اختر حسین رائے پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری
پیدائش سیّد اختر حسین
12 جون 1912(1912-06-12)
رائے پور، برطانوی ہندوستان
وفات جون 2، 1992(1992-06-02)
کراچی، پاکستان
قلمی نام اختر حسین رائے پوری
پیشہ افسانہ نگار، ماہرِ لسانیات، مترجم، نقاد
زبان اردو، انگریزی، سنسکرت، بنگالی، فرانسیسی
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
نسل مہاجر قوم
تعلیم پی ایچ ڈی (مقالہ: ہند قدیم کی زندگی۔ سنسکرت ادب کے آئینے میں )
مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، پیرس یونیورسٹی
اصناف افسانہ، تنقید، ترجمہ
ادبی تحریک ترقی پسند تحریک
نمایاں کام

گردِ راہ
محبت اور نفرت
مقالات گارساں دتاسی
پیاری زمین

ادب اور زندگی
شریک حیات حمیدہ اختر حسین رائے پوری

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری (پیدائش: 12 جون 1912ء- وفات: 2 جون 1992ء) پاکستان کے نامور ترقی پسند نقاد، ماہرِ لسانیات، افسانہ نگار اور مترجم تھے جو اپنی خود نوشت سوانح حیات گردِ راہ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری 12 جون 1912ء کو رائے پور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری اور سنسکرت زبان میں ایم اے کی سطح کا ایک ساہتیہ النکار کا امتحان بنارس یونیورسٹی سے پاس کیا۔ سوربون یونیورسٹی پیرس سے ہند قدیم کی زندگی۔ سنسکرت ادب کے آئینے میں کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ایم اے او کالج امرتسر میں پروفیسر اور وائس پرنسپل رہے۔ آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستگی رہی۔ قیام پاکستان کے بعد محکمۂ تعلیم میں ڈپٹی سیکرٹری اور مرکزی وزارتِ تعلیم میں مشیر رہے۔ کراچی ثانوی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور یونیسکو کراچی شاخ کے اولین ڈائریکٹر رہ کر آخرِ عمر تک وزیٹنگ پروفیسر کراچی یونیورسٹی کے طور پر علم و ادب اور فنِ و آگہی کے چراغ روشن کرتے رہے۔[3]

ادبی خدمات[ترمیم]

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی پہلی اور اہم شناخت بطور افسانہ نویس ہے کہ اُن کا پہلا اُردو افسانہ زبان بے زبانی کے عنوان سے نیاز فتح پوری کے مجلہ نگار میں چھپا۔ اُن کے مطبوعہ افسانوی مجموعوں میں محبت اور نفرت، زندگی کا میلہ اور ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے افسانے نامی تین کتب قابلِ قدر اہمیت کی حامل ہیں۔ تاریخی و تنقیدی کتب میں حَبش اور اطالیہ، ادب او ر انقلاب، سنگِ میل اور روشن مینار یاد گار مطبوعہ کتب ہیں۔ تراجم میں گورکی کی آپ بیتی (تین جلدیں)، مقالاتِ گارساں دتاسی (دو جلدیں) کے علاوہ سوانح نگاری کے ذیل میں ہی معرکہ آرا خود نوشت گردِ راہ شامل ہے۔ دیگر اُردو تراجم میں کالی داس کی مشہورِ زمانہ تصنیف شکنتلا کا سنسکرت سے اُردو میں خوبصورت ترجمہ، پرل ایس بُک کے ناول گڈارتھ کا اردو ترجمہ پیاری زمین اور قاضی نذر الاسلام کی بنگالی نظموں کا اُردو ترجمہ پیامِ شباب اُن کے سرمایۂ ادب کا قیمتی اثاثہ ہے۔[3]

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری اُردو، انگریزی، ہندی، سنسکرت، گجراتی، بنگالی اور فرانسیسی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ سنسکرت، بنگالی اور فرانسیسی سے اُنہوں نے براہِ راست بعض معروف تراجم کیے۔[3]

''ڈاکٹر اختر حسین راے پوری، حیات و خدمات'' کے عنوان سے ،خالد ندیم کی تحیقیق مجلس ترقی ادب لاہور نے 2009 میں شائع کی


تصانیف و تالیفات[ترمیم]

  • حبش اور اطالیہ
  • پیامِ شباب
  • مقالات گارساں دتاسی
  • پیاری زمین
  • شکنتلا
  • گورکی کی آپ بیتی حصہ اول
  • روشن مینار
  • گرد راہ
  • ادب اور انقلاب
  • زندگی کا میلہ
  • محبت اور نفرت
  • آگ اور آنسو
  • ادب اور زندگی

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری 6 جون، 1992ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]