پاکستان کے صدارتی انتخابات 2008ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پاکستان کے صدارتی انتخابات 2008ء

→ 2007 6 ستمبر 2008 2013 ←

  Asif Ali Zardari - 2009.jpg Mushahid Hussain Syed.jpg
امیدوار آصف علی زرداری سعید الزماں صدیقی مشاہد حسین
جماعت پی پی پی ن لیگ پاکستان مسلم لیگ (ق)
انتخابی ووٹ 481 153 44

صدر قبل انتخاب

محمد میاں سومرو
پاکستان مسلم لیگ (ق)

منتخب صدر

آصف علی زرداری
پی پی پی

State emblem of Pakistan.svg
مضامین بسلسلہ
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین

پاکستان کے صدارتی انتخابات 2008ء 6 ستمبر کو منعقد ہوئے۔[1]

پاکستان کا الیکٹورل کالج جو ایوان بالا (سینیٹ)، ایوان زیریں (قومی اسمبلی) اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوتا ہے، نے نئے صدر کا انتخاب سابق صدر پرویز مشرف کے 18 اگست 2008ء کو استعفی کے بعد آئین میں دی گئی ہدایات کے عین مطابق کیا۔ ۔[2] آئین کے مطابق نئے صدر کا انتخاب 30 روز کے اندر ہو جانا چاہیے تھے۔

الیکٹورل کالج کی ساخت[ترمیم]

پاکستان کا الیکٹورل کالج ریاست کے چھ بنیادی سیاسی قانون ساز مراکز پر مشتمل ہے:

چونکہ ہر صوبہ کے لیے صدارتی انتخابات میں یکساں تعداد میں ووٹ مقرر ہوتے ہیں، اس بنیاد پر ہر صوبائی اسمبلی کو 65 ووٹ میسر ہیں۔ اس قاعدہ کی رو سے ہر اسمبلی کے رکن کے ووٹ کی عددی قیمت متعین ہوتی ہے۔ یعنی پنجاب اسمبلی کے ہر رکن کے ووٹ کی عددی اہمیت : 65/370 = 0.176 ووٹ، سندھ اسمبلی کے ہر رکن کے ووٹ کی عددی اہمیت 65/166 = 0.392 ووٹ، سرحد اسمبلی کے ہر رکن کے ووٹ کی عددی اہمیت 65/124 = 0.524 ووٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کے ووٹ کی عددی اہمیت 65/65 = 1 ووٹ کی ہے۔[3]

الیکٹورل کالج کے اجزاء کی انتخابات کے وقت صورت حال کچھ اس طرح سے تھی:

جز پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) مسلم لیگ (ق) متحدہ قومی موومنٹ عوامی نیشنل پارٹی متحدہ مجلس عمل مسلم لیگ (ف) پیپلز پارٹی (ش) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) نیشنل پیپلز پارٹی آزاد/اقلیتی کل
قومی 124 91 54 25 13 7 5 1 1 1 18 340
سینیٹ 9 4 38 6 2 17 1 3 1 - 19 100
پنجاب 107 170 84 - - 2 3 - - - 4 370
سندھ 93 - 9 51 2 - 8 - - 3 - 166
بلوچستان 12 - 19 - 4 10 - - 7 - 13 65
سرحد 30 9 6 - 48 14 - 6 - - 11 124
کل 216 130 132 51 45 42 10 7 9 2 56 700
حوالہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ارکان قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی تفصیل۔ اور صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کے شمار کا طریقہ کار

صدارتی امیدوار[ترمیم]

26 اگست 2008ء الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی۔[4]

