سلیمہ سلطان بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلیمہ سلطان بیگم
Jodhbai.jpg

مغل بیگم * خیرالمشیرہ (اچھا مشورہ دینی والی)۔
معلومات شخصیت
پیدائش 5 مارچ 1539  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قنوج  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 دسمبر 1612 (73 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
شریک حیات بیرم خان
جلال الدین اکبر (1561–)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبدالرحیم خان خانہ
والدہ گل رخ بیگم  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان مغل
دیگر معلومات
پیشہ شاعرہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سلیمہ ،مغل شہنشاہ اکبر اعظم کی بیوی،اور اکبر کے تین خاص بیگموں میں سے ایک ہے۔ ان کو تاریخ میں ان کی اخلاق کے بدولت جانا جاتاہے۔ ہر کسی کو سلیقے اور آدب و احترام سے پیش آتی تھی ،اور اکبر کے تین خاص بیگموں میں سے ہے جن سے اکبر کا ایک بہت ہی خاص رشتہ ہوتا تھا (باقی کے دو خاص بیگمیں ایک مریم الزمانی اور رقیہ سلطان ہیں)۔ آپ کی پہلی شادی بیرم خان سے ہوئی تھی لیکن اس کے قتل کے بعد سلیمہ بیگم اور ان کی بیٹے رحیم خان کو سہارا دینے کے لیے اکبر نے سلیمہ بیگم سے نکاح کیا تھا۔

اکبر اور دیگر اہل حرم کے ساتھ تعلقات[ترمیم]

اکبر نے سلیمہ بیگم سے نکاح اس لیے کیا تھا کہ ان کی شوہر وفات ہو گئے تھے اور ان کا کوئی سہارا نہ بچا۔ تو اکبر نے ان کی ذمہ اپنے سر لیے اور سلیمہ سے نکاح کیا۔ اکبر کے ساتھ سلیمہ بیگم کی تعلقات بہت ہی اچھے تھے یہاں تک کہ سلیمہ کو اکبر نے اپنے تین خاص بیگمات میں شامل کیا۔ اکبر جب بھی کسی مشکل یا تنگ دستی میں ہوتے تو سلیمہ بیگم کے پاس آتے اور ان سے مشورہ لیتے اور اکبر کو ہمیشہ سلیمہ بیگم کی فیصلے پر فخر ہوتا اور چین و سکون پاتے اس لیے کبھی کبھی سلیمہ بیگم کو خیرالمشیرہ یعنی اچھا مشورہ دینی والی بھی کہا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ان کا حرم میں تمام لوگوں سے عمدہ تعلق قائم تھا۔ رقیہ سلطان بیگم انکی پھوپھی زاد بہن تھی اس لیے وہ ان کا بھی خیال رکھتی تھی اس کے علاوہ مریم الزمانی (جنہیں ہندو جودھا بھی کہتے ہیں) کے ساتھ بھی اچھا سلوک تھا اور وہ انکی ایک اچھی دوست تھی۔