مراد مرزا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مراد مرزا
Sultan Murad and Sultan Daniyal on a Picnic.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 7 جون 1570  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
فتح پور سیکری،  وآگرہ،  ومغلیہ سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 مئی 1599 (29 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قلعۂ لاہور،  ولاہور،  ومغلیہ سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن مقبرہ ہمایوں،  ودہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد جلال الدین اکبر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان تیموری خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

شہزاہ مراد مرزا (پیدائش: 7 جون 1570ء— وفات: 12 مئی 1599ء) مغلیہ سلطنت کے شہنشاہ جلال الدین اکبر کا دوسرا فرزند اور شہزادہ نور الدین جہانگیر کا چھوٹا بھائی تھا۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

مراد مرزا کی پیدائش 7 جون 1570ء کو فتح پور سیکری، آگرہ میں ہوئی۔ شہنشاہ جہانگیر نے تزک جہانگیری میں لکھا ہے کہ مراد کی والدہ حرمِ اکبری کی ایک کنیز تھیں مگر شہنشاہ جہانگیر نے اُس کنیز کا نام نہیں لکھا۔ مراد کا دوسرا بھائی دانیال مرزا تھا جس کی والدہ بھی یہی کنیز تھی لیکن دانیال مرزا کے حوالے سے مختلف آراء بیان کی گئی ہیں کہ دانیال مرزا کی والدہ سلیمہ سلطان بیگم تھیں کہ جن کی زیر پرورش یہ دونوں بچے تھے۔[1] 1580ء میں مراد کو ابو الفضل ابن مبارک کی اور مونتسیرات زیر نگرانی تعلیم کے لیے بٹھایا گیا۔ [2] فرانسسکو ایکواوِیوا نے مراد کو پرتگالی زبان اور مسیحیت کے بنیادی علوم پڑھائے۔[3]

مناصب[ترمیم]

1577ء میں مراد کو ہفت ہزاری منصب تفویض کیا گیا جبکہ مراد کی عمر ابھی 7 سال کی تھی۔ 1584ء میں بلوغت کے موقع پر مراد کو نہصد ہزاری یعنی 9,000 افراد کی منصبداری تفویض کی گئی۔

مناصب گورنری[ترمیم]

مہمات اور وفات[ترمیم]

1593ء میں شہنشاہ اکبر نے اُسے دکن کی فتوحات کے لیے روانہ کیا، علاوہ ازیں آسام کی مہم بھی اُس کے سپرد کی گئی تھی۔ 1595ء میں مراد نے آسام کو فتح کرکے اُسے مغلیہ سلطنت کا حصہ بنا دیا اور شہنشاہ اکبر کی جانب سے اُسے آسام کی گورنری تفویض ہوئی۔ دکن کی فتوحات کے دوران مراد کی کثرتِ شراب نوشی سے طبیعت بگڑ گئی اور ابوالفضل کو مراد کی جگہ دکن کی مہمات کے لیے بھیجا گیا [4] جو اوائل مئی 1599ء کو مراد کے خیمے میں پہنچا جہاں مراد علیل تھا۔ مراد کو لاہور لایا گیا جہاں اُس نے قلعہ لاہور میں 12 مئی 1599ء کو 29 سال کی عمر میں وفات پائی۔


خاندان[ترمیم]

مراد مرزا کی شادی خانِ اعظم مرزا عزیز کوکہ کی بیٹی حبیبہ بانو بیگم سے 15 مئی 1587ء کو آگرہ میں ہوئی۔ مرزا عزیز کوکہ جلال الدین اکبر کی رضاعی والدہ جیجی انگہ کا بیٹا تھا۔[5] مرزا کی عمر شادی کے وقت سترہ سال تھی۔ [6] 27 اگست 1588ء کو حبیبہ بانو بیگم سے شہزادہ رستم مرزا پیدا ہوا [7] جو 9 سال کی عمر میں ہی 30 نومبر 1597ء کو آگرہ میں فوت ہوا۔[8] دوسرا فرزند شہزادہ سلطان مرزا تھا جو 4 نومبر 1590ء کو پیدا ہوا تھا اور کم سنی میں ہی فوت ہو گیا تھا۔[9] مراد کی دوسری شادی خاندیش کے حاکم راجا علی خان کی دختر سے ہوئی جس سے ایک بیٹی جہاں بانو بیگم پیدا ہوئی۔ جس کا عقد بعد ازاں نور الدین جہانگیر کے بیٹے پرویز مرزا سے ہوا۔[10][11][12]

مزید دیکھیے[ترمیم]

  • Vincent Arthur Smith, Akbar the Great Mogul, 1542-1605, 1917
  • Spanish Geographical Society. "Antonio de Montserrat in the final frontier". Newsletter of the Spanish Geographical Society 43. http://www.sge.org/sociedad-geografica-espanola/publicaciones/boletines/numeros-publicados/boletin-no-43/antoni-de-montserrat-en-la-ultima-frontera.html. 
  • Oscar R. Gomez۔ Tantrism in the Society of Jesus - from Tibet to the Vatican today۔ Editorial MenteClara۔ صفحہ 28۔ آئی ایس بی این 978-987-24510-3-5۔
  • Bamber Gascioigne۔ A Brief History of the Great Moghuls: India’s most flamboyant rulers۔ صفحہ 113۔
  • Royal Asiatic Society of Great Britain and Ireland۔ Journal of the Royal Asiatic Society of Great Britain and Ireland۔ Cambridge University Press for the Royal Asiatic Society۔ صفحہ 1899۔
  • Beveridge 1907، صفحہ۔ 791.
  • Beveridge 1907، صفحہ۔ 807.
  • Beveridge 1907، صفحہ۔ 1097.
  • Beveridge 1907، صفحہ۔ 881.
  • Maharashtra State Gazetteers: Aurangabad district۔ Director of Government Printing, Stationery and Publications, Maharashtra State۔ صفحہ 107۔
  • Yar Muhammad Khan۔ The Deccan Policy of the Mughuls۔ United Book Corporation۔ صفحہ 77۔
  • Emperor Jahangir؛ Alexander Rogers؛ Henry Beveridge۔ The Tuzuk-i-Jahangiri; or, Memoirs of Jahangir. Translated by Alexander Rogers. Edited by Henry Beveridge۔ London Royal Asiatic Society۔ صفحات 78, 81۔