  • سابق صدر پرویز مشرف کے 18 اگست 2008ء کو دیے گئے استعفٰی کے بعد حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاکہ پاکستان کے اگلا صدر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہونا چاہیے، کیونکہ یہ مجلس شوریٰ میں اکثریتی جماعت ہے۔[5]
  • اس سے اگلے ہی روز 19 اگست کو حکمران اتحاد نے ممکنہ صدارتی امیدواروں کی فہرست جاری کی جو یہ تھے:
  • متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اخباری بیان جاری کیا گیا کہ صدر پنجاب سے تعلق نہ رکھتا ہو، بلکہ کسی بھی چھوٹے صوبے سے تعلق رکھتا ہو۔ اس ضمن میں جماعت نے سندھ سے تعلق رکھنے والے آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کیا۔[7]
  • پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 21 اگست 2008ء کو اپنے ممکنہ صدارتی امیدواروں کی فہرست جاری کر دی جو یہ تھی:[8]
  • پاکستان پیپلز پارٹی نے متفقہ طور پر 22 اگست کو آصف علی زرداری کو اپنا امیدوار برائے صدر مقرر کر دیا۔[9]
  • پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے 23 اگست کو تحفظات کا اظہار کیا گیا اور اخباری بیان میں کہا گیا کہ صدر کے لیے موزوں امیدوار آزاد شخص ہونا چاہیے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) آصف علی زرداری کی حمایت صدارتی اختیارات کی کمی اور معطل کیے گئے منصفین کی بحالی سے مشروط کر دی۔[10]
  • عوامی نیشنل پارٹی نے 24 اگست کو صدارتی انتخابات میں آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔[11]
  • پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 25 اگست 2008ء کو حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی اور جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کو متفقہ طور پر صدارتی امیدوار مقرر کر دیا۔[12]
  • پاکستان تحریک انصاف کے راہنما عمران خان نے ایک اخباری بیان میں آصف علی زرداری پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے ان کی بطور صدارتی امیدوار تقرری کو رد کر دیا۔[13]
  • جمعیت علمائے اسلام (ف) نے باجوڑ میں جاری فوجی کارروائی ختم کرنے کی شرط پر آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔[14]
  • پاکستان مسلم لیگ (ف) نے اخباری بیان میں صدارتی انتخابات میں کسی بھی امیدوار کی حمایت یا مخالف نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔[15]
  • اقلیتی برادری کے نمائندہ پارلیمانی اتحاد نے آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔[16]
  • پاکستان مسلم لیگ (ق) نے متفقہ طور پر 26 اگست 2008ء کو سید مشاہد حسین سید کو متفقہ امیدوار نامزد کر دیا۔[17]
  • الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 28 اگست 2008ء کو پانچ صدارتی امیدواروں کی فہرست جاری کر دی، جو یہ تھے:
  • فریال تالپور اور روداد خان نے 30 اگست 2008ء کو بطور صدارتی امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔[19]
  • پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) نے 30 اگست 2008ء کو آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔[20]

نتائج[ترمیم]

امیدوار جماعت/حمایت یافتہ سینیٹ و قومی اسمبلی پنجاب سندھ بلوچستان سرحد کل ووٹ
آصف علی زرداری Flagge der Pakistanischen Volkspartei.svg پاکستان پیپلز پارٹی 281 22 63 59 56 481
سعید الزماں صدیقی Flag of Muslim League.png پاکستان مسلم لیگ ن 111 35 0 2 5 153
مشاہد حسین سید Flag of Muslim League.png پاکستان مسلم لیگ ق 34 6 0 2 2 44
ذریعہ: روزنامہ ڈان

آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے پاکستان کے نئے صدر منتخب ہو گئے۔ چیف الیکشن کمشنر نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری نے دونوں ایوانوں کے کل 426 ووٹوں میں سے 281، سندھ اسمبلی کے 65 ووٹوں میں سے 62، سرحد اسمبلی میں 56 اور بلوچستان اسمبلی میں 59 ووٹ حاصل کیے۔[21] بی بی سی نے آصف علی زرداری کی کامیابی کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ“آصف علی زرداری نے 459 ووٹ حاصل کیے، جو درکار کامیابی کے لیے 352 ووٹوں سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔[22]

نئے منتخب شدہ صدر کی مدت صدارت پانچ سال کے لیے ہے۔[23][24] صدارتی انتخابات پشاور میں ہوئے خود کش حملے کے بعد بھی جاری رہے جس میں 12 لوگ جاں بحق ہو گئے۔[25]

