مریم الزمانی
| ||||
|---|---|---|---|---|
| پادشاہ بیگم | ||||
| دور حکومت | 30 اگست 1569ء – 15 اکتوبر 1605ء | |||
| معلومات شخصیت | ||||
| پیدائشی نام | راج کمار جودھا بائی | |||
| پیدائش | 1 اکتوبر 1543ء آمیر، بھارت، راجستھان | |||
| وفات | 19 مئی 1623ء (عمر: 80 سال) آگرہ، سلطنت مغلیہ | |||
| مدفن | مقبرہ مریم الزمانی ، آگرہ | |||
| مذہب | شیعہ اسلام | |||
| شریک حیات | جلال الدین محمد اکبر (6 فروری 1562–27 اکتوبر 1605) | |||
| اولاد | نورالدین جہانگیر | |||
| والد | راجا بھارا مل | |||
| والدہ | ملکہ مناواتی | |||
| نسل | فاطمہ بانو بیگم حسن مرزا حسین مرزا عباس مرزا نور الدین جہانگیر دانیال مرزا فیروزه بیگم | |||
| دیگر معلومات | ||||
| پیشہ | ہمسر ملکہ | |||
| درستی - ترمیم | ||||
ولی نعمت مریم الزمانی پادشاہ بیگم، بیگم صاحبہ، ملکہ معظمہ، ملکۂ ہندوستان، شاہی بیگم (دیگر نام: جودھا بائی رکماوتی صاحبہ، راج کماری ہیرا کنواری اور ہرکھا بائی) ایک راجپوت شہزادی تھیں جو مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر سے شادی کے بعد ملکہ ہندوستان بنیں۔ وہ جے پور کی راجپوت ریاست آمیر کے راجا بھارمل کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپ کے بطن سے ولی عہد و ہندوستان کے اگلے بادشاہ نور الدین جہانگیر پیدا ہوئے۔ [1]مریم الزمانی واحدی همسرِ اکبر بادشاہ تھیں جنھیں خطابِ پادشاہ بیگم حاصل تھا اور انھوں نے یہ خطاب اکبر بادشاہ کی وفات سنہ 1605ء تک اپنے پاس برقرار رکھا۔ مزید برآں، وہ سلطنتِ گورکانیہ (مغلیہ سلطنت) کی سب سے طاقتور اور بااثر ملکہؤں میں سے ایک تھیں۔ مریم الزمانی نے اپنے بیٹے جہانگیر شاہ کے دورِ سلطنت میں ایک حقیقی ملکہ مادر کی طاقت اور اثر و رسوخ کا مظاہرہ کیا اور وہ سلطنتِ گورکانیہ کی سب سے طاقتور اور بااثر ملکہ مادر تھیں۔ اگرچہ بحیثیت ملکہ زوجہ بھی وہ مغلیہ سلطنت کی تاریخ کی طاقتور ترین اور مؤثر ترین ملکہ زوجہ میں شمار ہوتی تھیں۔ اکبر بادشاہ نے جہانگیر کی ولادت کے بعد جودھا بائی کو مریم الزمانی کا خطاب عطا کیا، جس کے معنی ہیں "زمانے کی برگزیدہ ملیکا"۔ بعد ازاں جہانگیر شاہ نے انھیں شاہی بیگم کا خطاب دیا، جس کے معنی ہیں "شاندار حکمران ملکہ"۔
زندگی
[ترمیم]آپ یکم اکتوبر 1542ء کو پیدا ہوئیں اور 6 فروری 1562ء کو تقریباً 20 سال کی عمر میں آپ کی شادی اکبر سے ہوئی۔ راجستھان کے آخری آزاد راجا مالدیو کی جانب سے چھوٹے بیٹے کو ولی عہد بنانے کے فیصلے پر حقیقی جانشیں بھیرمل نے اکبر کی مدد سے اپنا حق حاصل کیا اور پھر اپنی بیٹی مغل بادشاہ سے بیاہ دی۔ آپ اکبر کی تیسری اہلیہ تھیں۔ اس سے قبل اکبر بے اولاد رقیہ بیگم سے پہلی اور اپنے جرنیل بیرم خان کی بیوہ سلیمہ سلطان سے عقد کر چکے تھے۔ شادی کے بعد ہیرا کنواری کو مریم الزمانی کا خطاب دیا گیا۔
