حاجی علی درگاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ہاجی علی کی درگاھ

ہاجی علی کی درگاھ مُںبئی کے ورلی تٹ کے نِکٹ ستھِت ایک چھوٹے سے ٹاپُو پر ستھِت ایک مسجِد ایوں درگاھ ہیں۔ اِسے سیّد پیر ہاجی علی شاہ بُکھاری کی سمرتی میں سن ١۴۳١ میں بنایا گیا تھا۔ یہ درگاھ مُسلِم ایوں ہندو دونوں سمُدایوں کے لیے وِشیش دھارمِک مہتو رکھتی ہیں۔ یہ مُںبئی کا مت وپُورن دھارمِک ایوں پریٹن ستھل بھی ہے

اتہاس[ترمیم]

درگاھ کو سن ١۴۳١ میں سُوپھی سںت سیّد پیر ہاجی علی شاہ بُکھاری کی سمرتی میں بنایا گیا تھا۔ ہاجی علی ٹرسٹ کے اَنوسار ہاجی علی اُزبیکِستان کے بُخارا پرانت سے ساری دُنیا کا بھرمن کرتے ہوئے بھارت پہُچے تھے۔

ستھاپتے[ترمیم]

درگاھ کو مُکھے سڑک سے جوڑنے والا سیتو

ہاجی علی کی درگاھ ورلی کی کھاڑی میں ستھِت ہے۔ مُکھے سڑک سے لگبھگ ۴٠٠ میٹر کی دُری پر یہ درگاھ ایک چھوٹے سے ٹاپُو پر بنائی گئی ہے॥ یہاں جانے کے لیے مُکھے سڑک سے ایک سیتو بنا ہوا ہیں۔ اِس سیتو کی اُچائی کافی کم ہے اور اِسکے دونوں اور سمُند ر ہے۔ درگاھ تک صرف نِمن جوار کے سمے ہی جایا جا سکتا ہے اَنے سمے میں یہ سیتو پانی کے نیچے ڈُوبا رہتا ہے۔ سیتو کے دونوں اور سمُند ر ہونے کے کارن یہ راستا کافی منورم ہو جاتا ہے ایوں درگاھ آنے والو کے لیے ایک وِشیش آکرشن ہیں۔

درگاھ ٹاپُو کے ۴۵٠٠ ورگ میٹر کے چھےتَر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ درگاھ ایوں مسجِد کی باہری دیوارے مُکھیتا شویت رںگ سے رںگی گئیں ہیں۔ درگاھ کے نِکٹ ایک 8۵ پھیٹ اُوںچی مینار ہے جو کی اِس پرِسار کی ایک پہچان ہے۔ مسجِد کے اندر پیر ہاجی علی کی مجار ہے جِسے لال ایوں ہری چادر سے سجِّت کِیا گیا ہیں۔ مجار کو چارو طرف چاںدی کے ڑنڑو سے بنا ایک دایرا ہے۔

درگاھ

مُکھے ککش میں سںگ مرمر سے بنے کئی ستمبھ ہیں جِن کے اُوپر رںگین کاںچ سے کلاکاری کی گئی ہیں ایوں اللہ کے 99 نام بھی اُکےرے گئےں ہے۔

سمُںد ری نمکین ہوااوں کے کارن اِس عمارت کو کافی نقصان ہوا ہیں. سن ١٩۶٠ میں آخری بار درگاھ کا سُدھار کارے ہوا تھا۔

روچک تتھے[ترمیم]

  • ہِںدی فیچر فِلم پھِجا میں پیر ہاجی علی کے اُوپر ایک کوّالی فِلمائی گئی ہے۔
  • پرسِدّھ ہِںد فیچر فِلم کُلی کا اَںتِم درشے ہاجی علی درگاھ میں ہی فِلمایا گیا ہیں۔