سرحد اسمبلی میں انتخابات کے دوران مبینہ بدعنوانی[ترمیم]

صدارتی انتخابات کے دوران میں صوبہ سرحد کی قانون ساز اسمبلی میں ارکان، جن میں وزیر اعلیٰ سرحد بھی شامل تھے خفیہ رائے شماری کے تحت ہونے والے انتخابات کی خلاف ورزی کھلے عام ووٹوں کو دکھاتے ہوئے کرتے رہے۔[26] اسی بنا پر ان ووٹوں کو شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔[27]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "پاکستانی صدارتی انتخابات کی تاریخ مقرر ہو گئی"۔ آسٹریلین نیوز۔ اگست 22, 2008۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-09-26۔
  2. "مشرف نے مواخذے سے بچنے کے لیے استعفی دیا (اپڈیٹ)"۔ بلومبرگ۔ 2008-07-14۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-18۔
  3. تفصیلات الیکشن کمیشن کے مطابق
  4. ججوں کی بحالی پر تنازع، انٹرنیشنل ٹریبون، 2008-08-22، اخذ شدہ بتاریخ 2009-08-22
  5. اگلا صدر پیپلز پارٹی سے ہو گا، ژن ہو، 2008-08-18، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-20
  6. مشرف کے جانشین کے لیے حکمران سرگرم، فرانسیسی پریس ایجنسی، 2008-08-19، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-20
  7. پاکستانی حزب اختلاف زرداری کی حمایت پر، وائس آف امریکہ، 2008-08-20, اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-20
  8. زرداری کی بطور امیدوار نامزدگی پر قضیہ، بلومبرگ، 2008-08-22, اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-22
  9. زرداری پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں، انٹرنیشنل ہیرالڈ، 2008-08-22، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-23
  10. شریف کو زرداری شرائط پر قبول، الجزیرہ، 2008-08-24، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-24
  11. پاکستانی حکمران اتحاد صدارت پر بھی متحد، رائٹر، 2008-08-24، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-25
  12. شریف نے حکمران اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی، سی این این، 2008-08-25، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-25
  13. زرداری کی نامزدگی پر عمران، بابر کی جھڑپ، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-25، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-25
  14. فوجی کارروائی ختم کرنے کی شرط پر حمایت، فضل الرحمان، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-25، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-25
  15. پاکستان مسلم لیگ (ف) کسی کی حمایت نہیں کرتی، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-25، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-25
  16. اقلیت زرداری کو صدر دیکھنا چاہتے ہیں، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-25، اخذ شدہ بتاریخ 2008-08-25
  17. "پاکستانی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدوار لے آئیں۔ پیپلز ٹائمز"۔ انگریزی میں چینی اخبار - پیپلز ٹائمز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-09-26۔
  18. پانچ امیدوار میدان میں، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-29، اخذ شدہ بتاریخ 2008-09-07
  19. تین سیاسی جماعتوں کے امیدوار، ہندوستان ٹائمز، 2008-08-31، اخذ شدہ بتاریخ 2008-09-07
  20. شیرپاؤ نے زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا، پاکستان ٹرائیبون، 2008-08-31، اخذ شدہ بتاریخ 2008-09-01
  21. afp.google.com، زرداری نے صدارتی انتخاب جیت لیا: حکام
  22. بھٹو کے شوہر فاتح: بی بی سی
  23. timesofindia.indiatimes.com، زرداری پہلے نمبر پر
  24. بھٹو کا شوہر پاکستانی صدر
  25. 12 افراد خودکش حملے میں جاں بحق: پولیس
  26. "ممبران نے قانون کی دھجیاں اڑا دیں ballot in NWFP assembly"۔ جیو۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-09-26۔
  27. "پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سرحد اسمبلی کے واقع پر ردعمل ۔ یو ٹیوب کی ویڈیو"۔ یو ٹیوب۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-09-26۔