مریم زمانی مسجد
[ترمیم]آپ کے اعزاز میں آپ کے بیٹے نور الدین جہانگیر نے شہر لاہور میں ایک مسجد بھی تعمیر کی جو مریم الزمانی بیگم شاہی مسجد کہلاتی ہے اور آج بھی موجود ہے۔
جودھا بائی نام
[ترمیم]
یہ بات غلط طور پر پھیلی ہوئی ہے کہ اکبر کی راجپوت بیوی اور جہانگیر کی ماں "جودھا بائی" کے طور پر مشہور تھی۔[2] جودھا بائی کے ذکر سے جہانگیر کی آپ بیتی "تزک جہانگیری " اور اکبر کی لکھوائی گئی خود نوشت "اکبرنامہ" بھی اس سے خالی ہے۔[3][1]
علی گڑھ مسلم جامعہ کی تاریخ دان پروفیسر شیریں موسوی کہتی ہیں کہ "جودھا بائی" کا نام پہلی بار 18 ویں اور 19 ویں صدی کی تاریخی تصانیف میں ملتا ہے۔ پٹنہ کے خدا بخش کتب خانے کے ڈائریکٹر و مؤرخ امتیاز احمد کے مطابق اکبر کی بیوی کے لیے "جودھا" کا نام پہلی بار لیفٹیننٹ کرنل جیمز ٹوڈ نے اپنی کتاب Annals and Antiquities of Rajasthan میں استعمال کیا۔[4]
الہ آباد وسطی جامعہ کے پروفیسر این آر فاروقی کے مطابق جودھا بائی اکبر کی راجپوت ملکہ کا نام نہیں تھا؛ بلکہ یہ جہانگیر کی راجپوت بیوی مانمتی جودھپوری کو کہا جاتا تھا جس کا اصل نام جگت گوسائیں تھا۔
انتقال
[ترمیم]مریم زمانی کا انتقال 1622ء میں ہوا اور آپ کو آگرہ میں پہلے سے بنائے گئے مزار میں مسلم عقائد کے تحت دفن کیا گیا۔[حوالہ درکار]
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 ریحان فضل (20 اکتوبر 2020)۔ "اکبر بادشاہ کی محبوب بیوی جن کی خاطر انھوں نے گائے کا گوشت کھانا ترک کیا"۔ بی بی سی اردو۔
لگ بھگ ان تمام تاریخ دانوں یک آواز ہو کر کہا کہ 'اکبر کی جودھا بائی نامی کوئی بیوی نہیں تھی۔'
- ↑ اٹل سیٹھی (24 Jun 2007ء). "'Trade, not invasion brought Islam to India'" (بزبان انگریزی). ٹائمز آف انڈیا.
- ↑ ایشلے ڈی میلو (10 Dec 2005ء). "Fact, myth blend in re-look at Akbar-Jodha Bai" (بزبان انگریزی). ٹائمز آف انڈیا.
- ↑ سید فردوس اشرف (5 Feb 2008ء). "Did Jodhabai really exist?" (بزبان انگریزی). ریڈف ڈاٹ کام.
- مریم الزمانی
- اکبر
- اکبر کی بیویاں
- بھارتی اشرافیہ
- حکمران
- خواتین
- راجپوت
- سترہویں صدی کی خواتین
- سترہویں صدی کی مغلیہ سلطنت کی شخصیات
- سترہویں صدی کی ہندوستانی شخصیات
- سترہویں صدی میں ہندوستانی خواتین
- مغلیہ سلطنت
- سولہویں صدی کی خواتین
- سولہویں صدی کی کاروباری شخصیات
- سولہویں صدی کی ہندوستانی خواتین
- سولہویں صدی کی ہندوستانی شخصیات
- ضلع جے پور کی شخصیات
- مغل اشرافیہ
- مغل ملکائیں
- مغلیہ سلطنت کی خواتین
- ملکہ مائیں
- ہندوستانی بادشاہی
- ہندوستانی خاتون شاہی اقتدار
- ہندوستانی شہزادیاں
- ہندوستانی ملکائیں
- ہندوستانی ہمسر ملکائیں
- 1542ء کی پیدائشیں
- 1622ء کی وفیات
- 1623ء کی وفیات
- 1540ء کی دہائی کی پیدائشیں


