مندرجات کا رخ کریں

چغتائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

چغتائی منگولوں کے قبیلے قیات بورجگین کی شاخ ہے جو چنگیز خان کے دوسرے بیٹے چغتائی خان کی اولاد ہے۔ وسطی ایشیا اور ہندوستان میں حکومت کرنے والا تیموری شاہی خاندان کا نسلی تعلق (جسے عام طور پر مغلیہ خاندان کہا جاتا ہے) چغتائی ایک قبیلہ بھی ہے اور ایک زبان بھی۔

ماخذ اور تاریخی پس منظر

[ترمیم]

نسلی بنیاد

[ترمیم]

چغتائی اصل میں مغلوں کا ایک اہم اور مستند قبیلہ ہے، جو منگول فاتح **چنگیز خان** کے دوسرے بیٹے **چغتائی خان** کی نسل سے ہے۔ [1]

ترک و مغل شناخت

[ترمیم]

اگرچہ یہ لوگ نسلاً ترک تھے، لیکن چنگیز خان کی سلطنت کے اس حصے کے وارث ہونے کی وجہ سے انھیں "چغتائی" اور "مغل" کہا جاتا ہے۔ [2] ہندوستان کا مغل شاہی خاندان بھی اسی چغتائی شاخ سے تعلق رکھتا تھا۔ [3]

جدِ امجد

[ترمیم]

ہندوستان کے کچھ چغتائی مغلوں کے مطابق وہ اپنے جدِ امجد **مغل خان** کی نسل سے ہیں۔ [4]

شاہی خاندان اور سیاسی اہمیت

[ترمیم]

شاہی نسب

[ترمیم]

ہندوستان کا آخری مغل شاہی خاندان اسی چغتائی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ [5] تیمور لنگ بھی اسی جغرافیائی اور نسلی پس منظر کا حامل تھا، جس کی وجہ سے تیموری خاندان کو "چغتائی مغل" کہا جاتا ہے۔ [6]

حکمرانی

[ترمیم]

چنگیز خان نے اپنی وفات پر یہ علاقے چغتائی خان کے سپرد کیے تھے اور بعد ازاں امیر تیمور اسی سلسلے کا وارث بنا۔ [7]

جغرافیائی پھیلاؤ اور سماجی درجہ بندی

[ترمیم]

پنجاب میں موجودگی

[ترمیم]

پنجاب میں مغلوں کے دو بڑے قبیلے مستند مانے جاتے ہیں: **چغتائی (یا چغتا)** اور **برلاس**۔ [8] یہ دہلی کے علاوہ راولپنڈی، سیالکوٹ، گجرات، شاہ پور اور ملتان میں کافی تعداد میں آباد ہیں۔ [9]

سماجی رتبہ اور تبدیلی

[ترمیم]

شاہ پور اور بہاولپور کے علاقوں میں یہ لوگ مغل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن **جٹوں** کے ساتھ باہمی شادیوں کی وجہ سے اب ان کا سماجی درجہ جٹوں کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ [10] ضلع جھنگ میں "چوگھتی" (Choghatti) نامی ایک شاخ **پاؤلیوں** (جولاہوں) کے اندر بھی پائی جاتی ہے۔ [11] ملتان میں انھیں بعض مقامات پر زراعت پیشہ **جٹ قبیلہ** بھی شمار کیا گیا ہے۔ [12]

مختلف روایات اور تضادات

[ترمیم]

ہندو/راجپوت ماخذ کا دعویٰ

[ترمیم]

بھٹی جدونوں (Bhatti Jadons) کا دعویٰ ہے کہ چغتائی مغل دراصل ان کی نسل سے ہیں، جب وہ غزنی اور زابلستان کے حکمران تھے۔ [13]

سندھی روایت

[ترمیم]

ایک عوامی روایت کے مطابق، سمّہ قبائل کے جدِ امجد "جدم" کے بیٹے **گجپت** سے **چغدہ** (Chaghda) قبیلہ نکلا، جسے اب مغل سمجھا جاتا ہے۔ [14]

عربی ماخذ کا دعویٰ

[ترمیم]

شاہ پور کے کچھ چغتائی خاندانوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ مغل نہیں بلکہ اصل میں **عرب** سے آئے ہیں۔[15]

علاقائی مغل قبائل

[ترمیم]

پونچھ کے چغتائی ریاست پونچھ کے مغلوں کے بارے میں ذکر ہے کہ یہ چغتائی خان کی اولاد ہیں اور انھیں **"چغتائی خاندان"** کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ [16] مغل دور میں ان لوگوں کو تعمیرات اور انتظام کے لیے کشمیر سے یہاں لایا گیا تھا۔ [17]

== حوالہ جات ==
  1. The Pathans 550 B.C.-A.D. 1957, Olaf Caroe, Page 136, Macmillan & Co Ltd, London, 1958
  2. Olaf Caroe, Page 137, 1958
  3. The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh, W. Crooke, Vol IV, Page 4, Office of the Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1896
  4. W. Crooke, Vol IV, Page 1, 1896
  5. W. Crooke, Vol IV, Page 4, 1896
  6. Olaf Caroe, Page 137, 1958
  7. Olaf Caroe, Page 136, 1958
  8. Panjab Castes, Denzil Ibbetson, Page 212, Civil and Military Gazette Press, Lahore, 1916
  9. Ibbetson, Page 212, 1916
  10. A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province, H.A. Rose, Vol II, Page 144, Civil and Military Gazette Press, Lahore, 1911
  11. H.A. Rose, Vol III, Page 206, 1911
  12. ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ای ڈی میکلیگن، ایچ اے روز، ترجمہ: یاسر جواد، صفحہ 1112، بک ہوم لاہور، 2014ء
  13. W. Crooke, Vol IV, Page 4, 1896
  14. The Musalman Races Found in Sind, Baluchistan and Afghanistan, Sheikh Sadik Ali, Page 48, Karachi, 1901
  15. H.A. Rose, Vol II, Page 144, 1911
  16. تاریخ اقوام پونچھ (حصہ دؤم)، محمد دین فوق، صفحہ 1405، لاہور
  17. محمد دین فوق، صفحہ 1448