برہان الدین ربانی
پروفیسر برهان الدين رباني برہان الدین ربانی | |
|---|---|
| ذاتی تفصیلات | |
| پیدائش | 1940 |
| وفات | 20 ستمبر |
| جماعت | جمعیت اسلامی |
| مادر علمی | کابل یونیورسٹی جامعہ الازہرمصر |
پروفیسر برہان الدین ربانی (پیدائش 20 ستمبر 1940ء) سنہ 1992ء سے 1996ء تک افغانستان میں سوویت اتحاد کی شکست کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے صدر رہے اور 1994ء میں طالبان کی حکومت قائم ہونے سے پہلے معزول ہو گئے۔ برہان الدین ربانی افغانستان کے بڑے لیڈروں میں شمار ہوتے تھے، وہ مشہور کمانڈر احمد شاہ مسعود کے استاذ تھے۔ انھوں نے سنہ 2002ء میں افغانستان پر امریکی حملے کی حمایت کی تھی۔ برہان الدین ربانی کا تعلق تاجک برادری سے تھا اور وہ 1992ء سے 1996ء تک افغانستان کے صدر کے عہدے پر فائز رہے۔
امن کونسل کی سربراہی
[ترمیم]سال 2010ء میں انھیں عسکریت پسندوں کے ساتھ مفاہمت کے لیے قائم کی گئی اعلیٰ امن کونسل کا سربراہ نامزد کیا گیاتھا۔
خود کش حملہ و وفات
[ترمیم]ستمبر 2011ء میں کابل میں امریکی سفارتخانے کے باہران پر خودکش حملہ ہوا جس میں وہ جاں بحق ہو گئے۔ نیٹو حکام کے مطابق دو خودکش حملہ آوروں نے انھیں مفاہمت کا جھوٹا تاثر دیا تھا جنھوں نے ان پر حملہ کیا۔ طالبان کے ایک ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ عسکریت پسند تنظیم نے دو انتہائی تربیت یافتہ جنگجوؤں کو پروفیسر ربانی سے روابط قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
پسماندگان
[ترمیم]پروفیسر برہان الدین ربانی نے پسماندگان میں دو بیٹے صلاح الدین ربانی شجاع الدین ربانی اور ایک بیٹی فاطمہ ربانی چھوڑی ہیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر برہان الدین ربانی سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- نامعلوم پیرامیٹرز استعمال کرنے والے صفحات
- اخوان المسلمون کے افغان ارکان
- ارکان ولسی جرگہ
- افغان تاجک شخصیات
- افغان سنی مسلم
- افغان صدور
- افغان مسلم
- افغانستان کے جنگجو
- افغانستان میں مقتول افراد
- افغانستان میں 1990ء کی دہائی
- افغانستان میں 2011ء میں قتل
- اکیسویں صدی کے افغان سیاست دان
- جامعہ کابل کے فضلا
- حنفی فقہا
- دولت اسلامی افغانستان
- صوبہ بدخشاں کی شخصیات
- طالبان کے ہاتھوں قتل ہونے والی شخصیات
- فاضل جامعہ الازہر
- فوجی تاخت میں معزول شدہ قائدین
- مقتول افغان سیاست دان
- 1940ء کی پیدائشیں
- 2011ء کی وفیات