حنیف فوق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر محمد حنیف فوق
پیدائش محمد حنیف
26 دسمبر 1926(1926-12-26)ء
بھوپال، برطانوی ہندوستان
وفات 1 مئی 2009(2009-05-01)ء
بھوپال، بھارت
قلمی نام حنیف فوق
پیشہ شاعر، محقق، نقاد، معلم، ماہرِ لسانیات
زبان اردو
نسل مہاجر قوم
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم پی ایچ ڈی
مادر علمی ڈھاکہ یونیورسٹی
اصناف تنقید، تحقیق، شاعری، لسانیات
نمایاں کام متوازی نقوش
چراغِ شناسائی
غالب - نظر اور نظارہ

ڈاکٹر محمد حنیف فوق (پیدائش: 26 دسمبر، 1926ء - وفات: یکم مئی، 2009ء) اردو کے ممتاز ماہرِ لسانیات، نقاد، محقق، شاعر، سابق مدیر اعلیٰ اردو لغت بورڈ اور سابق پروفیسر و چیئرمین شعبۂ اردو کراچی یونیورسٹی تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر حنیف فوق [26 دسمبر، 1926ء کو بھوپال، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ ان کا اصل نام محمد حنیف تھا۔ انہوں نے بھوپال، کانپور اور لکھنؤ سے تعلیمی مراحل طے کیے۔ 1950ء میں وہ ڈھاکہ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے وابستگی اختیار کرلی اور اس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند کا بھی حاصل کی۔ بعد ازاں وہ کراچی آ گئے اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پروفیسر اور بعد ازاں چیئرمین مقرر ہوئے۔ 1981ء میں وہ انقرہ یونیورسٹی ترکی سے بطور وزیٹنگ پروفیسر وابستہ ہوئے جہاں انہوں نے ترکی زبان پر عبور حاصل کیا[2]۔ 1995ء سے 1998ء تک وہ اردو لغت بورڈ کے مدیر اعلیٰ رہے۔[4] وہ کچھ عرصے سر سید یونیورسٹی آف انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی سے بھی وابستہ رہے۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  1. مثبت قدریں
  2. چراغِ شناسائی
  3. متوازی نقوش
  4. ترکی زبان اور اتا ترک (اردو تحریروں میں)
  5. غالب(نظر اور نظارہ)
  6. ترقی پسند افسانے

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

جسم و جاں کس غم کا گہوارہ بنےآگ سے نکلے تو انگارہ بنے
شام کی بھیگی ہوئی پلکوں میں پھرکوئی آنسو آئے اور تارا بنے
لوحِ دل پہ نقش اب کوئی نہیںوقت ہے آ جاؤ شہ پارا بنے
اب کسی لمحہ کو منزل مان لیںدر بدر پھرتے ہیں بنجارا بنے
کم ہو گر جھوٹے ستاروں کی نمودیہ زمین بھی انجمن آرا بنے
جرم نا کردہ گناہی ہے بہتزندگی ہی کیوں نہ کفارہ بنے
توڑ ڈالیں ہم نظام خستگییہ جہاں کہنہ دوبارا بنے

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر حنیف فوق یکم مئی، 2009ء کو بھوپال، بھارت میں وفات پاگئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]