مگسی
اس مضمون میں کسی قابل تصدیق ماخذ کا حوالہ درج نہیں ہے۔ |

مگسی پاکستان کا اہم ترین بلوچ قبیلہ ہے۔ جھل مگسی اس قوم کا صدر مقام ہے،
مگسی کے قبیلے کانام مغربی بلوچستان کے مگس ( مکران ) کی وادی کے نام سے متعلق ہے۔
رند اور لاشار میں پھوٹ پڑ گی تو میر رند کیچ میں اور لاشار خان بھنبھور میں آباد ہوا۔ کچھ عرصہ کے بعد بلوچ کیچ اور بھنبھور کو چھوڑ کر براستہ قلات کچھی میں داخل ہوئے ۔ اس وقت قلات پر سیوا جی کی حکومت تھی۔ بلوچوں نے ایک خونیں جنگ کے بعد سیوا جی کوقتل کیا اور قنبر خان قلات کا حاکم مقرر ہوا۔ رند خان کا بیٹا شہیک خان براہ بولان کی پہنچا اور اس نے وہاں کے حاکم سومرا کو شکست دے کرسی پر قبضہ کرسبی پر قبضہ کر لیا۔ میر لاشار کا پوتا گہرام خان برا- خان براستہ مولاں گنداوہ میں داخل ہوا۔ اس وقت اس علاقہ میں اقوام ودھا، چنہ او مانکا آباد تھیں اور مینگیر خان ان سب کا حاکم تھا۔ اس نے میرگہرام کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی۔
علاقے
[ترمیم]- جھل مگسی
- گوٹھ آباد مگسی (بلوچستان)
- گوٹھ اسماعیل مگسی (ضلع کمبر شہدادکوٹ)
- قائم پور مگسیاں (ضلع رحیم یار خان)
- نواں کوٹ مگسیاں
- مگسیاں والا
- شیر گڑھ مگسیاں (تحصیل کبیر والا )
- کھلڑ مگسیاں (ضلع وہاڑی)
شخصیات
[ترمیم]- ذوالفقار علی مگسی
- عبداللہ مگسی
- زیب مگسی
- میر نادر خان مگسی
- سردار یوسف عزیز مگسی
- میر یعقوب مگسی
- سردار قیصر عباس خان مگسی (ایم پی اے ، لیہ)
- ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر شاہد مگسی
- نوابزادہ اورنگزیب عالمگیر مگسی (سیاست دان ، جھل مگسی)
- نوابزادہ میر عامر مگسی
- قادر علی مگسی ہیسبانی
- اسلم خاں مگسی