حسام الدین راشدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسام الدین راشدی
معلومات شخصیت
پیدائش 20 ستمبر 1911  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ضلع لاڑکانہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 اپریل 1982 (71 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکلی قبرستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مؤرخ،  محقق،  سوانح نگار،  ادبی تنقید نگار،  ماہرِ لسانیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان سندھی،  فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل سندھ کی تاریخ،  فارسی ادب،  سوانح،  تحقیق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
P literature.svg باب ادب

پیرحسام الدین شاہ راشدی (پیدائش: 20 ستمبر 1911ء - وفات: یکم اپریل 1982ء) پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ محقق، تاریخ دان، ماہر لسانیات اور فارسی ادبیات کے عالم اور سندھ کے نامور سیاستدان، صحافی اور ادیب پیر علی محمد راشدی کے چھوٹے بھائی ہیں۔

حالات زندگی و تعلیم[ترمیم]

پیر حسام الدین راشدی کی پیدائش رتو ڈیرو، لاڑکانہ، موجودہ پاکستان میں 20 ستمبر 1911ء کو سندھ کے مشہور روحانی گھرانے راشدی خاندان میں پیر سید حامد شاہ راشدی کے گھر ہوئی۔[1]

پیر حسام الدین راشدی نے ابتدائی تعلیم مولوی سید علی شاہ لکیاری اور مولوی محمد الیاس پنہور سے حاصل کی۔ چوتھے درجے تک پڑھنے کے بعد ذوق مطالعہ کو اپنا رہبر بنایا اور ذوق کتب خوانی اور اخبارات نے ان پر علم کے دروازے کھول دیے[2]۔

ادبی خدمات[ترمیم]

شروع میں پیر حسام الدین راشدی نے صحافت کو ذریعہ معاش بنایا۔ وہ کئی اخبارات سے منسلک رہے مگروہ جلد ہی صحافت سے منہ موڑ کر ذوق مطالعہ کی تسکین میں محو ہو گئے اور نادر و نایاب مخطوطات اور مطبوعہ نسخوں کو جمع کرکے ان کا مطالعہ کرنے کا مشغلہ اختیار کیا۔

سندھ پر ان کا احسان عظیم یہ ہے کہ انہوں نے سندھ کے اکثر فارسی مخطوطوں اورسندھ کی تاریخ کو مدون کیا اور اس طرح انہیں محفوظ کر دیا۔ ان کے حواشی کو معلومات اور تحقیق کی انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے۔ مقالات الشعرا، تکملہ مقالات الشعرا، مکلی نامہ اور تاریخ مظہر شاہجہانی ان کی مدون کی گئیں وہ کتابیں ہیں جن پر مفید حواشی لکھ کر انہوں نے تاریخ سندھ کی بہت سی گتھیوں کو سلجھایا ہے۔ ان کی علمی اور تاریخی خدمات کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اتنا کام کیا ہے جو ایک ادارے کے انجام دینے کا تھا۔[3] آپ کی اردو، سندھی اور فارسی زبان کی مدون، تصانیف اور تالیفات کی تعداد 43 ہے[4]۔

تدوین، تصنیف و تالیف[ترمیم]

  • ہفت مقالہ (فارسی زبان و ادب)، انجمن ترقی اردو کراچی، 1967ء
  • میرزاغازی بیگ ترخان اور اُس کی بزمِ ادب، انجمن ترقی اردو کراچی، 1970ء
  • تذکرہ شعرائے کشمیر، اقبال اکادمی لاہور، 1967ء
  • مکلی نامہ، سندھی ادبی بورڈ جامشورو
  • میر محمد معصوم بکھری، سندھی ادبی بورڈ جامشورو
  • مقالات الشعرا سندھی، ادبی بورڈ جامشورو
  • تذکرہ امیر خانی، سندھی ادبی بورڈ جامشورو
  • تاریخ مظہر شاہجہانی
  • دُودِ چراغِ محفل، ادارۂ یادگار غالب کراچی، مارچ 1969ء
  • مجموعه مقالات پیر حسام الدین راشدی (فارسی)
  • حدیقۃ الاولیاء (تصحیح و حواشی)
  • تذکره مشاہیرِ سندھ ( مقدمه و حواشی)

مقالات[ترمیم]

  • فردوسی و شاہنامه در سند (فارسی)، ماہنامه ارتباطات فرهنگي
  • روابط فرہنگی و سیاسی ایران و سند (فارسی)، ماہنامہ وحید، فروردین 1346ھ - شماره 40
  • فخری ہروی و سه اثر از او (فارسی)، جستا رہائے ادبی، تابستان 1350ھ - شماره 26
  • غیرت خان "ماثر جہانگیری" کے مؤلف کا مدفن اور کتبہ، اخبار اردو (جریدہ) -ستمبر 2013ء ادارہ فروغ قومی زبان، اسلام آباد
  • میر علی شہر قانع ٹھٹوی کی سوانح حیات، سہ ماہی "مہران"، شمارہ 2، 1956ء، سندھی ادبی بورڈ حیدرآباد

اعزازات[ترمیم]

آپ کی ادبی و تعلیمی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز سے نوازا اور سندھ یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری عطا کی[4]۔ 1974ء میں تہران یونیورسٹی، ایران نے فارسی زبان، ادب اور تاریخ پر آپ کی خدمان کے صلے میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی[2]۔

اقتباس[ترمیم]

پیر حسام الدین راشدی کا ایک اقتباس تاریخ کی اہمیت واضح کرتا ہے اور نوجوانوں کے لیے ایک نصیحت ہے:

اپنے ارد گرد جو دیکھو، محسوس کرو، سنو سب لکھ ڈالو اور بہتر ہے کہ چھپوا ڈالو۔ تمہاری تحریریں ملک کی زبان، ادب، ثقافت، تہذیب اور تاریخ کا اہم جز ہیں، انہیں لکھتے رہنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو تمہاری تاریخ گم ہو جائے گی[5]۔

وفات[ترمیم]

سندھ کے مایہ ناز محقق، تاریخ دان اور فارسی کے عالم پیر حسام الدین راشدی کراچی، پاکستان میں یکم اپریل 1982ء کو کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کراپنے خالق حقیقی جاملے۔ وصیت کے مطابق آپ کو مکلی کے تاریخی قبرستان میں مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کے مزار کے احاطے میں مدفون کیا گیا۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]