں ہے
اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کےخود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے
سو جلوے ہیں نظروں سے مانند نظر پنہاںدعویٔ جہاں بینی اے دیدہ وری کیوں ہے
حل جن کا عمل سے ہے پیکار و جدل سے ہےان زندہ مسائل پر بحث نظری کیوں ہے
تو دیکھ ترے دل میں ہے سوز طلب کتنامت پوچھ دعاؤں میں یہ بے اثری کیوں ہے
واعظ کو جو عادت ہے پیچیدہ بیانی کیحیراں ہے کہ رندوں کی ہر بات کھری کیوں ہے
ملتا ہے اسے پانی اشکوں کی روانی ہےمعلوم ہوا کھیتی زخموں کی ہری کیوں ہے
الفت کو اسدؔ کتنا آسان سمجھتا تھااب نالۂ شب کیوں ہے آہ سحری کیوں ہے [3]

شعر

رہیں نہ رند یہ واعظ کے بس کی بات نہیںتمام شہر ہے دوچار دس کی بات نہیں

وفات[ترمیم]

اسد ملتانی 17 نومبر، 1959ء کو راولپنڈی، پاکستان میں وفات پاگئے۔[1]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]