سئی بھوسلے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سئی بھوسلے
سئی بھوسلے
Saibai.png
A 2012 artist's rendition of Saibai
شریک حیات شیواجی
نسل Sakhubai Nimbalkar
Ranubai Jadhav
Ambikabai Mahadik
سمبھاجی
خاندان Nimbalkar (by birth)
بھونسلے (by marriage)
والد مدھوجی راو نائک نمبالکر
والدہ ریوبائی
پیدائش ت 1633
پھلتان، مہاراشٹر، بھارت
وفات 5 ستمبر، 1659 (عمر 26)
قلعہ راج گڑھ، پونے، ہندوستان
مذہب ہندو مت

سئی بھوسلے (1633ء[1] – 5 ستمبر 1659ء) مرہٹہ سلطنت کے بانی چھترپتی شیواجی کی پہلی بیوی اور مہارانی تھیں۔ ان کے بطن سے مرہٹہ سلطنت کے دوسرے چھترپتی سمبھاجی پیدا ہوئے۔

خاندان[ترمیم]

سئی بائی کا تعلق مشہور مرہٹہ خاندان نمبالکر سے تھا جس کے افراد پوار خاندان کے عہد سے پھلتان کے حکمران تھے اور دکن سلطنتوں اور مغلیہ سلطنت کی خدمت بھی انجام دی۔ سئی بائی پھلتان کے پندرہویں راجا مدھوجی راؤ نائک نمبالکر کی بیٹی اور سولہویں راجا بجاجی راؤ نائک نمبالکر کی بہن تھیں۔[2] سئی بائی کی والدہ ریوبائی شرکے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

شادی[ترمیم]

سئی بائی کی بچپن ہی میں شیواجی سے شادی ہو گئی تھی۔ ان کی شادی کی تقریب لال محل، پونہ میں 16 مئی 1640ء کو منعقد ہوئی۔[3][4] اس شادی کے سارے انتظامات شیواجی کی والدہ جیجا بائی نے کیے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس تقریب میں شیواجی کے والد، شاہ جی اور ان کے بھائی، سمبھاجی اور ایکوجی شریک نہیں تھے اور بعد میں شاہ جی نے اپنی نو بیاہتا بہو، شیواجی اور ان کی والدہ جیجا بائی کو بنگلور بلا لیا تھا جہاں وہ اپنی دوسری بیوی تکابائی کے ساتھ رہا کرتے تھے۔[5]

سئی بائی اور شیواجی کے باہمی تعلقات بہت مضبوط تھے۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایک زیرک خاتون اور شیواجی کی بے حد وفادار تھیں۔[6] تمام تاریخی مصادر میں ان کے حسن صورت و سیرت اور محبت و پیار کا تذکرہ ملتا ہے۔ نیز مورخین نے ان کی نرمی اور بے غرضی کا بھی ذکر کیا ہے۔[7]

سئی بائی کے ان اوصاف کو دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیواجی کی دوسری بیوی سوئیرا بائی سے بالکل متضاد تھیں۔ سوئیرا بائی سازشی ذہن کی خاتون تھیں۔[8] تاہم سئی بائی اور شیواجی کی دوسری بیویوں کے درمیان جھڑپ یا اختلافات کا کوئی ذکر کہیں نہیں ملتا۔ جب تک وہ زندہ رہیں گھریلو اور ملکی دونوں معاملات میں شیواجی کی دست و بازو بنی رہی۔ نیز شیواجی اور پورے شاہی خانوادے پر ان کا گہرا اثر و رسوخ تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Tare، Kiran۔ "First-ever portrait of Shivaji's queen to be unveiled soon"۔ اخذ شدہ بتاریخ February 27, 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  2. Katamble، V.D.۔ Shivaji the Great۔ Pune: Dattatraya Madhukar Mujumdar, Balwant Printers۔ صفحہ 36۔ ISBN 9788190200004۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. Balkrishna Deopujari، Murlidhar۔ Shivaji and the Maratha Art of War۔ Vidarbha Maharashtra Samshodhan Mandal۔ صفحہ 35۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. Gordon، Stewart۔ The Marathas 1600-1818۔ Cambridge University۔ صفحہ 60۔ ISBN 9780521268837۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  5. Rana، Bhawan Singh۔ Chhatrapati Shivaji۔ New Delhi: Diamond Pocket Books۔ صفحہ 19۔ ISBN 9788128808265۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  6. Sen، Surendra Nath۔ Foreign Biographies of Shivaji Volume 2 of Extracts and Documents relating to Maratha History۔ K. Paul, Trench, Trubner & Company Limited۔ صفحہ 165۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  7. Kincaid، Dennis۔ The History of Shivaji: The Grand Rebel (in انگریزی)۔ Karan Publications۔ صفحہ 78۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  8. Sardesai، H. S.۔ Shivaji, the Great Maratha۔ Cosmo Publ.۔ صفحہ 1011۔ ISBN 9788177552881۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)