لغت نگاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لغت نگاری (انگریزی: Lexicography) مختلف لغتوں کی تیاری اور ان کی پیش کش کے فن کا نام ہے۔ یہ لغتوں کی تیاری میں کئی امور کا خیال در کار ہے۔ ان میں لفظوں کا حرف وار درجہ بند ہونا، جیسے کہ آم کے بعد ہی اردو زبان میں لفظ آن کا درج ہونا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ لفظوں کے لاحقوں اور سابقوں کا درج کیا جانا بھی ضروری ہوتا ہے، جیسے کہ ضرورت لفظ کے ساتھ ساتھ ضرورت مند لفظ کا ہونا ہے۔ ایک ہی لفظ ہی شکل کئی بار مختلف ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ خاندان لفظ سے خاندانی لفظ نکلتا ہے۔ بچہ سے بچپن بنتا ہے، جو عمر کا ایک دور ہوتا ہے۔ لفظوں کے اندراج میں ترتیبات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ آن لفظ آن واحد میں کے محاورے کو جگہ ملتی ہے جس سے فوری یا ایک ہی وقت میں کا صیغہ مراد ہو سکتا ہے۔ لفظوں کے ساتھ ان سے نکلنے والی کہاوتیں بھی درج ہوتی ہیں، جیسے کہ ناچنے یا ناچ لفظ سے ناچ نہ آئے آنگن ٹیڑھا کہاوت بنتی ہے۔ اس کہاوت کا عام طور سے اطلاق نہ تو ناچنے پر ہوتا ہے اور نہ آنگن پر ہوتا ہے بلکہ کسی کام پر عبور نہ ہونے یا نہ کر سکنے پر دوسروں کو مورد الزام ٹہرانے کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لغتوں میں لفظوں کے مختلف معانی بھی درج ہوتے ہیں۔ جیسے کہ اردو کا لفظ چشمہ سے مرد کوئی چشمۂ آب بھی ممکن ہے اور اس سے عینک بھی مراد ہو سکتی ہے۔ الفاظ کے معانی وقت اور حالات اور مختلف ادوار میں مختلف بھی ہو سکتی ہیں۔ لغت نگاری میں اس کا بھی اندراج ہوتا ہے۔ لفظوں کے تلفظ کی بھی رہنمائی کی جاتی ہے۔ کئی معیاری لغتوں میں الفاظ کے مآخذ پر بھی سیر حاصل بحثیں کی جاتی ہیں۔ اور کئی دلچسپ تفصیلات بھی درج ہوتے ہیں، جیسے کہ رہنا لفظ کی تفریس کر کے اردو میں لفظ رہائش بنایا گیا ہے، چرپی کی تعریب سے لفظ مچرب ایجاد کیا گیا ہے اور لب کی تعریب سے لفظ مللب بنا ہے۔ اس طرح کی کئی باریک بینیوں سے دنیا کی معیاری لغتوں کو تیار کیا جاتا ہے۔

لغت نگاری میں احتیاط اور اہل زبان کے لب و لہجے پر توجہ[ترمیم]

کسی زبان کے صحیح استعمال اور اس کے معیاری سمجھے جانے جانے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ در حقیقت اہل زبان کس طرح سے لفظوں اور جملوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مثلًا عربی زبان کی خدمت کرنےوالے نامور علما اس زبان کی حفاظت میں اس قدر حساس تھے کہ کسی کلمہ کو وہ محض اس لیے غلط تصو ر کرتے تھے کہ عربوں نےاسے طرح استعمال نہیں کیا تھا، خواہ وہ کلمہ بذات خود کتنا فصیح کیوں نہ ہو، وہ کلمات غیر فصیحہ پر باقاعدہ نقد وجرح کرتے اور لوگوں کو اس کےاستعمال سے باز رکھتے، بلکہ بعض نے تواس ضمن میں کتب اور رسائل بھی لکھے۔ مثلًا کسائی (المتوفی 192ھ) نےایک رسالہ ماتحلن فیہ العامۃ تحریر گیا ، اسی طرح ابو عثمان بکر بن محمد المازنی (المتوفی 248ھابو حنیفہ الدنیوی (المتوفی 290ھابو ہلال العسکری (المتوفی 295ھ) کی کتب کا موضوع لحن العامة اور لحن الخاصة ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]