تاریخی لسانیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تاریخی لسانیات (انگریزی: historical linguistics) وہ علم جس میں زبانوں کی تبدیلی زیر بحث آتی ہے۔

مثالیں[ترمیم]

اردو[ترمیم]

اردو زبان کے تحریری اور تقریری نوعیتوں میں ہر زمانے میں نئی شکل بندیاں دیکھی گئی ہے۔ کسی کے کوئی فعل کرنے کے معاملے کو کبھی عام طور سے دیویں گے، لاویں گے کہے جاتے تھے، جب کہ آج کے دور میں دیں گے اور لائیں گے کہے جاتے ہیں۔ کبھی پہونچ لکھنا املا کے حساب سے ٹھیک تھا، اب اسی لفظ کو عرف عام کے تسلیم شدہ اصول کے حساب پہنچ لکھا جاتا ہے۔ جب حیدرآباد، دکن میں نظام حکومت کا دور تھا، تب اردو میں کئی الفاظ مستعمل تھے جیسے کہ تپش پیما یا آلۂ مقیاس الحرارت تھرمامیٹر کو کہتے تھے۔ یہ اصطلاحات جدید طور پر متروک ہو چکے ہیں۔ گری بولی کے طرز پر الفاظ کو کبھی کیجیو اور رکھیو کہ دینا درست تھا۔ اب کیجیے، رکھیے اور لکھیے ہی درست اور عام طور سے تسلیم کیے گئے ہیں۔ الفاظ ایک زبان سے دوسری زبان منتقل ہوتے ہیں، تو رفتہ رفتہ معانی اور مطالب میں بھی فرق آ جاتے ہیں۔

لفظوں کا سفر اور معنوں کی تبدیلی[ترمیم]

فارسی زبان کے الفاظ پیری اور میری بھارتی پنجاب میں بولی جانے والی پنجابی زبان علی الترتیب مذہب اور سیاست کے معنے رکھتے ہیں جو یقینًا اصل زبان سے مختلف ہیں۔ کئی اردو داں لوگ جب فارسی زبان دیکھتے ہیں تو الفاظ کے مرکبات اور معانی سے چونک جاتے ہیں۔ مثلًا فارسی میں ہوا پیمائی ایئرلائنز کے معنے میں مستعمل ہے۔ جب کہ پیمائش یا لاحقہ پیمائی اردو میں ناپنے کے معنے میں مستعمل ہے۔

رسم الخط کی تبدیلی[ترمیم]

بدلتے زمانے کے ساتھ زبانوں میں کئی اور تبدیلیاں رو نما ہو سکتی ہیں۔ ترکی زبان کبھی عربی زبان کے رسم الخط میں لکھی جاتی تھی، اب یہ لاطینی زبان کے رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔[1]

بھارت میں سندھی رسم الخط کی تبدیلی[ترمیم]

سندھی زبان عربی سے متاثرہ رسم الخط ہی میں لکھی جاتی۔ مگر جدید دور میں بھارت میں مقیم سندھی لوگ دیو ناگری رسم الخط میں ہی لکھنے لگے ہیں۔[2] یہ کیفیت جوان نسل میں عام ہیں۔

انگریزی کا دیگر زبانوں پر بڑھتا اثر[ترمیم]

عالمی سطح پر انگریزی زبان زیادہ پروان چڑھ رہی ہے۔ کئی زبانوں کے اپنے الفاظ کا استعمال کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے بر عکس انگریزی الفاظ یا تو من و عن قبول کیے جا رہے ہیں یا پھر معمولی املا کی تبدیلیوں کے ساتھ تسلیم کیے جا رہے ہیں۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]